دنیا کی سب سے پتلی گاڑی
اسپیشل فیچر
انجینئرنگ کی مہارت کانمونہ
گاڑی کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک ایسی سواری کا خیال آتا ہے جس میں ڈرائیور آرام سے بیٹھ کر سفر کرسکے، لیکن اگر کوئی گاڑی محض 50 سینٹی میٹر چوڑی ہو تو اسے دیکھ کر حیران ہونا فطری ہے۔ جدید دور میں نت نئے تجربات اور غیر معمولی ایجادات نے آٹو موبائل کی دنیا کو بھی حیرت انگیز بنا دیا ہے۔ اٹلی کے ایک مکینک نے پرانی گاڑی کو اس انداز میں تبدیل کیا کہ وہ دنیا کی سب سے کم چوڑائی والی قابل ڈرائیونگ گاڑی بن گئی۔ یہ انوکھی سواری نہ صرف انجینئرنگ کی مہارت کا نمونہ ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی بھی دلچسپ مثال ہے۔
اس گاڑی کی لمبائی محض 3.38 میٹر (11 فٹ) اور چوڑائی 1.46 میٹر (4 فٹ 9 انچ) تھی۔ اسے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ اٹلی کے قدیم شہروں کی تنگ اور پتھر کی اینٹوں سے بنی گلیوں میں باآسانی گزر سکے۔تاہم، اطالوی مکینک آندریا مارازی کے خیال میں اس پھرتیلی اور چھوٹی گاڑی کی جسامت مزید کم کی جا سکتی تھی۔ 2024ء میں جب 1993ء کی ایک اچھی حالت میں موجود فیٹ پانڈا گاڑی ان کے خاندانی کباڑ خانے میں لائی گئی تو آندریا نے اسے ایک نئی زندگی دینے کا فیصلہ کیا۔ان کا مقصد دنیا کی سب سے پتلی قابلِ ڈرائیونگ گاڑی تیار کرنا تھا۔
کمپنی نے 1980ء سے 2003ء کے درمیان پانڈا ماڈل کی تقریباً 45 لاکھ گاڑیاں تیار کیں۔ اٹلی میں اس گاڑی کے بیشمار مداح ہیں۔ آندریا مارازی بھی کئی برس سے قریبی قصبے پانڈینو میں منعقد ہونے والے ''پانڈا اے پانڈینو‘‘ نامی اجتماع میں شرکت کرتے آ رہے ہیں، جہاں اس گاڑی کے شوقین افراد جمع ہوتے ہیں۔
اگلے سال ہونے والی کار نمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے آندریا نے ایک منفرد منصوبے کا خاکہ تیار کیا، جسے انہوں نے ''پانڈا پر اونو‘‘ (ایک شخص کیلئے پانڈا) کا نام دیا۔ اس منصوبے کے تحت پہلے ہی مختصر جسامت والی گاڑی کی چوڑائی گھٹا کر محض 50.2 سینٹی میٹر (ایک فٹ 7.6 انچ) کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آندریا کی تیار کردہ یہ حیرت انگیز چھوٹی گاڑی گنیز ورلڈ ریکارڈز 2027ء کی کتاب میں بھی شامل کی گئی ہے۔
''پانڈا پر اونو‘‘ کی تیاری
گزشتہ کئی برسوں کے دوران آٹو ڈیمو لیزیونے مارازی نامی خاندانی کباڑ خانے سے فیٹ پانڈا کی سیکڑوں گاڑیاں گزر چکی تھیں، اس لیے آندریا مارازی اس گاڑی کے ڈیزائن اور اس کی ساخت سے بخوبی واقف تھے۔انہوں نے سب سے پہلے گاڑی کے دروازے اور اطراف میں لگے پینل احتیاط سے اتارے۔ اس کے بعد گاڑی کے درمیانی حصے کو کاٹ کر اس کے مختلف حصوں کو دوبارہ ویلڈنگ کے ذریعے جوڑنے کا کام شروع کیا۔ آندریا نے گاڑی کے اگلے بونٹ، چھت اور پچھلے دروازے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت مخصوص باڈی ورک اور شیشے بھی تیار کیے، تاہم گاڑی کے باقی حصوں کو ان کی اصل حالت میں برقرار رکھا۔
اپنی غیرمعمولی تبدیلیوں کے باوجود ''پانڈا پراونو‘‘ کی 90 فیصد ساخت انہی پرزوں سے تیار کی گئی ہے جو اصل گاڑی میں موجود تھے۔ اس منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ گاڑی کے فریم کو کاٹنا تھا، تاکہ دونوں حصوں کو دوبارہ جوڑنے پر وہ مکمل طور پر متناسب اور متوازن رہیں۔یہ گاڑی محض ایک خالی ڈھانچا نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک چھوٹی برقی موٹر، بیٹری پیک اور مختصر جسامت کا اسٹیئرنگ نظام بھی نصب کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی ہیڈلائٹس اور اشارے بھی کام کرتے ہیں۔اس گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف 15 کلومیٹر فی گھنٹہ (9.3 میل فی گھنٹہ) ہے۔ تاہم، اس کی کم رفتار مناسب ہی ہے، کیونکہ موڑ کاٹتے وقت یہ زیادہ مستحکم نہیں رہتی۔
پانڈا گاڑیوں کی حیرت انگیز دنیا
''پانڈا پراونو‘‘ اٹلی میں فیٹ پانڈا گاڑیوں کے نت نئے اور منفرد تجربات کی صرف ایک مثال ہے۔ ان پرانی گاڑیوں کی سادہ میکانکی ساخت اور کباڑ خانوں میں آسانی سے دستیابی نے شوقین افراد کیلئے ان میں مختلف تبدیلیاں کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ یوں اٹلی میں پانڈا گاڑیوں کی ایک دلچسپ دنیا آباد ہو چکی ہے۔
پانڈینو میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں پانڈا کی کئی منفرد شکلیں بھی پیش کی جا چکی ہیں۔ ان میں ''پانڈا کورٹا‘‘ (مختصر پانڈا) بھی شامل ہے، جس کے پہیوں کے درمیان فاصلہ صرف ایک میٹر (3 فٹ 3.3 انچ) ہے۔ اس گاڑی کی ایک اور خاص بات اس کی انتہائی کم بلندی ہے، جسے دنیا کی سب سے کم بلندی والی قابلِ ڈرائیونگ گاڑی کا ریکارڈ بھی حاصل ہے۔یہ منفرد گاڑی آندریا مارازی کے دوستوں کوکی روڈی، میٹیو مارزیٹی اور نکولا گواڈانین نے تیار کی۔ یہ تینوں سوشل میڈیا پر مشترکہ طور پر ''کارماگیڈن‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی تخلیقات ظاہر کرتی ہیں کہ پرانی گاڑیوں کو تخلیقی صلاحیتوں اور فنی مہارت سے کس قدر حیرت انگیز شکل دی جا سکتی ہے۔
اب اگلا منصوبہ کیا ہے؟
آندریا مارازی کا رواں سال کا بڑا منصوبہ فیٹ پانڈا گاڑی کو 1980ء کی دہائی کے لینڈینی ٹریکٹر کے ڈرائیو ٹرین نظام کے ساتھ جوڑنا تھا، تاکہ اٹلی کے مخصوص انداز کا ایک دیوہیکل مونسٹر ٹرک تیار کیا جا سکے۔ دوسری جانب، ان کے دوستوں نے موسمِ گرما کے دوران کرسلر پی ٹی کروزر گاڑی کو ایک موٹر بوٹ میں تبدیل کرنے کا تجربہ کیا۔آندریا اب بھی عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے نئے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کتاب میں جگہ پانے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں شامل ہونا ان کیلئے ایک اعزاز ہے اور وہ اس کامیابی پر بے حد پرجوش ہیں۔