آج کا دن
اسپیشل فیچر
اسلامی جمہوریہ ایران کا قیام
یکم اپریل 1979ء ایران کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا جب عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں ایران کو باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ یہ ریفرنڈم اس انقلاب کا منطقی نتیجہ تھا جو 1978-79ء میں محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف برپا ہوا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک نے بادشاہت کا خاتمہ کر کے مذہبی بنیادوں پر قائم نظام کی بنیاد رکھی۔ریفرنڈم میں ایرانی عوام سے ایک سادہ سوال پوچھا گیا: کیا آپ اسلامی جمہوریہ چاہتے ہیں؟ سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً 98 فیصد ووٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو بدل دیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یکم اپریل ایران میں یومِ جمہوریہ اسلامی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ہسپانوی خانہ جنگی کا خاتمہ
یکم اپریل 1939ء کو ہسپانوی خانہ جنگی باضابطہ طور پر ختم ہو گئی جب جنرل فرانسسکو فرانکو کی افواج نے فتح کا اعلان کیا۔ یہ جنگ 1936ء میں شروع ہوئی تھی اور اس میں جمہوری حکومت کے حامیوں (ریپبلکنز) اور قوم پرستوں (نیشنلٹس) کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔فرانکو کی قیادت میں قوم پرستوں کو جرمنی اور اٹلی کی فاشسٹ حکومتوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ ریپبلکنز کو سوویت یونین اور بین الاقوامی رضاکاروں کی مدد حاصل تھی۔ یکم اپریل کو فرانکو نے اعلان کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔اس فتح کے بعد سپین میں ایک طویل آمریت کا آغاز ہوا جو 1975ء میں فرانکو کی موت تک جاری رہی۔
بی بی سی کا اپریل فول
یکم اپریل 1957ء کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک مشہور اپریل فول مذاق کیا جسے تاریخ کے کامیاب ترین میڈیا ہوکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں دکھایا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں سپیگٹی کے درخت اُگتے ہیں اور لوگ ان سے سپیگٹی توڑ رہے ہیں۔یہ رپورٹ بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں نشر ہوئی جو عام طور پر سنجیدہ اور تحقیقی پروگرام سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے بہت سے ناظرین نے اس خبر کو سچ مان لیا۔ نشر ہونے کے بعد بی بی سی کو سینکڑوں فون کالز موصول ہوئیں جن میں لوگوں نے پوچھا کہ وہ سپیگٹی کا درخت کیسے اُگا سکتے ہیں۔یہ واقعہ میڈیا کی طاقت اور عوام کے اعتماد کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کس طرح معلومات کی تصدیق کے بغیر لوگ کسی بھی خبر کو سچ مان سکتے ہیں۔
فارو جزائر کی خود مختاری
یکم اپریل 1948ء کو ڈنمارک کے زیر انتظام فارو جزائر کو خود مختار حیثیت دی گئی۔ یہ شمالی بحر اوقیانوس میں واقع ایک جزیرہ نما علاقہ ہے جہاں کے عوام نے طویل عرصے تک خود حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد فارو کے عوام میں قومی شناخت کا شعور مزید مضبوط ہوا۔ 1946ء میں ایک ریفرنڈم بھی ہوا جس میں معمولی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تاہم ڈنمارک نے مکمل آزادی دینے کے بجائے ایک سمجھوتہ کیا۔ اس کے نتیجے میں 1948ء کا ہوم رول ایکٹ نافذ کیا گیا جو یکم اپریل سے مؤثر ہوا۔اس قانون کے تحت فارو جزائر کو داخلی معاملات پر مکمل اختیار دیا گیا جبکہ خارجہ امور اور دفاع ڈنمارک کے پاس رہے۔