آج تم یاد بے حساب آئے!آغا طالش: ایک بڑا اداکار (1998-1923ء)
اسپیشل فیچر
٭... 10 نومبر 1923ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا۔
٭... والد پولیس میں ملازم تھے جن کے مختلف شہروں میں تبادلوں کی وجہ سے آغا طالش کو شہروں اور انسانوں کو دیکھنے کا بھر پور موقع ملا۔
٭... قیامِ پاکستان کے بعدریڈیو پشاور سینٹر سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور پھر فلم کی طرف آگئے۔
٭... تقسیم سے قبل انہوں نے بمبئی میں بننے والی ایک فلم میں بھی کام کیا تھا۔
٭... 1962ء میں فلم ''شہید‘‘ نے آغا طالش کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
٭...اپنی طویل فنی زندگی میں 400سے زائد اردو، پنجابی فلموں میں کام کیا۔
٭... ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی، فرنگی، زرقا، وطن، نیند، زینت، امرائو جانِ ادا اپنے وقت کی کامیاب فلمیں تھیں۔
٭...وہ کبھی نواب کے بہروپ میں سکرین پر نظر آئے تو کہیں ایمان دار اور فرض شناس پولیس افسر، کسی فلم میں انہوں نے ڈاکو کا روپ دھارا تو کہیں ایک مجبور باپ کے رول میں شائقین کے دل جیتے۔
٭... فلم کے سیٹ پر بروقت پہنچنا، اپنے سکرپٹ اور کردار پر غور کرنا، کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ڈائریکٹر سے پوچھنا اس بڑے اداکار کا شیوہ تھا۔
٭... شاندار اداکاری کی بدولت انہوں نے پاکستان فلم نگری کا نگار ایوارڈ سات مرتبہ اپنے نام کیا۔
٭... چند مفاد پرست فلمسازوں کے رویے کے باعث فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
٭... 19فروری 1998ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔