وادیِ سندھ کی تہذیب
اسپیشل فیچر
عالمگیر تمدن،سامی رابطہ اور الہامی روایت
آثارِ قدیمہ کے ممتاز محقق رچرڈ ایچ میڈوز ( Richard H. Meadow) کے مطابق قدیم سندھی تہذیب محض ایک محدود جغرافیائی یا علاقائی تمدن نہیں بلکہ ایک طویل اور ہمہ گیر ثقافتی عہد کا نام ہے جس کی وسعت وادی سندھ اور ہاکڑا کے میدانوں سے نکل کر بلوچستان، چولستان، تھر، ساحلِ مکران، گجرات اور اس سے ملحقہ جزائر تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیگر عالمی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق بھی اس تہذیب کے اثرات مغرب کی جانب فارس اور عراق سے ہوتے ہوئے ترکیہ کے آخری خطوں تک پہنچے، حتیٰ کہ جارجیا اور آرمینیا میں ملنے والے کھنڈرات میں بھی اس کے نقوش نمایاں ہیں۔
مارک کینویر اور جم شیفر نے قدیم سندھی تہذیب کو چار بڑے ادوار میں تقسیم کیا ہے، جن میں پہلا دور حجری یا نو حجری (Neolithic) کہلاتا ہے جو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال قبل مسیح تک جاتا ہے۔ اس اعتبار سے وادیِ سندھ کی تہذیب اب تک معلوم انسانی تاریخ کی قدیم ترین شہری تہذیب قرار پاتی ہے، جس پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں کا عمومی اتفاق موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں مصر کی فراعینی تہذیب تین سے چار ہزار سال قبل مسیح کی ہے جبکہ یونان (ایتھنز اور سپارٹا)، جنوبی امریکہ کی انکا، مایا اور ازٹیک تہذیبیں، نیز میسوپوٹیمیا (سومر اور بابل) اور عیلامی تہذیبیں اپنی تمام تر عظمت کے باوجود قدامت میں وادیِ سندھ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
سات شہری ریاستیں اور بادِ ایمن کا تصور
وادیِ سندھ کی تہذیب میں سات عظیم شہری ریاستوں کا ذکر ملتا ہے جن کے لیے بعض مؤرخین نے بادِ ایمن (Bad Imin) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ان ریاستوں میں موئن جو دڑو، چہنوں جو دڑو، نال، آمری، ہڑپہ، نصیرآباد اور مہرگڑھ شامل ہیں۔ آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں زراعت اور تجارت اس قدر ترقی یافتہ تھیں کہ رزق کی فراوانی عام تھی اور غربت یا پسماندگی کے منظم آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ غالباً اسی معاشی خوشحالی، امن اور سماجی توازن کے باعث ان ریاستوں نے مشترکہ تہذیبی شناخت کے طور پر ''بادِ ایمن‘‘ کو قبول کیا۔
ویدک، غیر ویدک اور عربی روایات
سندھی تہذیب کو محض ویدک رشیوں کی پیداوار کہنا درست نہیں بلکہ یہ ویدی اور غیر ویدی عناصر کا ایک پیچیدہ اور بامعنی امتزاج ہے۔ مہا بھارت کے واقعات بالخصوص کوروؤں کی حمایت کرنے والے قبائل کے نام اگر عربی لسانی و تاریخی تناظر میں دیکھے جائیں تو قدیم تاریخ کے کئی پوشیدہ پہلو روشن ہوتے ہیں۔مثلاً شیمی قبیلہ جس کا ذکر شورکوٹ (ضلع جھنگ) کے قریب ملنے والی قدیم تحریروں میں شیمی پورہ کے نام سے ملتا ہے، عربی اور سبائی روایات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ عربوں میں دادا کا نام پوتے کو دینا عام روایت تھی جس سے ہندی اوس اور عربی اوس (فرزندانِ سبا) کے مابین نسلی ربط واضح ہوتا ہے۔ اسی طرح مہا بھارت کے شکست خوردہ فریق کے سردار راجہ کرن کا عربی متبادل ملکِ قرن بنتا ہے جو عربی تاریخی روایات میں بھی ملتا ہے۔سید سلیمان ندوی نے سوامی دیانند سرسوتی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مہا بھارت کے زمانے تک ہندوستان میں عربی زبان نہ صرف سمجھی جاتی تھی بلکہ بولی بھی جاتی تھی جو برصغیر اور عرب کے مابین قدیم لسانی ربط کا واضح ثبوت ہے۔
جغرافیائی ناموں کی تاریخی گردش
ہند اور سند محض نسلی نہیں بلکہ جغرافیائی اصطلاحات ہیں جو مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہیں۔ چوتھی صدی عیسوی تک جنوبی عرب کے بعض حصے ارضِ ہند کہلاتے تھے جبکہ ابلہ اور بصرہ جیسے مقامات بھی اسی نام سے معروف رہے۔ اوستائی دور میں ایران کا جنوبی حصہ بومِ ہندواں کہلاتا تھا اور عیلام کے بادشاہ کدراَدا کورماکو کو کدرتانِ ہندی کہا جاتا تھا۔ یہ تمام شواہد ہند، سندھ اور عرب کے باہمی تاریخی ربط کو تقویت دیتے ہیں۔
سندھی مہریں، رسم الخط اور مغربی تعصب
سر جان مارشل نے 1925ء میں سندھی مہروں کا مطالعہ کر کے یہ ثابت کیا کہ ان کا تعلق عراق کے اکدی دور تک جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان مہروں کو بائیں سے دائیں نہیں بلکہ دائیں طرف سے پڑھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود بعد کے اکثر مغربی محققین نے دانستہ طور پر ان نوشتوں کو سامی، عربی یا عبرانی تناظر میں پڑھنے سے گریز کیا تاکہ وادیِ سندھ کی تہذیب کو الہامی روایت سے جوڑنے سے بچا جا سکے۔مولانا ابوالجلال ندوی اور ڈاکٹر خالد حسن قادری کا دوٹوک مؤقف ہے کہ قدیم سندھی نوشتے عربی کی ابتدائی صورت ہیں۔ مولانا ندوی کے مطابق چین کے سوا دنیا کی اکثر ابجدوںیونانی، لاطینی، عبرانی، عربی، اردو اور دیوناگری کا سلسلۂ نسب ہڑپہ کے نوشتوں سے جا ملتا ہے۔ اہرامِ مصر، موئن جو دڑو اور ہڑپہ جیسے آثار محض اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس علم کی یادگار ہیں جو نسلِ انسانی کو منتقل ہوا۔ مغرب آج بھی ان تہذیبوں کے کئی اسرار حل کرنے سے قاصر ہے جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قدیم دنیا محض ابتدا نہیں بلکہ گہری روحانی اور علمی بنیادوں پر قائم تھی۔