آج کا دن
اسپیشل فیچر
میکڈونلڈز کی پہلی فرنچائز
15 اپریل 1955ء کو رے کراک نے میکڈونڈلڈز کی پہلی فرنچائز امریکی ریاست الینوائے میں ڈیس پلینزمیں قائم کی۔ اگرچہ میکڈونلڈز کی بنیاد 1940ء میں رچرڈ اور مورس میکڈونلڈ نے رکھی تھی لیکن اس کی عالمی کامیابی کا سہرا رے کراک کے سر جاتا ہے۔رے کراک نے اس کاروباری ماڈل کو ایک منظم فرنچائز سسٹم میں تبدیل کیا۔ ان کی حکمت عملی میں تیز سروس، محدود مینو اور کم قیمتیں شامل تھیں۔ اس نے فاسٹ فوڈ انڈسٹری کی شکل بدل دی اور جدید کاروباری فرنچائزنگ ماڈل کو فروغ دیا۔
اپالو 13 مشن کی واپسی
15 اپریل 1970ء کو ناسا کا خلائی مشن اپالو 13 ایک بڑے حادثے سے بچتے ہوئے زمین کی طرف واپسی کے لیے اہم مرحلے میں داخل ہوا۔ یہ مشن 11 اپریل کو چاند کی طرف روانہ ہوا تھا مگر 13 اپریل کو ایک آکسیجن ٹینک میں دھماکے کے باعث شدید مسائل کا شکار ہو گیا۔خلاباز جم لوول، جیک سویگرٹ اور فریڈ ہائز نے انتہائی محدود وسائل میں اپنی جان بچانے کے لیے غیر معمولی ہمت اور ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ اس واقعے کو خلائی تاریخ میں ناکامی میں کامیابی کی ایک بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔
ہلزبرو سٹیڈیم حادثہ
15 اپریل 1989ء کو انگلینڈ کے شہر شیفلڈ میں واقع ہلز برو سٹیڈ یم میں ایک ہولناک حادثہ پیش آیا جس میں 96 فٹبال شائقین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ سٹیڈیم میں زیادہ ہجوم اور ناقص انتظامات تھے۔ پولیس نے شائقین کو ایک محدود حصے میں داخل ہونے کی اجازت دی جس سے شدید دباؤ پیدا ہوا اور لوگ ایک دوسرے کے نیچے دب گئے۔ اس سانحے نے برطانیہ میں کھیلوں کے میدانوں کی سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔بعد ازاں یہ ثابت ہوا کہ حادثے کی ذمہ داری انتظامیہ اور پولیس کی غفلت تھی۔
بوسٹن میراتھن دھماکے
15 اپریل 2013 ء کو امریکہ کے شہر بوسٹن میں ہونے والی مشہوربوسٹن میراتھن کے اختتامی لمحات میں دو زور دار دھماکے ہوئے جنہوں نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ دھماکے فِنش لائن کے قریب ہوئے جہاں سینکڑوں افراد موجود تھے، جن میں کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ، شائقین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے۔ان حملوں میں تین افراد ہلاک جبکہ 260 سے زائد زخمی ہوئے جن میں کئی افراد کے اعضا متاثر ہوئے۔
نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں آگ
15 اپریل 2019ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع تاریخی گرجا گھر نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس نے اس عظیم الشان عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ کیتھیڈرل 12ویں صدی میں تعمیر ہوا تھا اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل تھا۔آگ کے باعث عمارت کی چھت اور مینار گر کر تباہ ہو گئے تاہم فائر فائٹرز کی بروقت کارروائی سے مرکزی ڈھانچہ اور کئی قیمتی نوادرات محفوظ رہے۔ فرانسیسی حکومت نے فوری طور پر اس کی بحالی کا اعلان کیا اور دنیا بھر سے اس کے لیے اربوں یورو کے عطیات موصول ہوئے۔