مصنوعی ذہانت میں اہم پیشرفتٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے جہاں انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار میں بھی ایک بڑی تبدیلی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند برسوں میں روبوٹ پولیس افسر حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں اور 2031ء تک دنیا کے کئی شہروں کی سڑکوں پر گشت کرتے دکھائی دے سکتے ہیں۔ یوں سائنس فکشن فلموں کا تصوراتی کردار''روبو کوپ‘‘ اب محض کہانی نہیں رہے گا بلکہ عملی دنیا میں ایک نئی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، چہرہ شناسی ٹیکنالوجی، خودکار نگرانی کے نظام اور ڈیٹا اینالیٹکس میں تیز رفتار پیش رفت نے اس خیال کو قابلِ عمل بنا دیا ہے۔ جدید روبوٹ نہ صرف مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کر سکیں گے بلکہ ہجوم کو کنٹرول کرنے، ٹریفک کی نگرانی کرنے اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں گے۔ ان میں نصب کیمرے اور سینسر لمحہ بہ لمحہ معلومات مرکزی کنٹرول روم تک پہنچائیں گے، جس سے جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم اس ممکنہ پیش رفت کے ساتھ کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ کیا روبوٹ انسانی حساسیت اور فیصلہ سازی کی جگہ لے سکیں گے؟ کیا عوام انہیں قبول کریں گے؟ اور سب سے اہم، شہری آزادیوں اور پرائیویسی کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا؟ بلاشبہ، روبوٹ پولیس کا تصور جہاں جدیدیت کی علامت ہے، وہیں اس کے سماجی اور اخلاقی پہلوؤں پر سنجیدہ بحث بھی ناگزیر ہے۔ایک ماہر نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ صرف پانچ برسوں میں روبوٹ پولیس افسر ہماری سڑکوں پر گشت کرتے نظر آئیں گے۔ یونیورسٹی آف ڈیلاویئر سے تعلق رکھنے والے پروفیسر آئیون سن کے مطابق حقیقی زندگی کے یہ ''روبو کوپس‘‘ مشتبہ افراد کی نشاندہی کرنے، ان کا تعاقب کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دنیا بھر کی پولیس فورسز بڑھتے ہوئے جرائم، منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور افرادی قوت کی کمی جیسے مسائل سے پہلے ہی نبرد آزما ہیں۔چین میں انسانی شکل کے روبوٹس پہلے ہی استعمال ہو رہے ہیں، اور پروفیسر سن کا خیال ہے کہ جلد ہی دیگر ممالک بھی اس رجحان کو اپنالیں گے۔ان کی پیش گوئی ہے کہ 2031ء تک روبوٹ پولیس افسر چہرہ شناسی ٹیکنالوجی کے ذریعے مجرموں کی شناخت کرنے، ان کا پیچھا کرنے اور انہیں حراست میں لینے کے قابل ہو جائیں گے۔اگرچہ ممکن ہے کہ انہیں ایک انسانی ساتھی کی ضرورت ہو، تاہم خطرناک حالات میں وہ انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امکانات کی کوئی حد نہیں۔ مثال کے طور پر اگر ڈکیتی ہو جائے تو وہ موقع پر مکمل کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔وہ پانچ میل تک تعاقب کر سکتے ہیں اور تھکن محسوس نہیں کریں گے۔ اسی دوران وہ مشتبہ شخص کی حیاتیاتی معلومات اور خصوصیات کو اسکین بھی کر سکتے ہیں۔ ان کی مصنوعی ذہانت 200 میٹر کے فاصلے سے یہ معلوم کر سکتی ہے کہ مشتبہ شخص کے پاس ہتھیار ہے یا نہیں، جو ایک انسانی افسر کیلئے ممکن نہیں۔اگرچہ روبوٹ پولیس افسران کی تعیناتی سے واضح قانونی اور اخلاقی سوالات جنم لیتے ہیں، تاہم پروفیسر آئیون سن کا ماننا ہے کہ ان کا نفاذ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال یا تیز رفتار تعاقب جیسے اقدامات اب محض تصور نہیں رہے، یہ حقیقت بننے جا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں انسانی پولیس اہلکاروں کو بھی مصنوعی ذہانت سے لیس ہیلمٹس فراہم کیے جا سکتے ہیں، جو ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔ مثال کے طور پر کسی ہنگامی صورتحال میں اے آئی یہ تجزیہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ گولی چلانی چاہیے یا نہیں۔پروفیسر سن نے خبردار کیا ہے کہ روبوٹ پولیس کو مقامی کمیونٹیز میں شامل کرنے سے قبل متعدد امور پر سنجیدہ غور و خوض ضروری ہے، خصوصاً قانون سازی اور شہریوں کی نجی زندگی کے تحفظ سے متعلق معاملات پر۔ اس وقت وہ برطانیہ سمیت دنیا بھر کے پولیس افسران کی رائے جاننے کیلئے ایک سروے کر رہے ہیں، جس میں اے آئی سے لیس پولیس اہلکاروں کے بارے میں ان کے خیالات معلوم کیے جا رہے ہیں۔پروفیسر سن کا خیال ہے کہ مغربی ممالک بشمول برطانیہ، میں پولیس افسران ممکنہ طور پر جرائم سے نمٹنے والے روبوٹ کو ترجیح دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک روبوٹ ممکنہ طور پر تین افسران کا کام انجام دے سکتا ہے اور اسے وقفے یا آرام کی ضرورت نہیں ۔پروفیسر سن کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق، جو ایشین جرنل آف کرائمینالوجی میں شائع ہوئی، میں لکھا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی اداروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور جرائم کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کے درمیان، دنیا بھر کے علاقوں نے پولیس آپریشنز میں مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس روبوٹ شامل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ چین، امریکہ، سنگاپور اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے مختلف خودمختاری کی سطح کے ساتھ روبوٹک نظام آزمایا ہے، جن میں اکثر چہرہ شناسی اور پیش گوئی کرنے والے الگوردمز جیسی ٹیکنالوجیز شامل کی گئی ہیں۔ یہ پیش رفت پولیس کے تکنیکی انقلاب کے وسیع رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں روبوٹ سمیت اے آئی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، تاکہ عملی کارکردگی، پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور آخر کار عوام کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔