ہے جو مہنگائی تو…… کچھ باعثِ مہنگائی بھی ہے!
اسپیشل فیچر
عمومی طور پرحکومتی ناقص پالیسیاں، روپے کی قدر میں کمی، سیاسی عدم استحکام، داخلی بد امنی، عالمی حالات، قدرتی آفات، آبادی میں اضافہ اور بدعنوانی مہنگائی کی بنیادی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق طلب و رسد میں عدم توازن مہنگائی و ارزانی کا بڑا سبب ہے۔ اپنے ہاں انتظامی نا اہلی و بدعنوانی، مذہبی و مسلکی شعِار اور شادی مرگ پر بے جا اِصراف دنیا سے نرالے ہیں۔ جو قوم قرض کی رقم سے فضول خرچیوں اور انکم سکیموں جیسے کارِ بے اجر میں پیسے ضائع کرے، اس قوم کی فاقہ مستیاں کیونکر رنگ لا سکتی ہیں؟۔
سرکار اور عوام اعلیٰ درجے کے شہ خرچ اور غیر ذمہ دار ہونے کے باعث طلب و رسد کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ شادی و مرگ کی پُر تکلف تقریبات و ضیافات میں قومی وسائل کا بے رحمانہ ضیاع مارکیٹ کو ہِلا کر رکھ دیتا ہے۔ پورا سال مہنگائی کا رونا رونے والوں پر ولیموں، وضیموں، مہندیوں، رسومِ مرگ اور تہواروں پر کروڑ پتی ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ کھابہ گیری، شِکم پروری اور غذائی اشیاء کا ضیاع ہمارے مرغوب جنون بن گئے ہیں۔
مہذب ترقی یافتہ ممالک عام ہوٹلوں میں بھی ضرورت سے زیادہ کھانا اور ضائع کرنا قانونی و اخلاقی جرائم ہیں۔ وہاں شادی غمی پر ہماری طرح کے جمِ غفیر ہوتے ہیں نہ قومی وسائل برباد کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً ضروریاتِ زندگی بازار میں ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ جبکہ یہاں روزانہ ہزاروں مَن گوشت، چینی، گھی، آٹا، دودھ، پھل اور مسالہ جات اِن خرافات پر اُٹھ جاتے ہیں۔ رش کا عالم یہ ہے کہ ان شہ خرچیوں کیلئے میرج ہال سے مہینوں پہلے وقت لینا پڑتا ہے۔
غور کریں تو لاکھوں صحت مند جانور ہر سال عید پر قربان ہو جاتے ہیں جبکہ لاکھوں ہماری شادی و مرگ کے کھانوں میں پک جاتے ہیں۔ اب مارکیٹ میں صارفین کیلئے معیاری گوشت کیسے بچے؟۔ پھر مذہبی محافل و تقریبات کے اِصراف مستزاد۔ مٹھائیاں بنیادی ضروریات نہیں ہیں مگر ان پر چینی،گھی، دودھ اور میدے کی کثیر مقدار کھپ رہی ہے۔ یہی اشیاء اگر مارکیٹ میں رہیں تو عام آدمی کی بنیادی ضرورت کے طور پر ارزاں داموں دستیاب ہوں۔
مہذب دنیا نے اس ضیاع کے احساسِ زیاں کو محسوس کرتے ہوئے ان فضولیات پر روک لگا کر مذکورہ توازن درست رکھا ہے۔ طلب و رسد اور عوامی رجحان کی بابت ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے ہماری تحصیل میاں چنوں کے تقریباً ایک سو دیہہ و قصبات سے آنے والا دو سو من دودھ صرف برفی سازی میں صرف ہو جاتا ہے۔ سوچئے کہ دیگر ممالک کی طرح برصغیر میں ان وسائل کو یوں ضائع ہونے سے بچایا جائے تو مہنگائی نہ ہونے برابر رہ جائے۔ اس حساب سے ملک بھر کا ہزاروں من دودھ، گھی، چینی اور میدہ ضرورت کی بجائے محض شوق کی خاطرکھوہ کھاتے جاتا ہے۔
کوئی شہر اور گائوں ایسا نہیں جہاں ہرروز شادی ومرگ پر ایسے بے جا اخراجات نہ ہوتے ہوں۔ یہی نہیں بلکہ ان تقریبات میں شمولیت کیلئے آنے والے لشکر جرار کی آمدورفت پر کروڑوں کا ایندھن بھی خرچ ہو جاتا ہے۔ بھلے ان کی جیبوں سے سہی لیکن قومی وسائل کی طلب و رسد میں بگاڑ تو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام معیاری و سستی اشیاء ناپید ہونے کا شکوہ کرتے ہیں۔ یہی حال بلڈنگ مٹیریل کا ہے۔ غربت و مہنگائی پر ماتم کُناں عوام کے ہاں پورا سال کنسٹرکشن ورک رکتا نہیں۔ مارکیٹ میں کچھ چھوڑیں تو قیمت برقرار رہے۔
بد امنی، جنگیں اور سیلاب جیسی آفات بھی مہنگائی کا موجب بنتی ہیں ۔طالبان ، بی ایل اے اور دیگر عناصر عوام اور ریاست سے کئی عشروں سے بر سرپیکار ہیں۔ وطن عزیز کی تقریباً بائیس سو کلو میٹر انڈیا اور اتنی ہی افغانستان کی سرحدات پر ہر وقت جنگ کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں اور ان ممالک سے تجارت بھی بند ہے۔ آبادی میں بے قابو اضافہ اک اور نہ حل ہونے والا مسئلہ ہے جو غذائی اور رہائشی بحران کا سبب بنتا جا رہا ہے اور زرعی رقبوں پر گھر پہ گھربن رہے ہیں۔ لگتا ہے سوسال بعد صرف آبادی ہو گی، زرعی زمین نہیں۔
قیام پاکستان کے وقت تین کروڑ آبادی والا ملک اب چھبیس کروڑ آبادی رکھتا ہے۔ بیس ہزار بچے روزانہ آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ دوسروں کے انکم سے زیادہ اثاثوں پر شور مچانے والے اپنی انکم سے زیادہ بچے کیوں پیدا کر بیٹھتے ہیں؟۔ فرقہ واریت اور مذہبی جنون کے موجب پچاس فیصد سکیورٹی کے وسائل مذہبی تقریبات کیلئے استعمال ہو جاتے ہیں۔ ہم تو مذہبی تہوار بھی سکیورٹی کے بغیر نہیں منا سکتے۔ اب اس لیے بھی آسودگی نہیں رہی کہ آج بجلی، گیس اور فون کے اخراجات کے ساتھ درجنوں ملبوسات، جوتے، فینسی گھر، گاڑی حتیٰ کہ اینڈرائیڈ فون بھی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ماضی میں یہ سب ہرگز درکار نہ تھا ۔ دلہن کو گھر پر ہی تیار کرکے شادی کے عام جوڑے میں رخصت کردیا جاتا تھا جبکہ اب دلہن پارلر میں پچاس ہزارکے عوض سنورنے کے بعد لاکھوں روپوں کے لہنگے میں سسرال سِدھارتی ہے ۔بارات وولیمے کے علاوہ مہندیوں پرلاکھوں اُڑا دئیے جاتے ہیں ۔اچھا ہوتا کہ بچے کی شادی پر بیس لاکھ لٹانے کی بجائے اسے صاحب روزگار بنا دیتے ۔ مگر ہم سوشل پرسٹیج والا دماغ کا خلل کیوں ہاتھ سے جانے دیں؟۔مان لیا کہ مذکورہ معاملات کے سُدھار میں عام آدمی کا اختیار نہیں ، تاہم عوام چادر کے مطابق پائوں پھیلا کر اور '' لوگ کیا کہیں گے ‘‘ کے جملے سے جان چھڑا کراپنے لیے آسانیاں ضرور پیدا کرسکتے ہیں۔