بسکنگ کا منفرد عالمی ریکارڈ
اسپیشل فیچر
سڑک کنارے فن کا مظاہرہ کرنے والی نوجوان آرٹسٹ ''پیانو بائیک گرل‘‘ کلوئی جن کا تعلق جنوب مغربی انگلینڈ کے علاقے ڈیوون سے ہے، ایک بار پھر اپنے مخصوص انداز کے ساتھ عوام کے درمیان لوٹ آئی ہیں۔ چند روز قبل ان کی وین کی چوری نے جہاں ان کے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا، وہیں یہ واقعہ ان کیلئے ایک کڑا امتحان بھی ثابت ہوا۔ اسی وین میں ان کا پرفارمنس سے متعلق ضروری سامان موجود تھا، جس کے بغیر ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں تقریباً ناممکن ہو گئی تھیں۔ تاہم حوصلہ اور عزم کی مثال قائم کرتے ہوئے کلوئی نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ اپنی ''پیانو بائیک‘‘ کے ساتھ سڑکوں پر موسیقی کا جادو جگانے کا فیصلہ کیا۔
کلوئی اپنی منفرد پہچان کی بدولت سوشل میڈیا اور شہری حلقوں میں خاصی مقبول ہیں۔ وہ سائیکل کے ساتھ منسلک پیانو پر مختلف دھنیں بجاتی ہیں اور راہگیروں کو چند لمحوں کیلئے روزمرہ کی مصروفیات سے نکال کر موسیقی کی دنیا میں لے جاتی ہیں۔ ان کی پرفارمنس نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ مثبت توانائی اور امید کا پیغام بھی دیتی ہے۔ وین کی چوری کے بعد یہ واپسی محض ایک فنکار کی واپسی نہیں بلکہ عزم، خود اعتمادی اور فن سے وابستگی کی روشن مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
قدیم فنِ بسکنگ (busking) عوامی جگہوں پر پرفارم کرنا اور رضاکارانہ چندہ وصول کرنا، رومی دور تک پھیلا ہوا ہے حالانکہ لفظ ''بسکنگ‘‘ نے انگریزی زبان میں 1800 کی دہائی کے وسط میں ہی شہرت حاصل کی۔
بہت سے گلوکار و موسیقار شاید اپنے کریئر کا آغاز انہی مصروف شہر کے گوشوں یا کم روشنی والے سب ویز سے کر چکے ہیں۔ ایڈ ایلی جوہانسن (Ed Alleyne Johnson )، ٹریسی چیپمین (Tracy Chapman)، آسٹریلوی بینڈ ''5 سیکنڈز آف سمر‘‘، مائیکل روزنبرگ (جسے ''پسینجر‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) اور ایڈ شیئرن(Ed Sheeran)۔ یہ وہ نام ہیں جنہوں نے شہرت اور دولت کیلئے ''بسکنگ‘‘ کے معروف راستے پر قدم رکھا یا اپنے پاؤں جمائے۔
برطانوی گلوکارہ کرسٹینا مائلز نے 2005ء میں بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے ''بسک آئیڈل‘‘ میں کامیابی حاصل کی۔ اب ''بسکنگ‘‘ کی دنیا میں ایک نیا ستارہ نمودار ہوا ہے، جس نے جس نے روایتی قواعد کو توڑا ہے کہ سٹریٹ پرفارمنس صرف مائیکروفون، پرانی گٹار یا بے تال کی بورڈ کے ساتھ ہی کی جا سکتی ہے۔
کلوئی ماری ایسٹن نے حال ہی میں سب سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں ''بسکنگ‘‘ کرنے والی گلوکارہ کا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ وہ 190 شہروں میں اب تک ''بسکنگ‘‘ کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔وہ جنوب مغربی انگلینڈ کے علاقوں لیسٹر، اِپس وچ، آئل آف وائٹ اور ویلز کے علاقے پیمبروک شائر میں واقع سینٹ ڈیویڈز (آبادی کے لحاظ سے برطانیہ کا سب سے چھوٹا شہر) تک جا چکی ہیں۔اپنی ویب سائٹ پر وہ ہر بسکنگ سفر کو نقشے میں مقام کا نام شامل کر کے دستاویزی شکل دیتی ہیں، اور ان کی خواہش ہے کہ ایک دن برطانیہ کے ہر قصبے اور شہر کا دورہ کریں،جن کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دن ہو یا رات، اور موسم کیسا ہی کیوں نہ ہو، ''پیانو بائیک گرل‘‘ کلوئی ہکی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ اکتوبر 2025ء میں اسٹافورڈ شائر کے شہر ٹیمورتھ میں بے رحم چوروں کے ہاتھوں ان کی ٹورنگ وین کی چوری،جس نے وقتی طور پر ان کی بسکنگ سرگرمیوں کو روک دیا تھا،بھی اس باہمت اور پُرعزم نوجوان خاتون کو اپنے مشن سے باز نہ رکھ سکی۔وہ ایک خوبصورت ہلکے نیلے رنگ کے الیکٹرک پیانو کے ساتھ بسکنگ کرتی ہیں، جو ایک سائیکل کے ساتھ منسلک ہے۔
ڈیون کے علاقے اِلیفراکامب سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ کلوئی بچپن ہی سے گانے اور پرفارم کرنے کی شوقین ہیں۔ 14 برس کی عمر میں انہوں نے بسکنگ کا آغاز کیا۔ ابتدا میں وہ گٹار بجاتی تھیں، مگر اس سے ان کی انگلیوں میں تکلیف ہوجاتی تھی۔ اپنے والد لی کے مشورے پر انہوں نے پیانو آزمایا۔ والد نے محبت سے ان کیلئے ایک منفرد ''پیانو بائیک‘‘ تیار کی، جس نے ان کے فنی سفر کو باقاعدہ طور پر رواں کر دیا۔کلوئی 18 برس کی عمر تک مختلف میوزیکل تھیٹر گروپس سے وابستہ رہیں۔
اُنہوں نے پیٹروک (موجودہ نارتھ ڈیون کالج) سے میوزک کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں BIMM (برٹش اینڈ آئرش ماڈرن میوزک) برسٹل میں داخلے کی پیشکش ہوئی، مگر پیانو بائیک کے ذریعے طے شدہ پرفارمنسز کی وجہ سے انہوں نے یہ پیشکشقبول نہ کی اور فیصلہ کیا کہ اسی راستے کو بھرپور انداز میں آگے بڑھایا جائے۔یہ ایسا فیصلہ تھا جس پر انہیں کبھی پچھتاوا نہیں ہوا۔ کلوئی کہتی ہیں، ‘‘میں اب ملک بھر کے زیادہ سے زیادہ شہروں میں جا کر بسکنگ کرتی ہوں، اس کے علاوہ کاؤنٹی شوز اور شادیوں میں بھی پرفارم کرتی ہوں۔
کلوئی مستقبل میں اسٹیڈیم ٹورز کرنے اور پیشہ ورانہ سطح پر موسیقی ریکارڈ اور ریلیز کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ یوں ان کا سفر محض سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے اسٹیجز تک پہنچنے کی واضح منزل کی جانب گامزن ہے۔