سماج
اسپیشل فیچر
بچپن میں بھوتوں پریتوں کی فرضی کہانیاں سننے کے بعد جب سچ مچ کی کہانیاں پڑھیں تو ان میں عموماً ایک مشکل سا لفظ آیا کرتا۔ سب کچھ سمجھ میں آجاتا، لیکن وہ لفظ سمجھ میں نہ آتا۔ وہ دن اور آج کا دن، اس لفظ کا پتہ ہی نہ چل سکا۔ وہ لفظ ہے ''سماج‘‘۔ یوں تو یہ لفظ آسان سا ہے، اس کے معنی برادری یا معاشرہ وغیرہ ہوں گے۔ لیکن پتہ نہیں اس جماعت کے لوگ بستے کہاں ہیں اور کیوں بات بات پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں۔ لوگوں کو کچھ کرنے نہیں دیتے، کسی کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ نہ جانے اس جماعت کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ اور یہ لوگ کیوں سکون کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی یہ سننے میں آیا۔ ظالم سماج، خوفناک سماج، مکروہ سماج، سنگ دل سماج!
کچھ یوں معلوم ہوتا جیسے سماج کوئی بیہودہ سا آوارہ گرد شخص ہے۔ جس کا کام دن بھر ظلم کرنا اور لوگوں کو ڈرانا ہے، چنانچہ بچپن میں جتنا شیطان سے ڈرلگتا اتنا ہی سماج سے ڈرا کرتے۔ اس کے بعد ایک اور دماغی تصویر بن گئی۔ یہ لفظ بڑے بڑے دکھائی دینے لگے۔ سماج کا شکار۔ سماج کے تیز پنجوں میں حقیر سی جان۔ سماج کے بھیانک منہ کا نوالہ۔ کئی سال تک ہمارے لیے سماج ایک ڈراؤنا سا جانور رہا جو اونٹ کی طرح بے تکا، ریچھ کی طرح مکار اور بھدا اور چیتے کی طرح خوفناک تھا۔ کوئی پوچھے کہ یہ اونٹ ریچھ وغیرہ اکٹھے کیسے ہوگئے؟ بس یونہی ہوگئے۔ لڑکپن ہی تو تھا اور پھر سماج کوئی سادہ سی چیز تو نہیں۔ خیر کتنے ہی دنوں ہم سماج کو خوفناک درندوں میں گنتے رہے۔
اس کے بعد ذرا عقل مند ہوئے۔ اب سماج پر ایک نقاد کی طرح غور کیا تو چند اور الفاظ کھٹکنے لگے۔ سماج کے ٹھیکے دار، سماج کے اجارہ دار۔ نتیجہ جو نکلا تو افسوس ہوا کہ اب تک سماج کو بالکل غلط سمجھتے رہے۔ سماج تو ایسی چیز ہے جس کا ٹھیکہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ کوئی تجارتی جنس ہوگی۔ یا شاید کاروباری چیزوں میں سے کچھ ہو۔ بہرحال ہمیں یہ ضرور معلوم ہو گیا کہ سماج کا ٹھیکہ لینا آسان نہیں۔ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ لوہے کے چنے چبانے پڑتے ہیں، کیونکہ بچہ بچہ ان ٹھیکے داروں کے خون کا پیاسا نظر آتا ہے۔ ساری خلقت ان کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑی ہوئی ہے۔
کتنے دنوں ہمیں یہی تلاش رہی کہ کسی سماج کے ٹھیکے دار کا بغور ملاحظہ کریں۔ بازاروں میں تلاش کی، گلی کوچوں میں پھرے، ہر قسم کے ٹھیکے دار دیکھے۔ کوئلے کے، لکڑی کے، عمارتوں کے اور نہ جانے کس کس چیز کے۔ لیکن اس قسم کا ٹھیکے دار کہیں نہ ملا۔ سیانے لوگوں سے کہا کہ آپ ہی یہ مشکل آسان کردیجیے، لیکن کوئی مدد پر آمادہ نہ ہوا۔ پھر ایک خاتون سے جن کے ہر افسانے کے ہر صفحے پر ہر پانچ چھ سطروں کے بعد سماج کا لفظ آتا تھا، ملنے گئے اور بڑی عاجزی سے کہا کہ محترمہ آپ کو تو ان ٹھیکے داروں کا اتہ پتہ معلوم ہوگا۔ اگر آپ ان میں سے کسی ایک کو اس خاکسار سے ملا دیں، تو ایک بوجھ میرے سینے سے اتر جائے۔ لیکن وہ یہی سمجھیں کہ میں مذاق کر رہا ہوں۔
سماج کی کہانیوں میں عموماً ایک مزدور کی محبت کسی امیر لڑکی سے ہوجاتی ہے۔ فریقین مختلف ذات پات کے ہوتے ہیں۔ آنکھ جھپکتے ہی محبت ہوجاتی ہے۔ پریم کی شراب نینوں میں چھلکنے لگتی ہے۔ پریم کے تیر نینوں کو چیر کر دلوں میں کھب جاتے ہیں۔ پھر رسوائی ہوتی ہے اور رسوائی کیا اچھی خاصی پبلسٹی کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں نہ کچھ ہونا تھا نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن سماج نہ جانے کہاں سے بیچ میں آجاتا ہے۔ سماج کے ٹھیکے داروں سے اپیل کی جاتی ہے۔ پھر بغاوت ہوتی ہے اور محض سماج کی ضد میں ہیرو ہیروئن کو لے کر بھاگ نکلتا ہے۔ اگر ہیروئن پوچھے کہ بھلا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تو جواب ملتا ہے کہ دور۔۔۔ دور۔۔۔! اس مکر و فریب کی دنیا سے بہت دور! جہاں آشائیں مچلتی ہیں۔ جہاں امنگیں پنپتی ہیں۔۔۔ جہاں سماج کا خوفناک پنجہ معصوم روحوں کا تعاقب نہیں کرتا۔ وغیرہ۔
اس قسم کی جگہ کی مجھے بڑی تلاش رہی ہے۔ خاص طور پر امتحان کی تیاری کے دنوں میں، تاکہ یکسوئی سے پڑھ سکوں۔ کوہ ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں سے سی پی کے جنگلوں تک اور وہاں سے سندھ کے ریگستانوں تک جاکر دیکھ لیا، لیکن اس قسم کی پرسکون جگہ کہیں نہیں ملی۔ جہاں بھی گیا وہاں وہی مکر و فریب کی قسم کی دنیا ملی۔
فرض کیا وہ دونوں چل پڑے۔ اب کہانی لکھنے والے کی ڈیوٹی ہے کہ وہ یا تو دونوں کی، ورنہ کم از کم ایک کی تو ضرور خودکشی کروا دے۔ ورنہ پھر کہانی ہی کیا رہی۔ اور اگر ایک انتقال کر گیا (یا کر گئی) تو دوسرے کا انجام بھی نزدیک ہی ہے۔ عموماً یہ بھی ہوتا ہے کہ دونوں اکٹھے سماج کے چنگل میں آ جاتے ہیں اور شہیدانِ محبت کی لاشیں کسی دریا میں تیرتی ملتی ہیں۔ یا یوں ہوتا ہے کہ ایک کچھ دیر پہلے مرتا ہے اور دوسرا اس کی لاش پر چیخ مارکر گرتا ہے اور مرجاتا ہے۔ میری حقیر رائے میں اس قسم کی موت بہت مشکل ہے۔ مشکل کیا ایک حدتک ناممکن ہے۔ پھر یہ فقرہ آتا ہے، ''ان معصوم ہستیوں کی یاد میں جو سماج کی بھینٹ چڑھ گئیں‘‘۔ اور آخر میں سماج پر دل کھول کر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ اسے خوب کوسا جاتا ہے۔ گالیاں دی جاتی ہیں۔ یہاں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھلا ایک مزدور سے کس حکیم نے کہا ہے کہ وہ ضرور ایک سیٹھ کی لڑکی سے محبت کرے۔ بالفرض وہ محبت کر بھی لے تو پھر خواہ مخواہ اس سے شادی کرنے پر بھی اتر آئے۔ کم از کم یہی سوچ لے کہ اسے لاکر بٹھائے گا کہاں۔ اس قسم کے لوگ سماج کو کوسنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے عملی باتوں پر غور کرلیا کریں تو یقیناً افاقہ ہوگا۔