ایران کے شہرمشہد میں واقع مسجد گوہر شاہ اسلامی فن تعمیر، روحانیت اور تاریخ کا ایک شاندار سنگم ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد دراصل امام رضا کے روضہ مبارک کے وسیع و عریض احاطے میں واقع ہے اور اسے خطے کی اہم ترین مذہبی اور تاریخی عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 15ویں صدی میں تیموری سلطنت کے دور میں ہوئی اور اس کی بنیاد تیموری فرمانروا شاہ رخ کی اہلیہ بیگم گوہر شاہ نے رکھی تھی، جن کے نام پر اس مسجد کو گوہر شاہ یا گوہرشاد مسجد کہا جاتا ہے۔گوہرشاہ بیگم اپنے دور کی نہایت بااثر اور صاحب ذوق خاتون تھیں۔ انہوں نے 1418ء میں اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تاکہ زائرین حرم کو عبادت کیلئے ایک وسیع اور خوبصورت مقام میسر آسکے۔ اس مسجد کی تعمیر کیلئے اس دور کے ممتاز معمار شیرازی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ استاد شیرازی کی زیر نگرانی یہ مسجد بارہ سال میں مکمل ہوئی۔ مسجد سمر قندی طرز تعمیر سے تیار کی گئی۔تیموری دور اسلامی فن تعمیر کے عروج کا زمانہ تھا، چنانچہ مسجد کی تعمیر میں اس دور کی جمالیاتی روایات پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہیں۔ خط کوفی میں قرآنی آیات اتنی خوشخطی سے تحریر کی گئی ہیں کہ چھ صدیاں گزرنے کے بعد بھی زمانے کے حوادث ان کی آب و تاب میں سرموفرق نہیں لا سکے۔ گوہر شاہ مسجد کا فن تعمیر اپنی دلکشی اور نفاست کے باعث بے مثال سمجھا جاتا ہے۔ مسجد کا وسیع صحن، بلند و بالا ایوان، دلکش گنبد اور باریک و نفیس نیلی ٹائلوں کی آرائش دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ پیازی طرز کا گنبد مسجد کی شان ہے۔ گنبد کا رنگ فیروزی ہے، مسجد کا کل رقبہ 101292مربع فٹ ہے اور صحن 180فٹ لمبا اور 160فٹ چوڑا ہے۔ مسجد کے صحن میں سنگ مر مر استعمال کیا گیا ہے صحن کے تینوں اطراف میں برآمدے بنائے گئے ہیں۔ مسجد کے دو مینار ہیں جو 131فٹ بلند ہیں۔ گنبد کا قطر49فٹ اور اس کا محیط207فٹ ہے صحن سے مسجد کے اندر ہال میں داخل ہونے کیلئے نو محرابی دروازے ہیں۔ گنبد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ دہری تہہ میں بنایا گیا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں سرخ اینٹوں، ٹائلوں اور سنگ مر مر کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس مسجد کے چار بڑے ایوان ہیں جو ایرانی طرزِ تعمیر کی کلاسیکی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ مسجد کے گنبد اور دیواروں پر بنے نقش و نگار، قرآنی آیات اور خطاطی کے نمونے اسلامی فنونِ لطیفہ کی اعلیٰ مثالیں پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مسجد کے اندرونی حصے میں موجود محراب اور منبر بھی نہایت خوبصورتی سے آراستہ ہیں۔ مسجد کا منبر اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ منبر کی تیاری میں کہیں بھی لوہے کی میخ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ رنگین ٹائلوں، جیومیٹرک نقشوں اور نفیس خطاطی کے امتزاج نے اس مسجد کو فن تعمیر کا ایک زندہ عجائب گھر بنا دیا ہے۔چونکہ یہ مسجد امام رضا کے روضہ مبارک کے قریب واقع ہے، اس لیے یہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین بڑی تعداد میں نماز اور عبادت کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ صدیوں سے یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی ہے بلکہ اسلامی ثقافت، تعلیم اور روحانی اجتماع کا بھی اہم مقام رہی ہے۔ رمضان المبارک، محرم اور دیگر مذہبی مواقع پر یہاں خصوصی اجتماعات اور عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔مسجد کے ہال میں ہاتھ سے تیار کردہ خوبصورت ایرانی قالین بچھائے گئے ہیں۔ مسجد سے ملحق ایک بڑی لائبریری ہے جس میں 35ہزار کتب رکھی گئی ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ مسجد زلزلوں اور بعض سیاسی ہنگاموں سے متاثر بھی ہوئی، تاہم ہر بار اس کی مرمت اور بحالی کا کام کیا گیا۔ ایرانی حکومت اور مذہبی اداروں نے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کیلئے مسلسل اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ آئندہ نسلوں کیلئے بھی باقی رہے۔ صفوی حکمران شاہ عباس نے مسجد گوہر شاہ کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خاص توجہ دی۔1803ء میں زلزلے نے اس مسجد کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا جس کی بعد میں مرمت کر دی گئی۔مسجد گوہر شاہ نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے بلکہ اسلامی تہذیب، فن تعمیر اور روحانی روایت کی عظیم علامت بھی ہے۔ اس کی دلکش عمارت، تاریخی پس منظر اور مذہبی اہمیت اسے عالم اسلام کی ممتاز مساجد میں شامل کرتی ہے۔ آج بھی جب زائرین اس مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں تاریخ، روحانیت اور فن کے حسین امتزاج کا دلنشیں منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔