4مارچ:بیٹوں کا عالمی دن
اسپیشل فیچر
تعلیم،تربیت اور ہماری ذمہ داریاں
ہر سال 4 مارچ کو دنیا کے مختلف حصوں میں ''بیٹوں کا دن‘‘منایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ دن کسی سرکاری عالمی ادارے کے تحت منایا جانے والا باقاعدہ دن نہیں لیکن سماجی سطح پر اس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خاندانی نظام مضبوط بنیادوں پر قائم ہے بیٹوں کا کردار محض گھر کے فرد تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کے معمار، کفیل اور سماجی ذمہ داریوں کے حامل شہری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 4 مارچ کا دن ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی کس انداز میں تربیت کر رہے ہیں۔
روایتی طور پر برصغیر کے معاشرے میں بیٹے کو خاندان کا سہارا اور نام کا وارث سمجھا جاتا رہا ہے۔ بعض اوقات اس سوچ نے بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی کو بھی جنم دیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شعور پروان چڑھ رہا ہے کہ اولاد خواہ بیٹا ہو یا بیٹی دونوں ہی برابر اہمیت رکھتے ہیں۔ بیٹوں کے دن کا اصل پیغام بھی یہی ہونا چاہیے کہ ہم اپنے بیٹوں کو ایسی تربیت دیں جو انہیں صرف معاشی طور پر کامیاب نہ بنائے بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط کرے۔
آج پاکستان کو جن سماجی چیلنجز کا سامنا ہے ان میں بے روزگاری، منشیات کا رجحان، عدم برداشت اور آن لائن دنیا کے منفی اثرات شامل ہیں۔ ان حالات میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ بیٹوں کو محض کامیابی کی دوڑ میں دھکیلنے کے بجائے ان کے اندر برداشت، احترام، دیانت داری اور دوسروں کے حوالے سے مثبت سوچ پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ محفوظ اور مہذب ہو تو ہمیں اپنے گھروں سے تربیت کا آغاز کرنا ہوگا۔اسلامی تعلیمات میں بھی اولاد کی اچھی تربیت کو والدین کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ بیٹے کو یہ سکھانا کہ وہ اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ کرے، دراصل ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اسی طرح قانون کی پاسداری، محنت کی عظمت اور سچائی کی اہمیت کو عملی مثالوں کے ذریعے سکھانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے بنسبت محض نصیحتوں کے۔
ڈیجیٹل دور میں ایک اور اہم پہلو بیٹوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی ہے۔ سوشل میڈیا، گیمنگ اور انٹرنیٹ کے بے تحاشا استعمال نے نوجوانوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ اپنے مسائل اور الجھنیں کھل کر بیان کر سکیں۔ سختی اور خوف کے بجائے مکالمہ اور اعتماد بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیٹوں پر ''کامیاب ہونے‘‘ کا دباؤ بیٹیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ کم عمری سے ہی ان پر یہ ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے کہ انہیں گھر کا سہارا بننا ہے۔ اس دباؤ کے باعث بعض نوجوان ذہنی تناؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بیٹوں کے دن کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم انہیں انسان سمجھیں، مشین نہیں۔ انہیں اپنی دلچسپی کے مطابق تعلیم اور پیشہ اختیار کرنے کی آزادی دی جائے۔
پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں تربیت کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں لیکن بنیادی اقدار یکساں رہتی ہیں۔ والدین، اساتذہ، علما اور میڈیا سب کو مل کر مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں کردار سازی کے پروگرام، کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں کا فروغ، اور سماجی خدمت کے مواقع نوجوانوں کو متوازن شخصیت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔4 مارچ کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیٹے صرف خاندان کا نام آگے بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والا پاکستان ترقی یافتہ، پرُامن اور باوقار ہو تو ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت میں محبت، انصاف اور برابری کے اصولوں کو شامل کرنا ہوگا۔ یہی اس دن کا اصل مقصد اور حقیقی پیغام ہے۔