کائٹ سرفنگ کے معمر ترین کھلاڑی
اسپیشل فیچر
عمر کو اکثر کمزوری اور سست روی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر کچھ لوگ اپنی جرات اور حوصلے سے اس تصور کو بدل دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک پردادا نے سمندر کی لہروں سے ٹکرا کر کائٹ سرفنگ کے میدان میں نئی تاریخ رقم کر دی اور دنیا کے معمر ترین کائٹ سرفر بن گئے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف کھیلوں کی دنیا میں ایک منفرد سنگ میل ہے بلکہ اس بات کا واضح پیغام بھی ہے کہ شوق، جذبہ اور حوصلہ عمر کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ واقعہ بزرگ افراد کیلئے نئی امید اور نوجوان نسل کیلئے حوصلہ افزا مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
یہ غیر معمولی کارنامہ انجام دینے والے بزرگ کی زندگی عام لوگوں کیلئے ایک روشن مثال ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط زندگی گزارنے کے بعد، جب بیشتر لوگ آرام، تنہائی اور محدود معمولات کو اپنا لیتے ہیں، اس پردادا نے سمندر کی بے رحم لہروں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کائٹ سرفنگ ایک ایسا کھیل ہے جس کیلئے جسمانی توازن، تیز ردِعمل، مضبوط اعصاب اور ذہنی یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ نوجوانوں کیلئے بھی یہ کھیل آسان نہیں، مگر اس بزرگ نے نہ صرف اسے اپنایا بلکہ عالمی سطح پر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
کائٹ سرفنگ دراصل ایک جدید آبی کھیل ہے جس میں کھلاڑی ایک بڑی کائٹ (پتنگ نما کپڑا) کی مدد سے ہوا کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بورڈ پر کھڑا ہو کر پانی کی سطح پر سفر کرتا ہے۔ تیز ہوا، بلند لہریں اور بدلتے موسم اس کھیل کو مزید چیلنجنگ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک معمر شخص کا اس کھیل میں حصہ لینا ہی حیرت کی بات ہے، اور پھر اسے کامیابی سے انجام دے کر ریکارڈ قائم کرنا غیر معمولی حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔
2006ء میں ڈومینیکن ریپبلک کے شہر کاباریٹے کے سفر کے دوران رِک بریکنز (Rick Brackins) جن کا تعلق امریکہ سے ہے نے ساحل پر لوگوں کو کائٹ سرفنگ کرتے دیکھا اور خود بھی اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ 87 برس کی عمر میں آج بھی یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں رِک کو باضابطہ طور پر کائٹ سرفنگ کرنے والے دنیا کے معمر ترین مرد کا اعزاز دیا گیا، جب ان کی عمر 87 سال اور 20 دن تھی۔ یہ پردادا آج بھی سمندر کی لہروں میں اترنے سے نہیں رکتے اور ان کا حوصلہ کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتا۔
رِک، جو ماضی میں کمرشل رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ رہے اور اب ٹیمپا، فلوریڈا میں ایک بار اور ریسٹورنٹ کے مالک ہیں، کائٹ سرفنگ سے بے حد محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ خود کو فِٹ رکھنے کا ایک خوشگوار طریقہ ہے۔ یہ شوق وہ اپنے خاندان کے ساتھ بھی بانٹتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے بیٹے کینیٹھ اور پوتی کنلے کے ساتھ کائٹ سرفنگ کیلئے جاتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جذبہ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ ان کے علم کے مطابق دنیا میں کوئی اور ایسا خاندان نہیں جس کی تین نسلیں ایک ساتھ سمندر میں کائٹ سرفنگ کرتی رہی ہوں۔ ان کے بیٹے کینیٹھ کا کہنا ہے کہ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ ان کے والد اب بھی کائٹ بورڈنگ کر رہے ہیں۔ ساحل پر موجود بہت سے افراد جب انہیں کائٹ سرفنگ کرتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس کھیل کی تربیت لینے کا سوچتے ہیں، حالانکہ عام طور پر وہ خود کو عمر کے باعث اس کیلئے بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ رِک نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ ایسی کوئی حد موجود نہیں۔
رِک کے تین بچے، چار پوتے پوتیاں اور چار پڑپوتے پڑپوتیاں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک شوقیہ غوطہ خور (ڈائیور) اور اسپیئر فِشنگ کے بھی دلدادہ ہیں۔
اس پردادا کی کہانی محض ایک کھیل یا ریکارڈ تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی ارادے کی طاقت کا مظہر ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے، اس کے باوجود زندگی سے محبت اور نئے تجربات کا شوق کبھی ختم نہیں ہونے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان اگر خود کو زندہ محسوس کرنا چاہے تو اسے نئے چیلنجز قبول کرنے چاہئیں، چاہے عمر کوئی بھی ہو۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا حسن مسلسل سیکھنے اور آگے بڑھنے میں ہے۔ چاہے عمر کے کتنے ہی سال کیوں نہ گزر جائیں، اگر انسان میں کچھ نیا کرنے کا جذبہ زندہ ہو تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ کائٹ سرفنگ کرنے والے اس معمر پردادا نے نہ صرف ایک ریکارڈ قائم کیا بلکہ سوچ کے دروازے بھی کھول دیے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کہانی صرف ایک کھیل یا ریکارڈ کی نہیں، بلکہ انسان کے اندر چھپی بے پناہ صلاحیت کی داستان ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ اگر حوصلہ زندہ ہو، ارادہ مضبوط ہو اور دل میں جذبہ موجزن ہو تو انسان کسی بھی مرحلے پر تاریخ رقم کر سکتا ہے۔ پردادا کی یہ جرات مندانہ کامیابی آنے والی نسلوں کیلئے ایک روشن مثال اور ہمیشہ یاد رکھی جانے والی داستان بن چکی ہے۔