عالمی خلائی توازن خطرے میں؟چین کا بڑا سیٹلائٹ منصوبہ
اسپیشل فیچر
دو لاکھ سیٹلائٹس چھوڑنے کی درخواست،عالمی خلائی برادری میں تشویش
چین کی جانب سے خلا میں دو لاکھ سیٹلائٹس چھوڑنے کی درخواست نے عالمی خلائی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماہرین اس اقدام کو ایک ممکنہ ''میگا کانسٹیلیشن‘‘ (mega constellation)کی تیاری قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف خلائی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے بلکہ زمین کے گرد مدار، خلائی ملبے، سائنسی مشاہدات اور عالمی سلامتی سے متعلق نئے سوالات بھی کھڑے کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا پہلے ہی نجی اور سرکاری خلائی منصوبوں کے باعث مدار کی گنجائش اور نظم و ضبط کے مسائل سے دوچار ہے۔
29 دسمبر کو ایک نئے قائم ہونے والے ادارے، انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو اسپیکٹرم یوٹیلائزیشن اینڈ ٹیکنالوجیکل اِنویشن نے دو سیٹلائٹ نیٹ ورکس کیلئے درخواستیں جمع کرائیں۔ان وسیع سیٹلائٹ مجموعوں کو ''سی ٹی سی 1‘‘ اور ''سی ٹی سی 2‘‘کا نام دیا گیا ہے، جن میں سے ہر ایک میں 96,714 سیٹلائٹس شامل ہوں گے، جو 3,660 مختلف مداروں میں پھیلے ہوں گے۔اگر یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو چین کی یہ نئی میگا کانسٹیلیشن، اسپیس ایکس کے 49ہزار اسٹار لنک سیٹلائٹس مدار میں بھیجنے کے جرات مندانہ منصوبے کو بہت پیچھے چھوڑ دے گی۔
''سی ٹی سی 1‘‘ اور ''سی ٹی سی 2‘‘ مل کر مدار میں بھیجے جانے والے سیٹلائٹس کا اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ ہوں گے اور عملی طور پر کم بلندی والے زمینی مدار کے ایک بڑے حصے تک دیگر حریفوں کی رسائی محدود کر دیں گے۔ چینی حکام کی جانب سے سیٹلائٹس کے مجوزہ استعمال پر خاموشی برقرار ہے، جس کے باعث ماہرین نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ یہ نیٹ ورک سلامتی یا دفاعی خطرہ بن سکتا ہے۔
''چائنا اِن سپیس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، نانجنگ یونیورسٹی آف ایروناٹکس کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹس درج ذیل امور پر توجہ مرکوز کریں گے۔(1)کم بلندی والے برقی مقناطیسی خلائی تحفظ، (2)مربوط دفاعی سلامتی نظام،(3) فضائی حدود کے برقی مقناطیسی خلائی تحفظ کا جائزہ ، (4) کم بلندی والے فضائی علاقے کی نگرانی و حفاظتی خدمات۔یہ تفصیل اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ یہ سیٹلائٹ نیٹ ورکس ممکنہ طور پر سپیس ایکس کے اسٹار شیلڈ سیٹلائٹس جیسا کردار ادا کریں گے، جنہیں امریکی فوج محفوظ نگرانی اور مواصلات کیلئے استعمال کرتی ہے۔
یہ درخواستیں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین (آئی ٹی یو) میں جمع کرائی گئی ہیں، جو اقوامِ متحدہ کا ایک ادارہ ہے اور خلا میں ریڈیو اسپیکٹرم کے استعمال کی منظوری دیتا ہے۔درخواستیں جمع ہونے کے بعد دیگر سیٹلائٹ آپریٹرز کو آئی ٹی یو کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسی مدار میں بھیجے جانے والے نئے سیٹلائٹس اس مجوزہ سیٹلائٹ نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ان سیٹلائٹس کے کئی غیر جارحانہ اور مفید استعمال بھی ہو سکتے ہیں، جن میں شدید موسمی حالات کی نگرانی، ہوائی جہازوں کیلئے نیوی گیشن کی سہولت اور اسٹارلنک طرز کی مواصلاتی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔تاہم یہ درخواستیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب چین اور امریکا کے خلائی عزائم کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔دونوں ممالک نہ صرف چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں بلکہ کم بلندی والے زمینی مدار (لو ارتھ آربٹ) میں برتری حاصل کرنے کیلئے بھی ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
فوجی سیٹلائٹس نام نہاد ''کِل میش‘‘ کا حصہ ہوتے ہیں، جو ایک خودکار نیٹ ورک ہے اور اس میں سینسرز، سیٹلائٹس، مواصلاتی نظام اور ہتھیار آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔یوکرین کی جنگ میں سیٹلائٹ مواصلات اور دشمن کے سیٹلائٹس کو جام کرنے کی صلاحیت نے تنازع کی نوعیت اور سمت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
مزید یہ کہ حالیہ عرصے میں تجزیہ کاروں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چینی سیٹلائٹس کا رویہ بتدریج زیادہ غیر متوقع اور خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ چین بظاہر ایسے متعدد 'فاسٹ موورز‘ (تیز رفتار سیٹلائٹس) کی آزمائش کر رہا ہے جو جیو اسٹیشنری مدار (GEO) کے گرد حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، گرتے ہوئے سیٹلائٹس کو دوبارہ مدار میں لے جا سکتے ہیں یا ممکنہ طور پر امریکی خلائی اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔گزشتہ برس چیٹم ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی اسپیس فورس میں انٹیلی جنس کے نائب سربراہ چیف ماسٹر سارجنٹ رون لیرچ نے کہاتھا کہ چینی جسے تجرباتی مواصلاتی سیٹلائٹس کہتے ہیں، ان میں سے کئی GEO میں موجود ہیں لیکن یہ GEO سیٹلائٹس مسلسل سرک رہے ہیں یا GEO بیلٹ کے اندر بار بار حرکت کر رہے ہیں، جو ایسے سیٹلائٹ کیلئے بالکل غیر معمولی رویہ ہے جس کا مقصد محض سیٹلائٹ کمیونی کیشن فراہم کرنا ہے۔مسٹر لیرچ نے مزید کہا کہ ہم (امریکی اسپیس فورس) اس وقت شدید خطرات دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر بے مثال اضافے اور غیر منظم مقابلے کی وجہ سے۔
دوسری جانب چین واضح کر چکا ہے کہ وہ خلا کو امریکا کے ساتھ مقابلے کیلئے ایک جائز محاذ سمجھتا ہے۔ 2021ء ہی میں صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ خلا ملک کیلئے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ ہے جسے بہتر طور پر منظم اور استعمال کیا جانا چاہیے اور اس سے بھی بڑھ کر اس کا تحفظ ضروری ہے۔ اس وقت چین کے تقریباً 1,000 سیٹلائٹس مدار میں موجود ہیں، جو 2010ء میں موجود تقریباً 40 سیٹلائٹس کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔اگرچہ یہ دونوں نئی میگا کانسٹیلیشنز چین کی بڑھتی ہوئی فوجی خلائی موجودگی کا حصہ بن سکتی ہیں، تاہم زیادہ سنگین خدشہ یہ ہے کہ یہ منصوبے خلا میں ایک ممکنہ ''لینڈ گریب‘‘ (مداری علاقوں پر قبضے) کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوں۔
چین کی سیٹلائٹ تیار کرنے کی صلاحیت
2021ء میں، روانڈا نے 27 مداروں میں 3لاکھ 27ہزار سیٹلائٹس کی کانسٹیلیشن کے لیے درخواست جمع کروائی تھی، جسے وہ حقیقت میں مکمل کرنے کے قابل نہیں تھا۔اسی طرح، یہ بظاہر انتہائی غیر ممکن لگتا ہے کہ چین ''سی ٹی سی 1‘‘ اور ''سی ٹی سی 2‘‘کو مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اگرچہ وہ چاہے۔چین کا موجودہ کمرشل سیکٹر سالانہ تقریباً 300 سیٹلائٹس تیار کر سکتا ہے، اور اس میں توسیع کے منصوبے کے تحت یہ تعداد 600 تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ریاستی شعبہ مزید کئی سو سیٹلائٹس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، چین کو دو لاکھ سیٹلائٹس مدار میں بھیجنے کیلئے ہر ہفتے 500 سیٹلائٹس لانچ کرنے ہوں گے، ہر ہفتے سات سال تک۔
جیو اسٹیشنری مدارکا وسیع حصہ متعددممالک کیلئے بند
آئی ٹی یو میں اپنے دعوے کے ذریعے، انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو اسپیکٹرم یوٹیلائزیشن اینڈ ٹیکنالوجیکل اِنویشن نے عملی طور پر جیو اسٹیشنری مدار (GEO) کے ایک وسیع حصے کو دیگر ملکوں کیلئے بند کر دیا ہے۔
آئی ٹی یو کے قواعد کے مطابق، انہیں درخواست جمع کروانے کے سات سال کے اندر کم از کم ایک سیٹلائٹ مدار میں بھیجنا ہوگا، اور باقی تمام سیٹلائٹس بھیجنے کیلئے مزید سات سال کی مہلت ہوگی۔ چین کیلئے یہ ممکن ہے کہ اس کانسٹیلیشن کو بنانے کے جواز موجود ہوں، لیکن کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو چین کو یہ اجازت دے کہ وہ 'ڈمی‘ درخواست جمع کر کے کسی خلائی علاقے کو بعد میں استعمال کیلئے محفوظ کر لے۔