بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر
اسپیشل فیچر
صحت اور نفسیات کا اہم سوال
ڈیجیٹل دور میں سمارٹ فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے لیکن ایک اہم سوال تیزی سے زیرِ بحث آ رہا ہے کہ بچوں کو سمارٹ فون کس عمر میں دیا جائے؟ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عمری میں سمارٹ فون کا استعمال بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں بلکہ پاکستان جیسے معاشروں میں بھی تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے جہاں بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون عام ہوتے جا رہے ہیں۔ایک جامع تحقیق، جس میں 10 ہزار سے زائد بچوں کا ڈیٹا شامل تھا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جن بچوں کے پاس 12 سال کی عمر تک سمارٹ فون تھا، ان میں کئی صحت کے مسائل زیادہ دیکھے گئے۔ تحقیق کے مطابق ایسے بچوں میں ڈپریشن کی شرح زیادہ تھی۔ تقریباً 5.7 فیصد سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں ڈپریشن پایا گیا جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل سکرین ٹائم، سوشل میڈیا کا دباؤ اور آن لائن دنیا میں موازنہ کرنے کی عادت بچوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں باڈی ماس انڈیکس (BMI)بھی زیادہ پایا گیا اور تقریباً 16 فیصد بچے موٹاپے کا شکار تھے جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کے بجائے سکرین پر وقت گزارتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سمارٹ فون رکھنے والے بچے اوسطاً روزانہ تقریباً 17 منٹ کم سوتے ہیں۔ یہ معمولی فرق لگ سکتا ہے مگر مسلسل نیند کی کمی بچوں کی نشوونما، توجہ اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔تحقیق کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جتنی کم عمر میں بچے کو سمارٹ فون دیا جائے اتنے ہی زیادہ صحت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جو بچے 12 سال کی عمر کے بعد فون لیتے ہیں ان میں بھی نیند کی کمی اور ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اگرچہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ صرف سمارٹ فون ہی مسائل کی وجہ ہے۔ کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بچے کو فون کب ملا بلکہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ یعنی اگر استعمال متوازن ہو، والدین کی نگرانی ہو، اور سکرین ٹائم محدود ہو تو خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں صورتحال
پاکستان میں یہ مسئلہ کچھ مختلف انداز میں سامنے آتا ہے ، مثال کے طور پرشہری علاقوں میں بچوں کو کم عمری میں موبائل فون مل جاتا ہے۔آن لائن کلاسز اور یوٹیوب نے سمارٹ فون کو ''تعلیمی ضرورت‘‘بنا دیا ہے اوروالدین اکثر بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے فون دے دیتے ہیں۔سوشل میڈیا (ٹک ٹاک، انسٹا گرام وغیرہ) کا بڑھتا ہوا رجحان بھی بچوں میں موبائل فون کے زیادہ استعمال کی بڑی وجہ ہے۔ یہ تمام عوامل بچوں کے سکرین ٹائم کو بڑھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ جسمانی سرگرمیوں، کتابوں اور سماجی میل جول سے دور ہو رہے ہیں۔
والدین کیا کریں؟
ماہرین کے مطابق سمارٹ فون دینا کوئی غلط فیصلہ نہیں، لیکن اسے سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔ممکن ہو تو بچوں کو کم از کم 13 سال یا اس سے زیادہ عمر میں سمارٹ فون دیں۔روزانہ استعمال کا وقت مقرر کریں، خاص طور پر رات کے وقت۔بچوں کو سونے کے وقت فون سے دور رکھیں تاکہ نیند متاثر نہ ہو۔ کھیل کود، واک اور آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں ذمہ دارانہ استعمال سکھائیں۔حقیقی زندگی میں دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سمارٹ فون بذاتِ خود دشمن نہیں۔ یہ ایک طاقتور ٹول ہے جو تعلیم، معلومات اور رابطے کے لیے مفید ہے، لیکن اس کا غیر متوازن استعمال بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق سمارٹ فون کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنے کا ایک عمل ہے جس میں بچوں اور والدین دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حالیہ تحقیق واضح طور پر یہ اشارہ دیتی ہے کہ بچوں کو کم عمری میں سمارٹ فون دینا ان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے ہو رہی ہے، والدین کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس معاملے میں محتاط فیصلہ کریں۔اہم سوال یہ نہیں کہ بچے کو فون دینا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب، کیسے اور کس حد تک دینا ہے۔اور یہی فیصلہ بچوں کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔