ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بڑا بحران

ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بڑا بحران

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


70 فیصد انٹرنیٹ کی بندش، دنیا بھر میں ہنگامی حالت
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک ہی دن میں دنیا بھر کی 70فیصد سے زائد ویب سائٹس یا تو بند ہونے پر مجبور ہو جائیں یا سائبر حملوں کے شدید خطرے کی زد میں آ جائیں؟ یہ حالیہ ڈیجیٹل بحران اس وقت پیدا ہوا جب انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں کچھ ایسی سنگین نقائص اور کمزوریاں سامنے آئیں جن سے پہلے دنیا غافل تھی۔ اس واقعہ نے نہ صرف عالمی سطح پر کاروباری اداروں، حکومتوں اور عام صارفین کو ہلا کر رکھ دیا، بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ ہماری ڈیجیٹل سکیورٹی کتنی نازک ڈور سے بندھی ہے۔ جیسے ہی یہ خامیاں آشکار ہوئیں، دنیا بھر کی بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔
21اکتوبر کو دنیا بھر میں سرکاری پورٹلزاور ہزاروں ویب سائٹس بند ہو گئیں، کیونکہ ویب سائٹ آپریٹرز دو انتہائی اہم سوفٹ ویئر خامیوں سے بچاؤ کیلئے ہنگامی اقدامات کر رہے تھے۔ یہ خلل ''پی ایچ پی‘‘ (PHP) نامی پروگرامنگ لینگویج میں موجود کمزوریوں کے باعث پیدا ہوا، جو دنیا کی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس کو چلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ حملے کے خدشات کے پیش نظر نیدرلینڈز، فن لینڈ، فرانس اور ڈنمارک سمیت کئی ممالک میں ویب سائٹس اور آن لائن خدمات کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا۔
امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) اور ایف بی آئی (FBI) نے پی ایچ پی استعمال کرنے والی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ سکیورٹی اپ ڈیٹس فوری طور پر انسٹال نہیں کر سکتیں، تو وہ متاثرہ سسٹمز کو آف لائن کر دیں۔ امریکہ کی بڑی ویب سائٹس اور آن لائن سروسز، بشمول ایٹسی (Etsy)، ویکیپیڈیا (Wikipedia) اور ناسا (NASA) پی ایچ پی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہیں، جو شاپنگ، معلومات اور سرکاری خدمات میں اس سافٹ ویئر کی وسیع رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔ یورپ، آسٹریلیا، جاپان اور برطانیہ کی سائبر سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی پی ایچ پی صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں یا فکسز (Fixes) لگانے تک متاثرہ ویب سائٹس کو آف لائن کر دیں۔
ان خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکرز کسی پاس ورڈ یا اکاؤنٹ کے بغیر متاثرہ سرورز کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک کامیاب حملہ مجرموں کو سرور پر ذخیرہ شدہ معلومات چوری کرنے یا کسی قابلِ اعتماد ویب سائٹ کو اس کے وزٹرز پر حملے کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔
انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ''کلاؤڈ فلیئر‘‘ (Cloudflare) نے سائبر حملوں کے شواہد کی اطلاع دی ہے، جبکہ دوسری جانب ویب سائٹ آپریٹرز سکیورٹی فکسز (Security Fixes) انسٹال کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔
ڈروپال ایسوسی ایشن(Drupal Association) کی عبوری چیف ایگزیکٹو ٹفنی فیرس(Tiffany Farriss) کے مطابق ''پچھلے 20 سالوں میں جاری ہونے والے ''پی ایچ پی‘‘ کے کسی بھی ورژن کو استعمال کرنے والے تمام سرورز اس خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ مسئلہ انٹرنیٹ کے ایک بہت بڑے حصے کو متاثر کرتا ہے‘‘۔
انٹرنیٹ انٹیلی جنس فرم ''سینسز‘‘ (Censys) کے اعداد و شمار کے مطابق، 26 لاکھ ہوسٹس میں سے تقریباً 15 لاکھ نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ پی ایچ پی کا ایسا ورژن چلا رہے ہیں جس کی اصلاح کیلئے فی الحال کوئی اپ ڈیٹ موجود نہیں ہے۔ یہ دونوں خامیاں اس بات سے متعلق ہیں کہ پی ایچ پی سرور کی میموری کو کس طرح ہینڈل کرتا ہے۔ ان میں سے ایک خامی میموری کا مسئلہ پیش آنے پر سافٹ ویئر کو معلومات کی غلط پروسیسنگ پر مجبور کر سکتی ہے، جبکہ دوسری خامی سافٹ ویئر کو میموری کی اس معلومات کو دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے جو پہلے ہی جاری کی جا چکی ہو۔
اگرچہ سائبر سکیورٹی پلیٹ فارم ''پیچ سٹیک‘‘ (Patchstack) کا کہنا ہے کہ اسے سائبر حملوں کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، لیکن ان حملوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پی ایچ پی کی دیکھ بھال کرنے والی سکیورٹی ٹیم نے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پیچز (Patches) جاری کر دیے ہیں۔ اب ویب سائٹ آپریٹرز کو ہیکرز سے پہلے ان اپ ڈیٹس کو انسٹال کرنے کی ریس کا سامنا ہے، کیونکہ ہیکرز مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ان اپ ڈیٹس کا تجزیہ کر کے ان سسٹمز پر حملے کرنے کا طریقہ ڈھونڈ سکتے ہیں جو ابھی تک غیر محفوظ ہیں۔
ان کمزوریوں کو دریافت کرنے والی سکیورٹی کمپنی ''کیلف‘‘ (Calif) کے چیف ایگزیکٹو تھائی ڈونگ نے ''دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ کو بتایا کہ ٹوئٹر (ایکس) پر کوئی بھی شخص ان پیچز کو اٹھا کر اس پر AI کا استعمال کر سکتا ہے اور حملے کا کوئی طریقہ پوسٹ کر سکتا ہے۔اس کے بعد ایک آفت یا تباہی مچ جائے گی۔
یورپی یونین کی تکنیکی سائبر سیکیورٹی مشاوارتی باڈی ''سرٹ ای یو‘‘ (CERT-EU) کے مطابق ''تنظیموں کو چاہیے کہ جب تک اصلاحی اپ ڈیٹ (Fix) دستیاب نہ ہو، وہ انٹرنیٹ سے منسلک ایپلی کیشنز کو پبلک نیٹ ورکس سے الگ کرنے پر غور کریں۔نیدرلینڈز میں، قومی سائبر سکیورٹی سینٹر کی پیروی کرتے ہوئے متعدد تنظیموں نے عوام کی رسائی والی ویب سائٹس کو آف لائن کر دیا۔
ان میں روٹرڈیم کی بندرگاہ، سرکاری پورٹل Overheid.nl، قومی فٹبال ایسوسی ایشن (KNVB)، ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس اور متعدد ہسپتالوں کی ویب سائٹس شامل تھیں۔
ڈنمارک کی میونسپل آئی ٹی کمپنی ''کومبٹ‘‘ (Kombit) کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے قومی اسکول کمیونیکیشن پلیٹ فارم سمیت متعدد خدمات کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
یہ خلل فن لینڈ میں اور بھی زیادہ وسیع تھا، جہاں سرکاری آئی ٹی سروسز فراہم کرنے والے ادارے ''والٹوری‘‘ (Valtori) نے کہا کہ حفاظتی تدبیر کے طور پر حکومت کی عوامی نیٹ ورک خدمات کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔
فرانس کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اپ ڈیٹ کا انتظار کرتے ہوئے مقامی حکومتی انتظامی ویب سائٹس کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا ہے۔ کنگز کالج لندن کے وزٹنگ سینئر ریسرچ فیلو، لوکاس اولیجونک کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بڑھنے والے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیے جانے والے ہیکنگ کے حملے اس خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
پی ایچ پی (PHP) ایک ایسی پروگرامنگ لینگویج ہے جو ویب سائٹس کو چلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ جب کوئی وزٹر کوئی پیج لوڈ کرتا ہے، تو PHP چلانے والا سرور مواد کو یکجا کرتا ہے اور اسے براؤزر پر بھیجتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خاموش قاتل کی آہٹ!

خاموش قاتل کی آہٹ!

وہ روزمرہ علامات جو ادھیڑ عمر میں دل کی بیماری کا اشارہ ہو سکتی ہیںجب بھی دل کے دورے کا ذکر ہوتا ہے، تو ذہن میں سب سے پہلے سینے میں شدید اور ناقابلِ برداشت درد کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ درمیانی عمر میں دل کی بیماریاں اپنی عام علامات میں سامنے نہیں آتیں؟ طبّی تحقیق کے مطابق، 40 سے 60 سال کی عمر کے درمیان دل کی بیماری کی علامات انتہائی عام اور روزمرہ کی تکالیف کا روپ دھار سکتی ہیں،مثلاً جبڑے یا گردن میں عجیب سا دباؤ، بلاوجہ شدید پسینہ آنا، تھوڑی سی مشقت پر سانس پھولنا یا بغیر کسی وجہ کے شدید تھکاوٹ۔ وقت پر ان خاموش علامتوں کو پہچاننا اور بروقت طبی امداد حاصل کرنا آپ کیلئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ جبڑے، گردن اور کمر کا کھنچاؤدل کی تکلیف کا مطلب صرف سینے کا درد نہیں ہوتا۔ دل سے نکلنے والے اعصاب (Nerves) جب دماغ کو درد کا سگنل بھیجتے ہیں، تو یہ سگنل جسم کے دیگر حصوں جیسے جبڑے، گردن، کندھوں یا پیٹھ کے بالائی حصے میں محسوس ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو بغیر کسی چوٹ یا دانت کے مسئلے کے جبڑے میں جکڑن یا کندھوں میں مسلسل دباؤ محسوس ہو جو آرام کرنے سے بھی ختم نہ ہو، تو یہ دل کی نالیوں میں رکاوٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔ غیر معمولی اور ٹھنڈا پسینہ آنااگر آپ کسی ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھے ہیں یا موسم خوشگوار ہے، اور اچانک آپ کو بے تحاشا ٹھنڈا پسینہ آنے لگے، تو اسے معمولی نہ لیں۔ جب دل شریانوں میں رکاوٹ کے باعث جسم کو خون صحیح طرح پمپ نہیں کر پاتا، تو اسے زیادہ زور لگانا پڑتا ہے۔ اس اضافی مشقت کے نتیجے میں جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے جسے کنٹرول کرنے کیلئے نروس سسٹم پسینہ خارج کرتا ہے۔ بغیر کسی سخت جسمانی مشقت کے شدید پسینہ آنا فوری طبی امداد کا تقاضا کرتا ہے۔معمولی سی مشقت پر سانس پھولناسیڑھیاں چڑھتے ہوئے، ہلکی سی چہل قدمی کرتے ہوئے یا روزمرہ کے گھریلو کام کاج کے دوران اگر آپ کا سانس اس طرح پھولنے لگے جیسے آپ نے کوئی لمبی دوڑ لگائی ہو، تو یہ دل کی کمزوری کی نشانی ہے۔ جب دل صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا تو پھیپھڑوں کو آکسیجن کی مطلوبہ مقدار نہیں ملتی، جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ دائمی تھکاوٹ اور غنودگیاگر آپ رات کو پوری نیند لینے کے باوجود پورا دن تھکن اور نڈھال پن محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا دل جسم کے اعضاء تک آکسیجن سے بھرپور خون پہنچانے میں دشواری کا شکار ہے۔ یہ علامت خاص طور پر 40 سال سے زائد عمر کے افراد میں دل کے دورے سے چند ہفتے پہلے دیکھی جاتی ہے۔ معدے کی سوزش، متلی اور بدہضمیاکثر لوگ دل کے دورے کے شروعاتی احساس کو معدے کی تیزابیت یا بدہضمی سمجھ کر اینٹاسڈ (Antacid) کی گولیاں کھا لیتے ہیں اور اپنے لیے خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ دل اور معدہ جسم میں ایک دوسرے کے بہت قریب واقع ہیں۔ اگر معدے میں جلن کے ساتھ چکر آئیں، متلی ہو یا الٹی کی کیفیت بنے، تو اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ معدے کے بجائے دل کی تکلیف ہو۔خواتین اور مردوں میں علامات کا فرقطبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ ادھیڑ عمر میں دل کی بیماری کی علامات مردوں اور خواتین میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مردوں میں عام طور پر سینے میں جکڑن اور دباؤ کی روایتی علامات زیادہ دیکھی جاتی ہیں، جبکہ خواتین میں غیر روایتی علامات جیسے شدید تھکاوٹ، چکر آنا، متلی، اور پیٹھ یا جبڑے کا درد زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین اکثر ان علامات کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور ہسپتال پہنچنے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیرادھیڑ عمری زندگی کا وہ موڑ ہے جہاں صحت کے معاملے میں ذرا سی لاپرواہی بڑی مصیبت بن سکتی ہے۔ ماہرین امراضِ قلب درج ذیل بنیادی باتوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔(1)40 سال کی عمر کے بعد سال میں کم از کم ایک بار بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کا معائنہ لازمی کروائیں۔(2) اگر کوئی ایسی جسمانی تکلیف ہو جو پہلے کبھی نہ ہوئی ہو اور وہ بار بار ہو رہی ہو، تو اسے فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں۔(3) روزانہ 30 منٹ کی واک، متوازن غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور ذہنی تناؤ کو کم کرنا دل کی صحت کیلئے بہترین ضامن ہے۔ دل کی بیماری اب صرف بڑھاپے کا عارضہ نہیں رہی، بلکہ ہماری غیر متوازن خوراک، ذہنی تناؤ اور سست طرزِ زندگی کی وجہ سے یہ ادھیڑ عمر افراد کو تیزی سے اپنا نشانہ بنا رہی ہے۔ اپنے جسم کی آواز سننا اور وقت پر علامات کی پہچان کرنا ہی اس خاموش قاتل سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ یاد رکھیے، بروقت طبی امداد نہ صرف آپ کی زندگی بچا سکتی ہے بلکہ آپ کو ایک صحت مند اور فعال مستقبل بھی فراہم کر سکتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ونڈوز ایکس پی کا آغاز25 اکتوبر 2001ء کو امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنا نیا آپریٹنگ سسٹم ''ونڈوز ایکس پی‘‘ متعارف کرایا۔ اس سافٹ ویئر نے کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کو نسبتاً آسان، خوب صورت اور بہتر تجربہ فراہم کیا۔ ونڈوز ایکس پی اپنے دلکش انٹرفیس، بہتر کارکردگی اور استعمال میں سہولت کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہوا۔ یہ مائیکروسافٹ کے کامیاب ترین آپریٹنگ سسٹمز میں شمار ہوتا ہے۔ٹورنٹو اسٹاک ایکسچینج کا قیام25 اکتوبر 1861ء کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ٹورنٹو اسٹاک ایکسچینج قائم کی گئی۔ یہ ادارہ حصص اور دیگر مالیاتی سیکیورٹیز کی خرید و فروخت کیلئے ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ اس کے قیام کا مقصد سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو ایسا منظم پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ممکن ہو۔ آج یہ دنیا کی اہم اسٹاک مارکیٹوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی مالیاتی نظام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خلائی مشن سویوز 2 روانہ25 اکتوبر 1968ء کو سوویت یونین نے خلائی جہاز ''سویوز 2‘‘ روانہ کیا۔ یہ مشن سوویت خلائی پروگرام کا حصہ تھا، جس کا مقصد خلائی جہازوں کی صلاحیتوں کو جانچنا اور انسان بردار خلائی پروازوں کیلئے تکنیکی تیاریوں کو آگے بڑھانا تھا۔ سویوز 2 کو سویوز 3 کے ساتھ خلائی رابطے اور ملاپ کی مشق کے تناظر میں بھی اہمیت حاصل تھی۔ اگرچہ اس مشن میں کوئی خلاباز سوار نہیں تھا، تاہم اس نے سوویت یونین کی خلائی تحقیق اور مستقبل کے خلائی مشنز کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ بغداد میں بم دھماکے25 اکتوبر 2009ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہونے والے تباہ کن بم دھماکوں نے شہر کو لرزا کر رکھ دیا۔ ان حملوں میں 155 افراد ہلاک اور کم از کم 721 زخمی ہوگئے۔ دھماکوں کے نتیجے میں متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں۔ یہ حملے عراق میں جاری بدامنی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران پیش آئے۔ اس سانحے نے ملک کی سلامتی کی صورت حال پر سنگین سوالات اٹھائے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ امریکہ کی گریناڈا پر فوجی چڑھائی25 اکتوبر 1983ء کو امریکا اور اس کے کیریبین اتحادیوں نے جزیرہ نما ملک گریناڈا پر فوجی حملہ کیا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ملک کے وزیراعظم موریس بشپ اور ان کے متعدد ساتھیوں کو فوجی بغاوت کے دوران قتل کیے جانے کے چھ روز گزر چکے تھے۔ امریکی حکومت نے اس فوجی کارروائی کا جواز اپنے شہریوں کے تحفظ اور خطے میں استحکام کی بحالی کو قرار دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں گریناڈا میں سیاسی صورت حال تبدیل ہوگئی اور ملک میں امریکی اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ یہ واقعہ سرد جنگ کے دور کی اہم فوجی مداخلتوں میں شمار ہوتا ہے۔شاہ جارج سوم کی گولڈن جوبلی25 اکتوبر 1809ء کو برطانیہ میں بادشاہ جارج سوم کی حکمرانی کے پچاس سال مکمل ہونے پر گولڈن جوبلی منائی گئی۔ شاہ جارج سوم نے 1760ء میں تخت سنبھالا تھا اور ان کے دورِ حکومت میں برطانیہ نے کئی اہم سیاسی اور تاریخی تبدیلیاں دیکھیں۔ ان کی پچاسویں سالگرہ تخت نشینی کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات منعقد کی گئیں۔ یہ شاہی جشن برطانوی تاریخ میں ایک اہم موقع تھا، جس نے بادشاہ کی طویل حکمرانی کو نمایاں کیا۔

سیلفی کرے گی کینسر کے خطرے کی پیشگوئی

سیلفی کرے گی کینسر کے خطرے کی پیشگوئی

سائنس دانوں کا جدید اے آئی نظامطب کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز پیشرفت نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے، کیا انسان کے چہرے کی ایک عام سی تصویر یہ اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے کہ کینسر کا مریض کتنی مدت تک زندہ رہ سکتا ہے؟ سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا جدید نظام تیار کیا ہے جو مریض کی سیلفی کا تجزیہ کرکے اس کی حیاتیاتی عمر اور کینسر سے متعلق موت کے خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریض کی حالت سمجھنے اور علاج کے بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی طبی استعمال کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں اور اس کی افادیت کی مزید جانچ ضروری ہے۔یہ نظام مریض کے چہرے کا تجزیہ کرکے ان افراد کی نشاندہی کر سکتا ہے جنہیں موت کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ آزمائشوں کے دوران زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل نصف سے زائد مریض 90 دن کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ اس کے برعکس کم خطرے والے گروپ میں اسی عرصے کے دوران صرف دو فیصد مریضوں کی موت ہوئی۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ کن مریضوں کی جسمانی حالت کینسر کے سخت علاج کی متحمل ہو سکتی ہے اور کن مریضوں کیلئے نسبتاً محتاط طریقہ علاج اختیار کرنا ضروری ہے۔''فیس سروائیول‘‘ (FaceSurvival) نامی یہ نظام امریکا کے طبی تحقیقی ادارے میس جنرل بریگھم (Mass General Brigham)کے محققین نے تیار کیا ہے۔یہ تحقیق سابقہ مطالعات کی بنیاد پر کی گئی ہے، جن سے ظاہر ہوا تھا کہ کینسر کے وہ مریض جو اپنی اصل عمر سے زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیتے ہیں، ان میں موت کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔تاہم، مریض کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے بجائے مصنوعی ذہانت کا یہ نیا نظام چہرے کے ان معمولی اور باریک نشانات کا تجزیہ کرتا ہے جو مریض کے زندہ رہنے کے امکانات کے بارے میں اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔یہ تحقیق علاج شروع کرنے سے پہلے مریضوں کی حالت کا جائزہ لینے کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ڈاکٹر پہلے ہی مریض کو دیکھ کر اس کی صحت کے بارے میں فوری اندازہ لگاتے ہیں۔ اس طریقے کو ''آئی بال ٹیسٹ‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مریض بظاہر کتنا کمزور یا ناتواں دکھائی دیتا ہے۔بڑی آنت اور مقعد کی سرجری کی ماہر اور تحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر گریس لی کے مطابق معالجین پہلے ہی مریض کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کی صحت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ہمارا تیار کردہ نظام اس تجرباتی اندازے کو ایک باقاعدہ اور قابلِ پیمائش طریقے میں تبدیل کرنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے، جس سے بیماری کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی درستگی اور طبی فیصلوں کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے‘‘۔اس ٹیکنالوجی کی تیاری کیلئے محققین نے مصنوعی ذہانت کے نظام کو 4 کروڑ سے زائد عوامی طور پر دستیاب چہروں کی تصاویر کے ذریعے تربیت دی۔ اس کے بعد 34 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں کی تصاویر استعمال کر کے '' فیس سروائیول‘‘ کو موت کے خطرے کی پیش گوئی کرنا سکھایا گیا۔بعدازاں 3 ہزار 820 مریضوں کے ایک الگ گروپ پر اس نظام کی آزمائش کی گئی۔ اس دوران مصنوعی ذہانت نے ہر مریض کو صفر سے ایک کے درمیان خطرے کا اسکور دیا، جس کی مدد سے ان کیلئے موت کے خطرے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔سب سے زیادہ خطرے کا اسکور حاصل کرنے والے 122 مریضوں میں سے 64 تین ماہ کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ کم ترین خطرے والے گروپ کے 975 مریضوں میں سے صرف 20 کی موت ہوئی۔مجموعی طور پر، سب سے زیادہ خطرے والے گروپ کے ایک چوتھائی مریضوں میں موت کا امکان، کم ترین خطرے والے گروپ کے مریضوں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ تھا۔ یہ فرق مریضوں کی عمر، جنس اور کینسر کی قسم کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔ محققین نے ان نتائج کی جانچ نیدرلینڈز کے تقریباً 4 ہزار 900 کینسر کے مریضوں پر بھی کی۔سائنس دانوں نے ''ایف اے ایچ آر فیس ایج‘‘ کے نام سے ایک دوسرا نظام بھی تیار کیاہے، جو چہرے کی تصویر سے کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتا ہے۔ عام عمر کے برعکس، حیاتیاتی عمر سے مراد یہ ہے کہ جسم پر بڑھتی عمر کے اثرات کس حد تک مرتب ہو چکے ہیں۔اس سے قبل ایک تحقیق میں ٹیم نے ہالی وڈ کے دو اداکاروں کی مثالوں کے ذریعے اس تصور کو واضح کیا تھا۔ دونوں کی تصاویر اس وقت لی گئی تھیں جب ان کی عمر 50 سال تھی۔فلم ''اینٹ مین‘‘ اور ''دی 40 ایئر اولڈ ورجن‘‘ کے اداکار پال رڈ، جن کی موجودہ عمر 57 سال ہے، کی حیاتیاتی عمر محض 42.6 سال لگائی گئی۔ اس کے برعکس، 1985ء کی فلم ''کوکون‘‘ میں اداکاری کرنے والے ول فورڈ برملے، جن کا انتقال 2020ء میں 85 سال کی عمر میں ہوا، کی حیاتیاتی عمر 69 سال بتائی گئی تھی۔تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے والے اس نئے نظام کو 38 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں پر آزمایا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن مریضوں کے چہرے ان کی اصل عمر سے کم از کم پانچ سال زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ 21 فیصد زیادہ تھا۔ اس کے برعکس، جو مریض اپنی حقیقی عمر سے پانچ سال چھوٹے دکھائی دیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ 17 فیصد کم پایا گیا۔تحقیق میں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال کا تعلق بھی عمر سے زیادہ بوڑھا دکھائی دینے والے چہرے سے سامنے آیا۔ ان عوامل میں تمباکو نوشی کا تعلق سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ موجودہ سگریٹ نوش افراد کے چہرے سابقہ سگریٹ نوشوں اور کبھی سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں حیاتیاتی طور پر زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دینے کا رجحان رکھتے تھے۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں ان دونوں نظاموں کو بیک وقت استعمال کرکے ڈاکٹروں کو مریضوں کی حالت کا زیادہ تیزی اور کم لاگت سے جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسپتالوں میں اس کے استعمال سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے۔ سائنسدان یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا پلاسٹک سرجری اور چہرے کی کاسمیٹک تبدیلیاں اس نظام کی درستگی کو متاثر کرتی ہیں یا نہیں۔اس کے علاوہ، اگرچہ مصنوعی ذہانت زیادہ خطرے والے مریضوں کی نشاندہی کر سکتی ہے، لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس نظام کی مدد سے علاج کے فیصلے کرنے سے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔

دنیا کی سب سے پتلی گاڑی

دنیا کی سب سے پتلی گاڑی

انجینئرنگ کی مہارت کانمونہگاڑی کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک ایسی سواری کا خیال آتا ہے جس میں ڈرائیور آرام سے بیٹھ کر سفر کرسکے، لیکن اگر کوئی گاڑی محض 50 سینٹی میٹر چوڑی ہو تو اسے دیکھ کر حیران ہونا فطری ہے۔ جدید دور میں نت نئے تجربات اور غیر معمولی ایجادات نے آٹو موبائل کی دنیا کو بھی حیرت انگیز بنا دیا ہے۔ اٹلی کے ایک مکینک نے پرانی گاڑی کو اس انداز میں تبدیل کیا کہ وہ دنیا کی سب سے کم چوڑائی والی قابل ڈرائیونگ گاڑی بن گئی۔ یہ انوکھی سواری نہ صرف انجینئرنگ کی مہارت کا نمونہ ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی بھی دلچسپ مثال ہے۔ اس گاڑی کی لمبائی محض 3.38 میٹر (11 فٹ) اور چوڑائی 1.46 میٹر (4 فٹ 9 انچ) تھی۔ اسے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ اٹلی کے قدیم شہروں کی تنگ اور پتھر کی اینٹوں سے بنی گلیوں میں باآسانی گزر سکے۔تاہم، اطالوی مکینک آندریا مارازی کے خیال میں اس پھرتیلی اور چھوٹی گاڑی کی جسامت مزید کم کی جا سکتی تھی۔ 2024ء میں جب 1993ء کی ایک اچھی حالت میں موجود فیٹ پانڈا گاڑی ان کے خاندانی کباڑ خانے میں لائی گئی تو آندریا نے اسے ایک نئی زندگی دینے کا فیصلہ کیا۔ان کا مقصد دنیا کی سب سے پتلی قابلِ ڈرائیونگ گاڑی تیار کرنا تھا۔کمپنی نے 1980ء سے 2003ء کے درمیان پانڈا ماڈل کی تقریباً 45 لاکھ گاڑیاں تیار کیں۔ اٹلی میں اس گاڑی کے بیشمار مداح ہیں۔ آندریا مارازی بھی کئی برس سے قریبی قصبے پانڈینو میں منعقد ہونے والے ''پانڈا اے پانڈینو‘‘ نامی اجتماع میں شرکت کرتے آ رہے ہیں، جہاں اس گاڑی کے شوقین افراد جمع ہوتے ہیں۔اگلے سال ہونے والی کار نمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے آندریا نے ایک منفرد منصوبے کا خاکہ تیار کیا، جسے انہوں نے ''پانڈا پر اونو‘‘ (ایک شخص کیلئے پانڈا) کا نام دیا۔ اس منصوبے کے تحت پہلے ہی مختصر جسامت والی گاڑی کی چوڑائی گھٹا کر محض 50.2 سینٹی میٹر (ایک فٹ 7.6 انچ) کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آندریا کی تیار کردہ یہ حیرت انگیز چھوٹی گاڑی گنیز ورلڈ ریکارڈز 2027ء کی کتاب میں بھی شامل کی گئی ہے۔''پانڈا پر اونو‘‘ کی تیاریگزشتہ کئی برسوں کے دوران آٹو ڈیمو لیزیونے مارازی نامی خاندانی کباڑ خانے سے فیٹ پانڈا کی سیکڑوں گاڑیاں گزر چکی تھیں، اس لیے آندریا مارازی اس گاڑی کے ڈیزائن اور اس کی ساخت سے بخوبی واقف تھے۔انہوں نے سب سے پہلے گاڑی کے دروازے اور اطراف میں لگے پینل احتیاط سے اتارے۔ اس کے بعد گاڑی کے درمیانی حصے کو کاٹ کر اس کے مختلف حصوں کو دوبارہ ویلڈنگ کے ذریعے جوڑنے کا کام شروع کیا۔ آندریا نے گاڑی کے اگلے بونٹ، چھت اور پچھلے دروازے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت مخصوص باڈی ورک اور شیشے بھی تیار کیے، تاہم گاڑی کے باقی حصوں کو ان کی اصل حالت میں برقرار رکھا۔اپنی غیرمعمولی تبدیلیوں کے باوجود ''پانڈا پراونو‘‘ کی 90 فیصد ساخت انہی پرزوں سے تیار کی گئی ہے جو اصل گاڑی میں موجود تھے۔ اس منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ گاڑی کے فریم کو کاٹنا تھا، تاکہ دونوں حصوں کو دوبارہ جوڑنے پر وہ مکمل طور پر متناسب اور متوازن رہیں۔یہ گاڑی محض ایک خالی ڈھانچا نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک چھوٹی برقی موٹر، بیٹری پیک اور مختصر جسامت کا اسٹیئرنگ نظام بھی نصب کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی ہیڈلائٹس اور اشارے بھی کام کرتے ہیں۔اس گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف 15 کلومیٹر فی گھنٹہ (9.3 میل فی گھنٹہ) ہے۔ تاہم، اس کی کم رفتار مناسب ہی ہے، کیونکہ موڑ کاٹتے وقت یہ زیادہ مستحکم نہیں رہتی۔پانڈا گاڑیوں کی حیرت انگیز دنیا''پانڈا پراونو‘‘ اٹلی میں فیٹ پانڈا گاڑیوں کے نت نئے اور منفرد تجربات کی صرف ایک مثال ہے۔ ان پرانی گاڑیوں کی سادہ میکانکی ساخت اور کباڑ خانوں میں آسانی سے دستیابی نے شوقین افراد کیلئے ان میں مختلف تبدیلیاں کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ یوں اٹلی میں پانڈا گاڑیوں کی ایک دلچسپ دنیا آباد ہو چکی ہے۔پانڈینو میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں پانڈا کی کئی منفرد شکلیں بھی پیش کی جا چکی ہیں۔ ان میں ''پانڈا کورٹا‘‘ (مختصر پانڈا) بھی شامل ہے، جس کے پہیوں کے درمیان فاصلہ صرف ایک میٹر (3 فٹ 3.3 انچ) ہے۔ اس گاڑی کی ایک اور خاص بات اس کی انتہائی کم بلندی ہے، جسے دنیا کی سب سے کم بلندی والی قابلِ ڈرائیونگ گاڑی کا ریکارڈ بھی حاصل ہے۔یہ منفرد گاڑی آندریا مارازی کے دوستوں کوکی روڈی، میٹیو مارزیٹی اور نکولا گواڈانین نے تیار کی۔ یہ تینوں سوشل میڈیا پر مشترکہ طور پر ''کارماگیڈن‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی تخلیقات ظاہر کرتی ہیں کہ پرانی گاڑیوں کو تخلیقی صلاحیتوں اور فنی مہارت سے کس قدر حیرت انگیز شکل دی جا سکتی ہے۔اب اگلا منصوبہ کیا ہے؟آندریا مارازی کا رواں سال کا بڑا منصوبہ فیٹ پانڈا گاڑی کو 1980ء کی دہائی کے لینڈینی ٹریکٹر کے ڈرائیو ٹرین نظام کے ساتھ جوڑنا تھا، تاکہ اٹلی کے مخصوص انداز کا ایک دیوہیکل مونسٹر ٹرک تیار کیا جا سکے۔ دوسری جانب، ان کے دوستوں نے موسمِ گرما کے دوران کرسلر پی ٹی کروزر گاڑی کو ایک موٹر بوٹ میں تبدیل کرنے کا تجربہ کیا۔آندریا اب بھی عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے نئے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کتاب میں جگہ پانے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں شامل ہونا ان کیلئے ایک اعزاز ہے اور وہ اس کامیابی پر بے حد پرجوش ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

دنیا کا طویل ترین سمندری پل کا افتتاح24 اکتوبر 2018ء کو دنیا کے طویل ترین سمندری پل، ہانگ کانگ، ژوہائی اور مکاؤ کو ملانے والے پل کو عوامی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ یہ عظیم الشان منصوبہ چین کے بنیادی ڈھانچے اور جدید انجینئرنگ کا ایک غیرمعمولی شاہکار ہے۔ اس پل کی تعمیر سے تین اہم علاقوں کے درمیان زمینی رابطہ آسان ہوا اور سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی آئی۔ یہ پل سمندر کے اوپر تعمیر ہونے والے طویل ترین رابطہ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔چین کے پہلے قمری سیٹلائٹ کی روانگی24 اکتوبر 2007ء کو چین نے اپنے قمری تحقیقاتی پروگرام کے پہلے سیٹلائٹ ''چانگ ای ون‘‘ کو خلا میں روانہ کیا۔ اسے چین کے صوبے سیچوان میں واقع شی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا۔اس مشن کا بنیادی مقصد چاند کی سطح، ساخت اور جغرافیائی خصوصیات کا مطالعہ کرنا تھا۔ اس کامیابی نے چین کے خلائی تحقیقاتی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کی اور چاند کی تحقیق کیلئے مستقبل کے مزید مشنز کی راہ ہموار کی۔نیاگرا آبشار سے بیرل میں گرنے والی پہلی خاتون24 اکتوبر 1901ء کو امریکی خاتون اینی ایڈسن ٹیلر دنیا کی پہلی شخصیت بنیں جنہوں نے لکڑی کے ایک بڑے بیرل میں بیٹھ کر نیاگرا آبشار سے نیچے گرنے کا خطرناک کارنامہ انجام دیا۔ اس وقت ان کی عمر 63 سال تھی۔ انہوں نے یہ مہم شہرت اور مالی فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے اختیار کی تھی۔ بیرل کو خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا تاکہ وہ پانی کے شدید دباؤ اور بلندی سے گرنے کے باوجود محفوظ رہ سکیں۔ اس مہم کے بعد وہ دنیا بھر میں مشہور ہوگئیں۔جنگ عظیم اوّل: وٹوریو وینیٹو میں اٹلی کی فتح24 اکتوبر 1918ء کو پہلی جنگ عظیم کے دوران اٹلی نے وٹوریو وینیٹو کے محاذ پر آسٹرو ہنگری افواج کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس جنگ میں اطالوی فوج نے اہم کامیابی حاصل کی، جس نے آسٹرو ہنگری سلطنت کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ معرکہ پہلی جنگ عظیم کے آخری مراحل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گیا۔ اس شکست کے بعد آسٹرو ہنگری سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا اور چند ہی دنوں بعد اس نے اٹلی کے ساتھ جنگ بندی کے لیے اقدامات کیے۔بیکانور خلائی مرکز میں آتش زدگی، سات افراد ہلاک24 اکتوبر 1963ء کو سوویت یونین کے بیکانور خلائی مرکز میں ''آر 9 ڈیسنا میزائل‘‘ سے آکسیجن کے اخراج کے باعث خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے میں سات افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آکسیجن کے اخراج نے آگ لگنے کے خطرے کو بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں خلائی مرکز میں موجود اہلکاروں کو جان لیوا صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ خلائی تحقیق اور میزائل ٹیکنالوجی کی تاریخ کے اہم حادثات میں شمار ہوتا ہے۔

شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

انسانی وقار کسی عہدے، دولت، رنگ، نسل یا سماجی مرتبے کا محتاج نہیں، یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی سے زیادہ اس رویے سے ہوتی ہے جو اس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ کسی معاشرے میں انسان کی عزت کو اس کی حیثیت اور دولت کے بجائے اس کی انسانیت کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے تو وہاں حقیقی ترقی، امن اور سماجی ہم آہنگی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔'عالمی یومِ انسانی وقار‘ جو کہ اکتوبر کے تیسرے بدھ کو منایا جاتا ہے، اسی بنیادی انسانی قدر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کا ہر فرد عزت، احترام اور مساوی سلوک کا مستحق ہے۔انسانی وقار کا مفہوم اور اہمیتوقار محض ایک لفظ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی بنیادی قدر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک باعزت زندگی گزارنے، اپنی رائے کا اظہار کرنے، اپنے حقوق سے فائدہ اٹھانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی شخص کو اس کی غربت، جسمانی معذوری یا سماجی حیثیت کی وجہ سے کمتر سمجھنا انسانی وقار کے منافی ہے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا، وہاں نفرت، استحصال، ناانصافی اور تصادم نے جنم لیا۔ اس کے برعکس جن معاشروں نے انسانی عزت، قانون کی بالادستی اور مساوات کو فروغ دیا، وہاں سماجی استحکام اور باہمی اعتماد کو تقویت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی وقار کا تحفظ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں بھی انسانی وقار اور تمام انسانوں کے مساوی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس اصول کی روشنی میں ہر ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جن میں کسی انسان کی تذلیل نہ ہو اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا مناسب موقع میسر آئے۔معاشرتی رویے اور احترامِ انسانیتانسانی وقار کا اصل امتحان روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔ ہم اکثر بڑے بڑے اصولوں کی بات کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اپنے سے کمزور افراد کے ساتھ ہمارا رویہ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کر دیتا ہے۔کسی شخص کو اس کی مالی حیثیت کی وجہ سے حقیر سمجھنا، کسی کمزور کا مذاق اڑانا، عوامی مقامات پر کسی کی تضحیک کرنا یا اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی کرنا ایسے رویے ہیں جو انسانی وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے تضحیک، توہین اور کردار کشی کو عام کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ کسی کی تصویر یا ویڈیو کو مذاق کا نشانہ بنانا، بغیر تصدیق الزام لگانا اور ذاتی معلومات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ کسی کی عزت اور نجی زندگی پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی گفتگو، تحریر اور ڈیجیٹل سرگرمیوں میں شائستگی کو فروغ دیں۔ اختلاف ضرور کیا جائے مگر دلیل کے ساتھ، تنقید ضرور کی جائے مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔ پاکستان میں انسانی وقار کے تقاضےپاکستانی معاشرے میں انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت کئی حوالوں سے نمایاں ہے۔ ہمارے ہاں غربت، طبقاتی فرق، صنفی امتیاز، کم عمر بچوں سے مشقت، ملازمت کے مقامات پر نامناسب رویے اور بعض کمزور طبقات کے حقوق سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ان پر مؤثر عمل درآمد اور معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی بھی ضروری ہے۔آئینِ پاکستان شہریوں کی مساوات، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو اہمیت دیتا ہے۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کو قانون کے تحت عزت و انصاف ملے اور کسی شخص کے ساتھ اس کی معاشی یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز، ہسپتالوں اور کام کی جگہوں پر ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں ہر فرد کی بات سنی جائے، اس کے حقوق کا احترام کیا جائے اور اس کے ساتھ منصفانہ برتاؤ ہو۔خصوصی افراد، بزرگوں، خواتین، بچوں اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی بھی انسانی وقار کے تحفظ کا حصہ ہے۔اس مقصد کے حصول میں خاندان، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں اور ریاستی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی انسان کی عزت اس کے لباس، زبان، دولت یا عہدے سے متعین نہیں ہوتی۔تعلیم، نوجوان اور بہتر مستقبلانسانی وقار کے فروغ میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا یا روزگار کے مواقع پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ذمہ دار، باشعور اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا شہری بنانا بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں برداشت، مساوات، ہمدردی اور اختلافِ رائے کے احترام کو عملی طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔نوجوان اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ مستقبل کے معاشرے کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔ وقار کا آغاز اپنے رویے سےعالمی یومِ انسانی وقار ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دوسروں کی عزت کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، محنت کش کی خدمات کو تسلیم کرنا، کمزور کے حق میں آواز اٹھانا، اختلاف رکھنے والے شخص کی بات سننا اور کسی کی تضحیک سے گریز کرنا ایسے عملی اقدامات ہیں جو انسانی وقار کو مضبوط بناتے ہیں۔بہتر معاشرے کی تعمیر اس وقت ممکن ہے جب عزت و احترام ہر انسان کا حق سمجھا جائے۔ اگر ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر انسانی وقار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ایک زیادہ منصفانہ، پرامن اور ہمدرد معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔