خلائی مخلوق کی تلاش!
اسپیشل فیچر
سائنس دانوں نے زمین جیسے 45 سیارے دریافت کر لئے
سائنس کی دنیا میں ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے انسانیت کے تصورِ کائنات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حالیہ تحقیقات میں سائنس دانوں نے زمین جیسے 45 سیارے دریافت کیے ہیں، جن میں زندگی کیلئے موزوں ماحول موجود ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ ان سیاروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو صرف 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں، یعنی انسانی پیمانے پر نسبتاً قریب۔ یہ دریافت نہ صرف خلائی تحقیق کیلئے ایک نیا باب کھولتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کائنات میں زندگی کی موجودگی ممکنہ حد تک وسیع اور متنوع ہو سکتی ہے۔
کیا خلائی مخلوق (ایلینز) موجود ہے، اور اگر ہیں تو وہ کہاں ہیں؟یہ سائنس کے سب سے بڑے اور حل طلب سوالات میں سے ایک ہے۔ اب سائنس دانوں نے ان سوالات کے جواب کی جانب ایک بڑا قدم بڑھا دیا ہے۔ ''کارل ساگن انسٹیٹوٹ‘‘(Carl Sagan Institute)کے ماہرین نے 45 زمین جیسے سیارے دریافت کیے ہیں جہاں ایلینز کیلئے موزوں حالات موجود ہو سکتے ہیں۔یہ تمام سیارے اُس علاقے میں واقع ہیں جسے قابلِ رہائش زون کہا جاتا ہے۔ وہ جگہ جو اپنے ستارے کے اتنے قریب نہیں کہ وہاں زیادہ گرمی ہو اور اتنی دور بھی نہیں کہ وہاں شدید سردی ہو۔ اس زون میں ہونے کا مطلب ہے کہ ان سیاروں کی سطح پر پانی موجود ہونے کا امکان ہو سکتا ہے، جو زندگی کیلئے ایک بنیادی جزو ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ سیارے صرف چند دہائیوں نوری سال کے فاصلے پر ہیں، جس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ مستقبل میں ہم ان تک پہنچ بھی سکتے ہیں۔
اس تحقیق کی مصنفہ پروفیسر لیزا (Professor Lisa Kaltenegger) کے مطابق زندگی ہمارے موجودہ تصورات سے کہیں زیادہ متنوع ہو سکتی ہے، لہٰذا یہ جاننا کہ 6ہزار معروف سیاروں میں سے کون سے سیارے ممکنہ طور پر غیر زمینی زندگی کی میزبانی کر سکتے ہیں، نہایت اہم ہو سکتا ہے۔ہمارا مقالہ یہ بتاتا ہے کہ زندگی تلاش کرنے کیلئے کہاں جانا چاہیے۔
اپنی نئی تحقیق میں ٹیم نے ان سیاروں میں سے 45 ایسے سیارے مخصوص کیے ہیں جو قابلِ رہائش زون میں زندگی کی حمایت کر سکتے ہیں، اور اس کے علاوہ 24 دیگر سیارے ایک تنگ تر 3D قابلِ رہائش زون میں واقع ہیں۔ان میں کچھ ایسے سیارے بھی شامل ہیں جن کے بارے میں آپ نے پہلے سنا ہو گا، جیسے '' Proxima Centauri b‘‘، ''TRAPPIST-1f‘‘ اور ''Kepler 186f‘‘۔
دوسری جانب، کچھ سیارے اتنے معروف نہیں، جیسے ''TOI-715 b‘‘، یہ سیارہ زمین سے 137 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے صرف تین سال قبل TESS سیٹلائٹ نے دریافت کیا تھا۔ تحقیق کاروں کے مطابق سب سے دلچسپ سیارے ''TRAPPIST-1 d,e, f ,g,‘‘ ہیں، جو زمین سے صرف 40 نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔بدقسمتی سے، ناسا کے مطابق فی الحال ''TRAPPIST-1‘‘نظام تک پہنچنے میں کم از کم 8لاکھ سال لگیں گے۔تاہم، جیسے ہی خلائی جہاز جدید ٹیکنالوجیز جیسے نیوکلیئر پلس پروپلشن استعمال کرنا شروع کریں گے، ممکن ہے کہ یہ وقت صرف چند صدیوں تک کم کیا جا سکے۔ اسی دوران، محققین ان سیاروں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں جو اپنے ستاروں سے وہ روشنی حاصل کرتے ہیں جو زمین آج سورج سے حاصل کرتی ہے، کیونکہ یہ زندگی کیلئے موزوں حالات کے امکان کو بڑھاتا ہے۔
اگرچہ قابلِ رہائش ( habitable zones) کے اندر موجود یہ سیارے خلائی مخلوق (ایلینز) کی تلاش کیلئے امید پیدا کرتے ہیں، لیکن محققین کو یہ بھی توقع ہے کہ قابلِ رہائش علاقے کے کنارے پر واقع سیارے اس بات کو سمجھنے میں مدد دیں گے کہ زندگی کیلئے موزونیت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ مطالعے کے مصنف گیلس لوری (Gillis Lowry) کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سی چیز کسی سیارے کو زندگی کیلئے زیادہ موزوں بناتی ہے، لیکن یہ جاننا کہ کہاں تلاش کرنی ہے، پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔ہمارے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ ہم یہ بتا سکیں کہ مشاہدے کیلئے بہترین اہداف کون سے ہیں۔
اس تحقیق کے دوران ٹیم نے ان 45 سیاروں کے مشاہدے کے بہترین طریقے بھی متعین کیے۔ ان میں ''جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ‘‘، نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ ( جسے 2027ء میں لانچ کیا جائے گا) اور ''ایکسٹریم لی لارج ٹیلی اسکوپ ( جس سے 2029ء میں پہلی روشنی حاصل ہونے کی توقع ہے) شامل ہیں۔ اگرچہ اس تحقیق کی توجہ بیرونِ شمسی سیاروں (Exoplanets) پر تھی، لیکن سائنسدان اس سے قبل یہ بھی بتا چکے ہیں کہ ممکن ہے خلائی مخلوق ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں بھی کہیں موجود ہو۔
یونیورسٹی آف واروک سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ آرمسٹرانگ کے مطابق ''زمین پر ہمیں تقریباً ہر اس جگہ زندگی ملتی ہے جہاں پانی ہو، اس لیے خلائی زندگی کی تلاش کیلئے سب سے آسان جگہ بھی وہی ہے جہاں پانی پایا جائے‘‘۔
خلائی مخلوق کی تلاش کیلئے سب سے زیادہ امید افزا جگہ وہ سمجھی جاتی ہے جو زحل اور مشتری کے گرد گردش کرنے والے کچھ چاندوں کے زیر سطح سمندروں میں موجود ہو سکتی ہے۔زحل کا چاند ''اینسیلاڈس‘‘ (Enceladus) اس حوالے سے خاص طور پر ایک مضبوط امیدوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے جنوبی قطب سے مسلسل مائع پانی کے فوارے خارج ہوتے رہتے ہیں، جو زندگی کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔اسی طرح ٹائٹن (Titan)، جو زحل کا ایک اور برفیلا چاند ہے، کو بھی خلائی حیات کی تلاش میں ایک اہم امیدوار قرار دیا گیا ہے۔