حکایت سعدیؒ:بادشاہ کی حماقت

حکایت سعدیؒ:بادشاہ کی حماقت

اسپیشل فیچر

تحریر :


کہتے ہیں، ایک بادشاہ رعیت کی نگہبانی سے بے پروا اور بے انصافی اور ظلم پر دلیر تھا۔ ان دونوں باتوں کا یہ نتیجہ بر آمد ہو رہا تھا کہ اس کے ملک کے لوگ گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔
ایک دن یہ کم فہم اور ظالم بادشاہ اپنے دربار میں عہدے داروں اور ندیموں کے درمیان بیٹھا فردوسی کی مشہور رزمیہ نظم ''شاہنامہ‘‘ سن رہا تھا۔ بادشاہ ضحاک اور فریدوں کا ذکر آیا تو اس نے اپنے وزیر سے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ ضحاک جیسا بڑا بادشاہ اپنی سلطنت گنوا بیٹھا۔ اور فریدوں بڑا بادشاہ بن گیا۔ جب کہ اس کے پاس لاؤ لشکر تھا نہ بڑا خزانہ ؟
اس کا وزیر بہت دانا تھا۔ اس نے ادب سے جواب دیا کہ حضور والا اس کی وجہ یہ تھی کہ فریدوں خلق خدا کا بہی خواہ اور ضحاک لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف سے لا پروا تھا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ضحاک کو چھوڑ کر فریدوں کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور وہ بادشاہ بن گیا۔ بادشاہی لشکر اور عوام کی مدد سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ پھر وزیر نے بادشاہ کو نصیحت کی کہ سلطنت قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حضور اپنا رویہّ بدلیں۔ لوگوں کو پریشان اور ہراساں کرنے کی بجائے اچھا برتاؤ کریں۔ احسان اور انصاف کرنے سے بادشاہ کی محبت دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ فوج کے سپاہی وفادار اور جاں نثار بن جاتے ہیں۔
یہ باتیں خیر خواہی کے جذبے سے کہی گئی تھیں لیکن بادشاہ وزیر سے ناراض ہو گیا اور اسے جیل بھجوا دیا۔ اس نے اپنا رویہّ بدلنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ کچھ ہی دن بعد، کرنا خدا کا کیا ہوا کہ بادشاہ کے بھائی بھتیجوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی اور رعایا ان کی طرف دار ہو گئی۔ کیونکہ ہر شخص بے تدبیر بادشاہ کے ظلم سے پریشان تھا۔
سلطنت اور ظلم یک جاہو نہیں سکتے کبھی
بھیڑیا بھیڑوں کی رکھوالی پہ کب رکھا گیا
ظلم سفاکی پہ جو حاکم بھی ہو جائے دلیر
جان لو قصر حکومت اس نے خود ہی ڈھا دیا
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں جہاندانی کا یہ زرین اصول بیان کیا ہے کہ بادشاہ کی اصل قوت رعایا کی خیر خواہی اور محبت ہے۔ یہ قوت احسان اور انصاف کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر انتہائی قریبی لوگ بھی مخالف بن جاتے ہیں۔ ظالم حاکم تنہا رہ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں دشمن اسے آسانی سے ختم کر دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلائی مخلوق کی تلاش!

خلائی مخلوق کی تلاش!

سائنس دانوں نے زمین جیسے 45 سیارے دریافت کر لئےسائنس کی دنیا میں ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے انسانیت کے تصورِ کائنات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حالیہ تحقیقات میں سائنس دانوں نے زمین جیسے 45 سیارے دریافت کیے ہیں، جن میں زندگی کیلئے موزوں ماحول موجود ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ ان سیاروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو صرف 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں، یعنی انسانی پیمانے پر نسبتاً قریب۔ یہ دریافت نہ صرف خلائی تحقیق کیلئے ایک نیا باب کھولتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کائنات میں زندگی کی موجودگی ممکنہ حد تک وسیع اور متنوع ہو سکتی ہے۔ کیا خلائی مخلوق (ایلینز) موجود ہے، اور اگر ہیں تو وہ کہاں ہیں؟یہ سائنس کے سب سے بڑے اور حل طلب سوالات میں سے ایک ہے۔ اب سائنس دانوں نے ان سوالات کے جواب کی جانب ایک بڑا قدم بڑھا دیا ہے۔ ''کارل ساگن انسٹیٹوٹ‘‘(Carl Sagan Institute)کے ماہرین نے 45 زمین جیسے سیارے دریافت کیے ہیں جہاں ایلینز کیلئے موزوں حالات موجود ہو سکتے ہیں۔یہ تمام سیارے اُس علاقے میں واقع ہیں جسے قابلِ رہائش زون کہا جاتا ہے۔ وہ جگہ جو اپنے ستارے کے اتنے قریب نہیں کہ وہاں زیادہ گرمی ہو اور اتنی دور بھی نہیں کہ وہاں شدید سردی ہو۔ اس زون میں ہونے کا مطلب ہے کہ ان سیاروں کی سطح پر پانی موجود ہونے کا امکان ہو سکتا ہے، جو زندگی کیلئے ایک بنیادی جزو ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ سیارے صرف چند دہائیوں نوری سال کے فاصلے پر ہیں، جس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ مستقبل میں ہم ان تک پہنچ بھی سکتے ہیں۔اس تحقیق کی مصنفہ پروفیسر لیزا (Professor Lisa Kaltenegger) کے مطابق زندگی ہمارے موجودہ تصورات سے کہیں زیادہ متنوع ہو سکتی ہے، لہٰذا یہ جاننا کہ 6ہزار معروف سیاروں میں سے کون سے سیارے ممکنہ طور پر غیر زمینی زندگی کی میزبانی کر سکتے ہیں، نہایت اہم ہو سکتا ہے۔ہمارا مقالہ یہ بتاتا ہے کہ زندگی تلاش کرنے کیلئے کہاں جانا چاہیے۔اپنی نئی تحقیق میں ٹیم نے ان سیاروں میں سے 45 ایسے سیارے مخصوص کیے ہیں جو قابلِ رہائش زون میں زندگی کی حمایت کر سکتے ہیں، اور اس کے علاوہ 24 دیگر سیارے ایک تنگ تر 3D قابلِ رہائش زون میں واقع ہیں۔ان میں کچھ ایسے سیارے بھی شامل ہیں جن کے بارے میں آپ نے پہلے سنا ہو گا، جیسے '' Proxima Centauri b‘‘، ''TRAPPIST-1f‘‘ اور ''Kepler 186f‘‘۔دوسری جانب، کچھ سیارے اتنے معروف نہیں، جیسے ''TOI-715 b‘‘، یہ سیارہ زمین سے 137 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے صرف تین سال قبل TESS سیٹلائٹ نے دریافت کیا تھا۔ تحقیق کاروں کے مطابق سب سے دلچسپ سیارے ''TRAPPIST-1 d,e, f ,g,‘‘ ہیں، جو زمین سے صرف 40 نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔بدقسمتی سے، ناسا کے مطابق فی الحال ''TRAPPIST-1‘‘نظام تک پہنچنے میں کم از کم 8لاکھ سال لگیں گے۔تاہم، جیسے ہی خلائی جہاز جدید ٹیکنالوجیز جیسے نیوکلیئر پلس پروپلشن استعمال کرنا شروع کریں گے، ممکن ہے کہ یہ وقت صرف چند صدیوں تک کم کیا جا سکے۔ اسی دوران، محققین ان سیاروں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں جو اپنے ستاروں سے وہ روشنی حاصل کرتے ہیں جو زمین آج سورج سے حاصل کرتی ہے، کیونکہ یہ زندگی کیلئے موزوں حالات کے امکان کو بڑھاتا ہے۔اگرچہ قابلِ رہائش ( habitable zones) کے اندر موجود یہ سیارے خلائی مخلوق (ایلینز) کی تلاش کیلئے امید پیدا کرتے ہیں، لیکن محققین کو یہ بھی توقع ہے کہ قابلِ رہائش علاقے کے کنارے پر واقع سیارے اس بات کو سمجھنے میں مدد دیں گے کہ زندگی کیلئے موزونیت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ مطالعے کے مصنف گیلس لوری (Gillis Lowry) کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سی چیز کسی سیارے کو زندگی کیلئے زیادہ موزوں بناتی ہے، لیکن یہ جاننا کہ کہاں تلاش کرنی ہے، پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔ہمارے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ ہم یہ بتا سکیں کہ مشاہدے کیلئے بہترین اہداف کون سے ہیں۔اس تحقیق کے دوران ٹیم نے ان 45 سیاروں کے مشاہدے کے بہترین طریقے بھی متعین کیے۔ ان میں ''جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ‘‘، نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ ( جسے 2027ء میں لانچ کیا جائے گا) اور ''ایکسٹریم لی لارج ٹیلی اسکوپ ( جس سے 2029ء میں پہلی روشنی حاصل ہونے کی توقع ہے) شامل ہیں۔ اگرچہ اس تحقیق کی توجہ بیرونِ شمسی سیاروں (Exoplanets) پر تھی، لیکن سائنسدان اس سے قبل یہ بھی بتا چکے ہیں کہ ممکن ہے خلائی مخلوق ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں بھی کہیں موجود ہو۔یونیورسٹی آف واروک سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ آرمسٹرانگ کے مطابق ''زمین پر ہمیں تقریباً ہر اس جگہ زندگی ملتی ہے جہاں پانی ہو، اس لیے خلائی زندگی کی تلاش کیلئے سب سے آسان جگہ بھی وہی ہے جہاں پانی پایا جائے‘‘۔خلائی مخلوق کی تلاش کیلئے سب سے زیادہ امید افزا جگہ وہ سمجھی جاتی ہے جو زحل اور مشتری کے گرد گردش کرنے والے کچھ چاندوں کے زیر سطح سمندروں میں موجود ہو سکتی ہے۔زحل کا چاند ''اینسیلاڈس‘‘ (Enceladus) اس حوالے سے خاص طور پر ایک مضبوط امیدوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے جنوبی قطب سے مسلسل مائع پانی کے فوارے خارج ہوتے رہتے ہیں، جو زندگی کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔اسی طرح ٹائٹن (Titan)، جو زحل کا ایک اور برفیلا چاند ہے، کو بھی خلائی حیات کی تلاش میں ایک اہم امیدوار قرار دیا گیا ہے۔

ٹمبکٹو: صحرا کے سینے میں علم و تہذیب کا عظیم مرکز

ٹمبکٹو: صحرا کے سینے میں علم و تہذیب کا عظیم مرکز

افریقہ کے مغربی حصے میں واقع ملک مالی کا تاریخی شہر ٹمبکٹو(Timbuktu) صدیوں سے علم، تہذیب اور تجارت کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔ صحرائے اعظم (صحارا) کے کنارے آباد یہ شہر بظاہر ریت کے سمندر میں ایک خاموش بستی دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی تاریخ انسانی شعور، فکری ارتقا اور علمی عظمت سے بھرپور ہے۔ ٹمبکٹو کو دنیا بھر میں ایک ایسے شہر کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں علم کی روشنی نے اندھیروں کو مات دی اور جہاں سے علمی و فکری تحریکوں نے جنم لیا۔ٹمبکٹو کی بنیاد تقریباً بارہویں صدی میں رکھی گئی، جب یہ علاقہ تجارتی قافلوں کا اہم پڑاؤ بن گیا۔ شمالی افریقہ اور صحارا کے پار علاقوں سے آنے والے تاجر یہاں سونا، نمک، ہاتھی دانت اور دیگر قیمتی اشیاء کی تجارت کرتے تھے۔ اس شہر کی جغرافیائی اہمیت نے اسے جلد ہی ایک تجارتی مرکز میں تبدیل کر دیا، لیکن اس کی اصل پہچان اس وقت بنی جب یہ علم و دانش کا گہوارہ بنا۔پندرہویں اور سولہویں صدی میں ٹمبکٹو نے اپنی عروج کی انتہا کو چھوا۔ اس دور میں یہاں کی درسگاہیں اور مدارس دنیا کے ممتاز تعلیمی مراکز میں شمار ہونے لگے۔ خصوصاً سنکور یونیورسٹی (Sankore University )نے اسے عالمی شہرت دی، جہاں ہزاروں طلبہ دینیات، فلسفہ، فلکیات، طب اور ریاضی جیسے علوم حاصل کرتے تھے۔ اس زمانے میں ٹمبکٹو کو ‘‘افریقہ کا آکسفورڈ'' بھی کہا جاتا تھا، جو اس کی علمی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ٹمبکٹو کی مساجد بھی اس کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ جِنگیریبر مسجد (Djinguereber Mosque)، جو چودھویں صدی میں تعمیر کی گئی، نہ صرف عبادت کا مرکز تھی بلکہ علمی سرگرمیوں کا بھی محور تھی۔ اس کے علاوہ سانکورے مسجد اور سیدی یحییٰ مسجد بھی اس شہر کی تاریخی و مذہبی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان مساجد کا منفرد مٹی سے بنا ہوا فن تعمیر آج بھی سیاحوں اور ماہرین فن کو حیران کر دیتا ہے۔ٹمبکٹو کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کے نایاب مخطوطات (Manuscripts) ہیں۔ یہاں ہزاروں قدیم کتابیں اور دستاویزات محفوظ کی گئی تھیں، جن میں سائنس، تاریخ، فقہ، ادب اور دیگر علوم پر قیمتی معلومات درج ہیں۔ یہ مخطوطات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افریقہ میں علم و تحقیق کی ایک مضبوط روایت موجود رہی ہے، جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان قیمتی علمی خزینوں کی حفاظت کیلئے مختلف ادوار میں مقامی افراد اور عالمی اداروں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔تاہم ٹمبکٹو کی تاریخ صرف عروج کی داستان نہیں بلکہ زوال کی کہانی بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سترہویں صدی کے بعد جب تجارتی راستے تبدیل ہوئے اور یورپی طاقتیں ساحلی علاقوں میں مضبوط ہونے لگیں تو ٹمبکٹو کی اہمیت کم ہوتی گئی۔ اس کے باوجود یہ شہر اپنی علمی اور ثقافتی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اکیسویں صدی میں ٹمبکٹو کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب 2012ء میں شدت پسند گروہوں نے اس شہر پر قبضہ کر لیا اور کئی تاریخی مزارات اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ یہ واقعہ نہ صرف مالی بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک ثقافتی سانحہ تھا۔ بعد ازاں بین الاقوامی کوششوں کے نتیجے میں ان تاریخی مقامات کی بحالی کا کام شروع کیا گیا، اور آج بھی یہ عمل جاری ہے۔ٹمبکٹو کو یونیسکو (UNESCO) نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے، جو اس کی عالمی اہمیت کا اعتراف ہے۔ یہ شہر نہ صرف افریقہ بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کی گلیوں، مساجد اور کتب خانوں میں ایک ایسی تاریخ سانس لیتی ہے جو ہمیں علم، برداشت اور تہذیب کی قدروں کا درس دیتی ہے۔آج کے دور میں، جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، ٹمبکٹو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ علم اور ثقافت کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ یہ شہر اس بات کی زندہ مثال ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی علم کی شمع روشن رکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ وقت نے اس کی چمک کو کچھ مدھم ضرور کیا ہے، لیکن اس کی تاریخی اور علمی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔

سماج

سماج

بچپن میں بھوتوں پریتوں کی فرضی کہانیاں سننے کے بعد جب سچ مچ کی کہانیاں پڑھیں تو ان میں عموماً ایک مشکل سا لفظ آیا کرتا۔ سب کچھ سمجھ میں آجاتا، لیکن وہ لفظ سمجھ میں نہ آتا۔ وہ دن اور آج کا دن، اس لفظ کا پتہ ہی نہ چل سکا۔ وہ لفظ ہے ''سماج‘‘۔ یوں تو یہ لفظ آسان سا ہے، اس کے معنی برادری یا معاشرہ وغیرہ ہوں گے۔ لیکن پتہ نہیں اس جماعت کے لوگ بستے کہاں ہیں اور کیوں بات بات پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں۔ لوگوں کو کچھ کرنے نہیں دیتے، کسی کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ نہ جانے اس جماعت کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ اور یہ لوگ کیوں سکون کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی یہ سننے میں آیا۔ ظالم سماج، خوفناک سماج، مکروہ سماج، سنگ دل سماج!کچھ یوں معلوم ہوتا جیسے سماج کوئی بیہودہ سا آوارہ گرد شخص ہے۔ جس کا کام دن بھر ظلم کرنا اور لوگوں کو ڈرانا ہے، چنانچہ بچپن میں جتنا شیطان سے ڈرلگتا اتنا ہی سماج سے ڈرا کرتے۔ اس کے بعد ایک اور دماغی تصویر بن گئی۔ یہ لفظ بڑے بڑے دکھائی دینے لگے۔ سماج کا شکار۔ سماج کے تیز پنجوں میں حقیر سی جان۔ سماج کے بھیانک منہ کا نوالہ۔ کئی سال تک ہمارے لیے سماج ایک ڈراؤنا سا جانور رہا جو اونٹ کی طرح بے تکا، ریچھ کی طرح مکار اور بھدا اور چیتے کی طرح خوفناک تھا۔ کوئی پوچھے کہ یہ اونٹ ریچھ وغیرہ اکٹھے کیسے ہوگئے؟ بس یونہی ہوگئے۔ لڑکپن ہی تو تھا اور پھر سماج کوئی سادہ سی چیز تو نہیں۔ خیر کتنے ہی دنوں ہم سماج کو خوفناک درندوں میں گنتے رہے۔اس کے بعد ذرا عقل مند ہوئے۔ اب سماج پر ایک نقاد کی طرح غور کیا تو چند اور الفاظ کھٹکنے لگے۔ سماج کے ٹھیکے دار، سماج کے اجارہ دار۔ نتیجہ جو نکلا تو افسوس ہوا کہ اب تک سماج کو بالکل غلط سمجھتے رہے۔ سماج تو ایسی چیز ہے جس کا ٹھیکہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ کوئی تجارتی جنس ہوگی۔ یا شاید کاروباری چیزوں میں سے کچھ ہو۔ بہرحال ہمیں یہ ضرور معلوم ہو گیا کہ سماج کا ٹھیکہ لینا آسان نہیں۔ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ لوہے کے چنے چبانے پڑتے ہیں، کیونکہ بچہ بچہ ان ٹھیکے داروں کے خون کا پیاسا نظر آتا ہے۔ ساری خلقت ان کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑی ہوئی ہے۔کتنے دنوں ہمیں یہی تلاش رہی کہ کسی سماج کے ٹھیکے دار کا بغور ملاحظہ کریں۔ بازاروں میں تلاش کی، گلی کوچوں میں پھرے، ہر قسم کے ٹھیکے دار دیکھے۔ کوئلے کے، لکڑی کے، عمارتوں کے اور نہ جانے کس کس چیز کے۔ لیکن اس قسم کا ٹھیکے دار کہیں نہ ملا۔ سیانے لوگوں سے کہا کہ آپ ہی یہ مشکل آسان کردیجیے، لیکن کوئی مدد پر آمادہ نہ ہوا۔ پھر ایک خاتون سے جن کے ہر افسانے کے ہر صفحے پر ہر پانچ چھ سطروں کے بعد سماج کا لفظ آتا تھا، ملنے گئے اور بڑی عاجزی سے کہا کہ محترمہ آپ کو تو ان ٹھیکے داروں کا اتہ پتہ معلوم ہوگا۔ اگر آپ ان میں سے کسی ایک کو اس خاکسار سے ملا دیں، تو ایک بوجھ میرے سینے سے اتر جائے۔ لیکن وہ یہی سمجھیں کہ میں مذاق کر رہا ہوں۔سماج کی کہانیوں میں عموماً ایک مزدور کی محبت کسی امیر لڑکی سے ہوجاتی ہے۔ فریقین مختلف ذات پات کے ہوتے ہیں۔ آنکھ جھپکتے ہی محبت ہوجاتی ہے۔ پریم کی شراب نینوں میں چھلکنے لگتی ہے۔ پریم کے تیر نینوں کو چیر کر دلوں میں کھب جاتے ہیں۔ پھر رسوائی ہوتی ہے اور رسوائی کیا اچھی خاصی پبلسٹی کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں نہ کچھ ہونا تھا نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن سماج نہ جانے کہاں سے بیچ میں آجاتا ہے۔ سماج کے ٹھیکے داروں سے اپیل کی جاتی ہے۔ پھر بغاوت ہوتی ہے اور محض سماج کی ضد میں ہیرو ہیروئن کو لے کر بھاگ نکلتا ہے۔ اگر ہیروئن پوچھے کہ بھلا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تو جواب ملتا ہے کہ دور۔۔۔ دور۔۔۔! اس مکر و فریب کی دنیا سے بہت دور! جہاں آشائیں مچلتی ہیں۔ جہاں امنگیں پنپتی ہیں۔۔۔ جہاں سماج کا خوفناک پنجہ معصوم روحوں کا تعاقب نہیں کرتا۔ وغیرہ۔اس قسم کی جگہ کی مجھے بڑی تلاش رہی ہے۔ خاص طور پر امتحان کی تیاری کے دنوں میں، تاکہ یکسوئی سے پڑھ سکوں۔ کوہ ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں سے سی پی کے جنگلوں تک اور وہاں سے سندھ کے ریگستانوں تک جاکر دیکھ لیا، لیکن اس قسم کی پرسکون جگہ کہیں نہیں ملی۔ جہاں بھی گیا وہاں وہی مکر و فریب کی قسم کی دنیا ملی۔فرض کیا وہ دونوں چل پڑے۔ اب کہانی لکھنے والے کی ڈیوٹی ہے کہ وہ یا تو دونوں کی، ورنہ کم از کم ایک کی تو ضرور خودکشی کروا دے۔ ورنہ پھر کہانی ہی کیا رہی۔ اور اگر ایک انتقال کر گیا (یا کر گئی) تو دوسرے کا انجام بھی نزدیک ہی ہے۔ عموماً یہ بھی ہوتا ہے کہ دونوں اکٹھے سماج کے چنگل میں آ جاتے ہیں اور شہیدانِ محبت کی لاشیں کسی دریا میں تیرتی ملتی ہیں۔ یا یوں ہوتا ہے کہ ایک کچھ دیر پہلے مرتا ہے اور دوسرا اس کی لاش پر چیخ مارکر گرتا ہے اور مرجاتا ہے۔ میری حقیر رائے میں اس قسم کی موت بہت مشکل ہے۔ مشکل کیا ایک حدتک ناممکن ہے۔ پھر یہ فقرہ آتا ہے، ''ان معصوم ہستیوں کی یاد میں جو سماج کی بھینٹ چڑھ گئیں‘‘۔ اور آخر میں سماج پر دل کھول کر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ اسے خوب کوسا جاتا ہے۔ گالیاں دی جاتی ہیں۔ یہاں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھلا ایک مزدور سے کس حکیم نے کہا ہے کہ وہ ضرور ایک سیٹھ کی لڑکی سے محبت کرے۔ بالفرض وہ محبت کر بھی لے تو پھر خواہ مخواہ اس سے شادی کرنے پر بھی اتر آئے۔ کم از کم یہی سوچ لے کہ اسے لاکر بٹھائے گا کہاں۔ اس قسم کے لوگ سماج کو کوسنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے عملی باتوں پر غور کرلیا کریں تو یقیناً افاقہ ہوگا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!صہبا لکھنوی: اردو کے ممتاز شاعر (2002-1919ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!صہبا لکھنوی: اردو کے ممتاز شاعر (2002-1919ء)

٭...25 دسمبر، 1919ء کوریاست بھوپال، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔٭... ان کا اصل نام سید شرافت علی تھا، آبائی وطن لکھنؤ تھا اسی وجہ سے لکھنوی کہلائے۔ ٭...ادبی زندگی کا آغاز1930ء میں 11 برس کی عمر میں کیا، ان کی پہلی تخلیق 1931ء میں ہفت روزہ ''آفتاب‘‘ میں اشاعت پذیر ہوئی۔٭...انھوں نے بھوپال ، لکھنؤ اور بمبئی سے تعلیمی مدارج طے کیے ۔٭... پہلی ملازمت 1944ء میں محکمہ مالیات ریاست بھوپال میں کی، چند ماہ بعد محکمہ تعلیم میں مدرس کی حیثیت سے تبادلہ کرالیا۔ ٭...1945ء میں بھوپال سے ماہنامہ افکار کا اجرا کیا۔٭... تقسیم ہند کے بعد وہ کراچی میں سکونت پزیر ہوئے اور یہاں 1951ء میں افکار کا دوبارہ اجرا کیا۔ یہ رسالہ مسلسل 57 برس تک بغیر کسی تعطل کے شائع ہوتا رہا۔٭... افکار کا خصوصی کارنامہ خود نوشت سوانح عمریوں کی اشاعت ہے۔٭...صہبا لکھنوی نے کراچی اور ملک بھر میں بطور شاعر پہچان بنائی اور مشاعروں میں انھیں بہت شوق سے سنا جاتا تھا۔٭...صہبا صاحب ایک عمدہ نثر نگار بھی تھے۔ ٭...بہت اچھے مقرر تھے اور ادبی موضوعات پر گہری نظر رکھتے تھے۔٭...وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سرگرم کارکن تھے۔٭...30 مارچ، 2002ء کو کراچی میں وفات پائی۔تصانیفارمغانِ مجنوں (بہ اشتراک شبنم رومانی)، منٹو ایک کتاب، غالب ایک صدی،برطانیہ میں اردو، زیر آسماں (شعری مجموعہ)، خاکے، اقبال اور بھوپال، رئیس امروہوی : فن و شخصیت،مجاز ایک آہنگ، میرے خوابوں کی سر زمیں (مشرقی پاکستان کا سفرنامہ)، ماہ پارے (شعری مجموعہ)غزلکتنے دیپ بجھتے ہیں، کتنے دیپ جلتے ہیںعزمِ زندگی لے کر پھر بھی لوگ چلتے ہیںکارواں کے چلنے سے کارواں کے رکنے تکمنزلیں نہیں یارو، راستے بدلتے ہیںموج موج طوفاں ہے، موج موج ساحل ہےکتنے ڈوب جاتے ہیں، کتنے بچ نکلتے ہیںاک بہار آتی ہے، اک بہار جاتی ہےغنچے مسکراتے ہیں، پھول ہاتھ ملتے ہیںنظمپھول کھلتے رہےزخم رستے رہےچاند ہنستا رہا‘ دل سلگتا رہاساز بجتے رہے شمع جلتی رہیزندگی دوش غم پر سسکتی رہیپھول سے خار تکقید سے دار تکزینت رنگ و بو‘ آدمی کا لہوشام سے صبح تک روشنی کے لیےجھلملاتے رہے روشنی کے لئے

آج کا دن

آج کا دن

لیتھیم کی دریافت1861ء میں آج کے روز کیمیائی عناصر کی دریافت کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہوئی جب سر ولیم کروکس نے ایک نئے عنصر تھیلیم (Thallium) کی دریافت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس عنصر کو سپیکٹروسکوپی کے ذریعے دریافت کیا، جس میں سبز رنگ کی ایک نمایاں لکیر دیکھی گئی، اور اسی وجہ سے اس کا نام یونانی لفظ ''تھالوس‘‘ (یعنی سبز شاخ) سے اخذ کیا گیا۔ یہ دریافت کیمیا کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔بے ہوشی کی دوا1842ء میں آج کے روز ڈاکٹر کرافورڈ لانگ نے سرجری کے عمل کو مزید بہتر بنانے کیلئے آپریشن سے قبل اپنے ایک طالب علم کو سرجری کی تاریخ میں پہل مرتبہ بے ہوش کرنے کیلئے ایتھر سنگھایا۔ اس تجربے کے بعد ہی اس دوا پر کام شروع ہوا اور اس کی جدید شکل میں آج کی دنیا انیستھیزیا سے متعارف ہوئی۔ اس سے قبل سرجری ایک نہایت تکلیف دہ عمل ہوا کرتا تھا۔فلوریڈا ٹیریٹری کا قیام1822ء میں امریکہ میں فلوریڈا کے علاقے کو باقاعدہ طور پر ایک خطہ (Territory) کا درجہ دیا گیا۔ اس سے قبل یہ علاقہ ہسپانوی حکومت کے زیر اقتدار تھا۔1819ء کے ''ایڈمز اونِس معاہدے‘‘ کے تحت سپین نے فلوریڈا کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں 1822ء میں امریکی حکومت نے اسے منظم انتظامی ڈھانچے کے تحت ایک باقاعدہ علاقہ بنا دیا، جہاں امریکی قوانین نافذ کیے گئے اور گورنر مقرر کیا گیا۔ بالآخر 1845ء میں یہ امریکہ کی 27ویں ریاست بن گیا۔سوویت یونین کیساتھ جھڑپ30 مارچ 1918ء کو موجودہ آذر بائیجان کے دارالحکومت باکو کے قریب سوویت یونین کی افواج اور آرمینی انقلابی فیڈریشن کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں سیکڑوں عام شہری ہلاک ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب پہلی عالمی جنگ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی تھی اور اب ہر ملک چاہ رہا تھا کہ جنگ کے اختتام سے قبل وہ جو بھی حاصل کر سکتا ہے کر لے۔اسی جنون کی وجہ سے ہی ان جھڑپوں کا آغاز ہوا۔منشیات کیخلاف معاہدہ1961ء میں آج کے دن سنگل کنونشن برائے نارکوٹک ادویات کا معاہدہ ہو ا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ تھا جس کے تحت مخصوص اور خطرناک نشہ آور ادویات کی پیداوار،سپلائی، تجارت اور استعمال کی روک تھام کیلئے ضابطوں کا ایک سسٹم متعارف کروایا گیا۔ایک ایسا نظام بنایا گیا جس کے تحت اس کے کاروبار کیلئے لائسنس اور علاج کیلئے استعمال کے اقدامات اٹھائے گئے۔اس کے طبی اور سائنسی استعمال کیلئے بھی ایک ضابطہ تیار کیا گیا۔ بلغاریہ پر بمباریبلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ کو دوسری جنگ عظیم کے دوران 1941 ء کے وسط سے 1944ء کے اوائل تک اتحادیوں کی جانب سے بمباری اور شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بلغاریہ نے 13 دسمبر 1941ء کو برطانیہ اور امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کیاتھا۔ 1944ء میں آج کے دن بلغاریہ پر اتحادیوں کی جانب سے شدید بمباری کی گئی۔

جدید ٹیکنالوجی، نئے خطرات!

جدید ٹیکنالوجی، نئے خطرات!

''ڈارک سوورڈ‘‘ کروڑوں فونز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے:ماہرینڈیجیٹل دور میں جہاں اسمارٹ فونز ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، وہیں سائبر سکیورٹی کے خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں آئی فون صارفین ایک ممکنہ طور پر تباہ کن ''ڈارک سوورڈ‘‘ سائبر حملے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس نے ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس خطرناک حملے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے صارفین کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے تاکہ ان کی ذاتی معلومات، مالیاتی ڈیٹا اور نجی زندگی محفوظ رہ سکے۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات سے آگاہی اور احتیاط بھی بے حد ضروری ہے۔سائبر سکیورٹی ماہرین نے ایک نئے خطرے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے جو کروڑوں آئی فونز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ گوگل تھریٹ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق، اس مالویئر کو ''ڈارک سوورڈ‘‘ کہا جاتا ہے جو ہیکرز کو آلات میں داخل ہونے اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ڈارک سوورڈ ''iOS‘‘ اور ''Safari‘‘ میں چھ الگ الگ خامیوں کو ایک ساتھ جوڑتا ہے، جس سے حملہ آور کسی بھی ہدف شدہ ڈیوائس پر خاموشی سے مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں۔ یہ خامیاں ''iOS‘‘ کے ورژن 18.4 سے 18.7 والے آئی فونز کو متاثر کرتی ہیں اور صارف کی جانب سے مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں، بس کسی نقصان دہ یا ہیک شدہ ویب سائٹ پر جانا کافی ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ متعدد گروہ پہلے ہی اس ٹول کو حقیقی دنیا میں استعمال کر رہے ہیں، جن میں تجارتی جاسوسی کرنے والی کمپنیاں اور ریاستی سطح کے ہیکرز شامل ہیں۔یہ سرگرمی سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا اور یوکرین میں نوٹ کی گئی ہے۔ایپل کے ترجمان نے کہا کہ یہ خامیاں پرانے سافٹ ویئر کو ہدف بنا رہی تھیں، اور بنیادی خامیوں کو حالیہ برسوں میں کئی اپ ڈیٹس میں دور کر دیا گیا ہے، جو صارفین اپنے آلات کے تازہ ترین ورژنز پر چلا رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھنا اب بھی صارفین کیلئے سب سے اہم اقدام ہے تاکہ وہ اپنے ایپل ڈیوائسز کی اعلیٰ سکیورٹی برقرار رکھ سکیں۔ماہرین نے ان صارفین کو ہدایت دی ہے جو ایسے حملوں کا ہدف بننے کا شبہ رکھتے ہیں، خاص طور پر صحافی، کارکنان یا وہ لوگ جو حساس معلومات ہینڈل کرتے ہیں کہ وہ ایپل کا لاک ڈاؤن موڈ فعال کریں۔ یہ کرنے کیلئے Settings میں جائیں، ''Privacy & Security‘‘ منتخب کریں،''Lockdown Mode‘‘ پر ٹیپ کریں اور ہدایات کے مطابق اسے آن کرکے ڈیوائس کو ری اسٹارٹ کریں۔سائبر سکیورٹی فرم Lookout، موبائل سکیورٹی کمپنی iVerify اور گوگل کے محققین نے ڈارک سوورڈ پر مربوط تجزیے شائع کیے، جن میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ آئی فونز اور Safari براؤزر میں موجود کئی چھپی ہوئی خامیوں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔اس سے حملہ آور کسی ڈیوائس پر خفیہ طور پر مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں، جو ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فون کو اپ ڈیٹ رکھنا کتنا ضروری ہے۔کچھ معاملات میں حملہ آور لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے جعلی ویب سائٹس یا ایپس بناتے ہیں، جیسے کہ Snapchat کا نقلی ورژن، جبکہ بعض میں وہ قانونی ویب سائٹس، بشمول ایک سرکاری ویب سائٹ، کو ہیک کر لیتے ہیں۔ایک بار فون متاثر ہو جائے تو ہیکرز اپنے مقصد کے مطابق مختلف قسم کے جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال کر سکتے ہیں۔ان میں سے ایک ورژن، جسے ''Ghostblade‘‘ کہا جاتا ہے، بہت بڑی مقدار میں ذاتی معلومات چرانے کیلئے بنایا گیا ہے۔اس میں ٹیکسٹ میسجز، کال ہسٹری، رابطے، تصاویر، ای میلز، پاس ورڈز، مقام کی معلومات، براؤزنگ ہسٹری اور یہاں تک کہ iCloud میں محفوظ فائلیں شامل ہیں۔یہ WhatsApp اور Telegram جیسی ایپس کے پیغامات تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔مالویئر کرپٹو کرنسی ایپس اور والٹس کو بھی تلاش کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل اثاثے یا حساس مالی معلومات بھی چرا سکتا ہے۔کچھ جاسوسی سافٹ ویئر کے برعکس جو طویل عرصے تک چھپا رہتا ہے، یہ مالویئر مطلوبہ ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد خود کو حذف کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے اسے پکڑنا اور شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔محققین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ کتنے آئی فونز ڈارک سوورڈ حملوں کے لیے کمزور ہیں۔ ایپل نے بنیادی خامیوں کے لیے متعدد فکسز جاری کیے ہیں جن کا استعمال حملہ آوروں نے ڈارک سوورڈ بنانے کیلئے کیا۔اس کے باوجود، بہت سے لوگ آئی فون اپ ڈیٹس انسٹال نہیں کرتے، اور اندازاً 220 ملین سے 270 ملین آئی فونز اب بھی ایسے ''iOS‘‘ ورژنز پر چل رہے ہیں جو خطرے سے دوچار ہیں، ''iVerify ‘‘اور ''Lookout‘‘ کے مطابق، جنہوں نے یہ اعداد و شمار عوامی تخمینوں کی بنیاد پر دیے ہیں۔