سرن میں نئی دریافت
اسپیشل فیچر
تجرباتی اور نظریاتی طبیعیات کیلئے اہم پیش رفت
حالیہ دنوںسائنسی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب یورپ میں قائم دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکل فزکس لیبارٹری سرن (CERN) کے سائنسدانوں نے کائنات کے بنیادی ذرات کی دنیا میں ایک بالکل نیا ذرہ دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت اُس وقت سامنے آئی جب لارج ہیڈرون کولائیڈر کے ایک جدید اور حساس ترین ڈیٹیکٹر کو اَپ گریڈ کرنے کے بعد نئے تجربات کیے گئے۔یہ نیا ذرہ ایک خاص قسم کا baryons ہے جسے زی سی سی پلس (ZCC ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دو بھاری چارم کوارکس اور ایک ڈاؤن کوارک پر مشتمل ہے۔ عام پروٹون دو اَپ اور ایک ڈاؤن کوارک سے بنتا ہے مگر اس نئے ذرے کی ساخت میں دو بھاری کوارکس ہونے کے باعث اس کا وزن عام پروٹون سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت لارج ہیڈرون کولائیڈر کے اپ گریڈ کے بعد کی جانے والی پہلی بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ ایل ایچ سی بی (LHCb) ڈیٹیکٹر کو 2023ء میں اَپ گریڈ کیا گیا تھا تاکہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری اور درستگی کے ساتھ ذرات کے تصادم سے پیدا ہونے والے نایاب ذرات کو شناخت کر سکے۔ اسی جدیدیت نے سائنسدانوں کو یہ نیا ذرہ تلاش کرنے کے قابل بنایا۔
ایل ایچ سی میں پروٹونز کو روشنی کی رفتار کے قریب رفتار سے آپس میں ٹکرایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انتہائی کم وقت کے لیے نئے ذرات بنتے ہیں۔ یہ ذرات عموماً لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں مگر ان کے بکھرنے سے پیدا ہونے والے دیگر ذرات کے آثار کا تجزیہ کر کے سائنسدان ان کی موجودگی کا پتہ لگاتے ہیں۔ زی سی سی پلس بھی اسی طرح کے عمل سے سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ذرہ محض چند فیمٹو سیکنڈز تک زندہ رہتا ہے۔ ایک فیمٹو سیکنڈ ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ اتنی قلیل زندگی کے باوجود سائنسدان اس کے بکھرنے کے انداز سے اس کی خصوصیات کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔
اس دریافت کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ ایک نیا ذرہ ملا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ کوانٹم کرومو ڈائنامکس (QCD) جیسے نظریات کی جانچ میں مدد دے گا۔ QCDوہ بنیادی نظریہ ہے جو بتاتا ہے کہ کوارکس کس طرح ایک دوسرے سے جڑ کر بیریونز اور میسونز جیسے ذرات بناتے ہیں۔ چونکہ زی سی سی پلس میں دو بھاری کوارکس موجود ہیں اس لیے یہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بھاری کوارکس ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں اور مادے کی ساخت میں ان کا کردار کیا ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس فیملی کا کوئی ذرہ دریافت ہوا ہو۔ 2017ء میں سائنسدانوں نے ایک اور مشابہ ذرہ زی سی سی پلس پلس دریافت کیا تھا جس میں دو چارم کوارکس کے ساتھ ایک اپ کوارک شامل تھا۔ تاہم زی سی سی پلس پلس کے مقابلے میں نیا دریافت ہونے والا ذرہ زیادہ غیر مستحکم ہے اور بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ فرق بھی سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا ایک نیا میدان کھولتا ہے۔LHCB تجربے کے ترجمان کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ اپ گریڈ کے بعد تجرباتی آلات کی حساسیت اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈیٹیکٹرز اب ایک سیکنڈ میں کروڑوں تصاویر لینے کے قابل ہیں جس سے نایاب ترین ذرات کی تلاش بھی ممکن ہو گئی ہے۔اگرچہ یہ دریافت ہگز بوزون کی دریافت جیسی تاریخی نہیں سمجھی جا رہی تاہم بنیادی فزکس کے ماہرین اسے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس قسم کی دریافتیں مادے کی ساخت کو سمجھنے، بنیادی قوتوں کی نوعیت جاننے اور کائنات کی ابتداکے رازوں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ تحقیق اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ایل ایچ سی اور اس کے جدید ڈیٹیکٹرز مستقبل میں مزید حیران کن انکشافات کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید ایسے نایاب ذرات دریافت ہوں گے جو کائنات کی بنیادی ساخت اور قوتوں کے بارے میں ہمارے علم کو مزید گہرا کریں گے۔یہ نیا ذرہ نہ صرف تجرباتی طبیعیات کے لیے اہم ہے بلکہ نظریاتی طبیعیات کے لیے بھی قیمتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔
ہر نئی دریافت سائنسی نظریات کی جانچ کا موقع دیتی ہے اور یہ دیکھنے میں مدد کرتی ہے کہ موجودہ ماڈلز کہاں تک درست ہیں اور کہاں نئی فزکس کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ زی سی سی پلس کی دریافت ایک اور قدم ہے اس سمت میں جس سے انسان کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سائنسی تحقیق ایک مسلسل عمل ہے، جہاں ہر نیا جواب درجنوں نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔