''تھمز اپ‘‘سب سے زیادہ نا پسندیدہموجودہ دور کو اگر ڈیجیٹل عہد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس نے نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی کو تبدیل کر دیا ہے بلکہ ہمارے اظہارِ خیال کے انداز کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج الفاظ کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی تصویری علامتیں یعنی ''ایموجیز‘‘ ہماری گفتگو کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ یہ ایموجیز کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی مزاح اور کبھی طنز کے جذبات کو چند لمحوں میں بیان کر دیتی ہیں۔حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے نے اس عام تاثر کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایموجیز ہمیشہ مثبت اور خوشگوار اثر ہی رکھتی ہیں۔برطانیہ میں کیے گئے ایک حالیہ سروے نے اس دلچسپ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ہر ایموجی ہر شخص کیلئے یکساں معنی نہیں رکھتی۔ اس تحقیق میں تقریباً دو ہزار افراد سے رائے لی گئی، جس کے نتیجے میں 20 ایسی ایموجیز کی فہرست سامنے آئی جنہیں لوگ سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر اس فہرست میں سرفہرست ''تھمز اپ‘‘ ایموجی ہے، جو عمومی طور پر تعریف، منظوری یا حوصلہ افزائی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ نتیجہ بظاہر حیرت انگیز ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی نفسیاتی اور سماجی وجوہات قابلِ غور ہیں۔ سروے میں شریک افراد کی ایک بڑی تعداد کے مطابق ''تھمز اپ‘‘ ایموجی بعض اوقات سرد مہری، بے رخی یا غیر مستقیم جارحیت کا تاثر دیتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل، جسے عام طور پر جنریشن زی (Gen Z) کہا جاتا ہے، اس ایموجی کو گفتگو ختم کرنے یا دلچسپی نہ لینے کی علامت سمجھتی ہے۔ یوں ایک سادہ سا مثبت اشارہ بعض افراد کیلئے منفی پیغام بن جاتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی صارفین نے اس رجحان پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صرف ''تھمز اپ‘‘ کے ساتھ جواب دے تو یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بات چیت کو اچانک ختم کر دیا گیا ہو۔ بعض نے تو اسے ''خاموشی سے دروازہ بند کرنے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔اس سروے میں دیگر ایموجیز بھی شامل ہیں جو لوگوں کیلئے ناگوار ثابت ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بینگن ایموجی، جو عام طور پر سبزی کے طور پر استعمال ہونا چاہیے، لیکن ڈیجیٹل کلچر میں اسے ایک مخصوص اور غیر مہذب معنی دے دیا گیا ہے، دوسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ عورت کے رقص کرنے والی ایموجی، انسانی فضلہ، کوبائے ہیٹ والا چہرہ اور چیک مارک بھی ان علامتوں میں شامل ہیں جو بعض صارفین کیلئے پریشان کن یا غیر موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ماہرین ابلاغ کے مطابق ایموجیز کے مختلف معانی کی ایک بڑی وجہ ان کا سیاق و سباق (context) ہے۔ہیریئٹ اسکاٹ (Harriet Scott)، جوپرسپیکٹس گلوبل (Perspectus Global) سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ایک ہی ایموجی مختلف لوگوں کیلئے مختلف مفہوم رکھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آنکھوں والا ایموجی کسی کیلئے تجسس یا دلچسپی کی علامت ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرے کیلئے یہ شک یا نگرانی کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح سوچنے والا چہرہ یا تھوک بہانے والا چہرہ بھی مختلف تشریحات کا باعث بنتے ہیں۔اس رجحان میں عمر کا عنصر بھی نہایت اہم ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے 81 فیصد افراد ایموجیز کو پریشان کن سمجھتے ہیں، اور ان میں سے بڑی تعداد ان کے معانی سے بھی مکمل طور پر واقف نہیں۔ اس کے برعکس، نوجوان نسل ایموجیز کو اپنی روزمرہ گفتگو کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔ 18 سے 30 سال کے تقریباً 93 فیصد افراد روزانہ ایموجیز کا استعمال کرتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل زبان نسل در نسل تبدیل ہو رہی ہے۔یہ تبدیلی صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پالیسیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں Apple نے اپنے آپریٹنگ سسٹم ''iOS 26.4‘‘ میں 163 نئے ایموجیز شامل کیے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بڑی تعداد مختلف جلد کے رنگوں (Skin Tones) کی نمائندگی کرتی ہے، مگر 13 نئے ایموجیز بالکل نئے تصورات پر مبنی ہیں۔ ان میں ایک خاص ''مڑا ہوا چہرہ‘‘ ایموجی بھی شامل ہے، جس کے گلابی گال اور ابھری ہوئی آنکھیں صارفین میں خاصی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایموجیز اب محض تفریحی علامتیں نہیں رہیں بلکہ ایک مکمل زبان کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ تاہم، اس زبان کی پیچیدگی بھی بڑھ رہی ہے، کیونکہ ہر علامت کا مطلب ہر فرد کیلئے یکساں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک سادہ سا ایموجی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل گفتگو میں محتاط رویہ اختیار کریں۔ ایموجیز کا استعمال کرتے وقت نہ صرف اپنے جذبات بلکہ سامنے والے کے نقطۂ نظر کو بھی مدنظر رکھیں۔ خاص طور پر پیشہ ورانہ یا حساس گفتگو میں ایموجیز کے چناؤ میں احتیاط برتنا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایموجیز جدید دور کی ایک اہم ایجاد ہیں، جو ہماری گفتگو کو آسان اور دلچسپ بناتی ہیں، مگر ان کے استعمال میں توازن اور سمجھ داری ناگزیر ہے۔ کیونکہ ایک ہی علامت، جو کسی کیلئے مسکراہٹ کا سبب بنتی ہے، دوسرے کیلئے الجھن یا ناراضی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یہی ڈیجیٹل دنیا کا وہ پہلو ہے جو ہمیں مسلسل سیکھنے اور خود کو ڈھالنے پر مجبور کرتا ہے۔