2200 سال قدیم انگلیوں کے نشانات
اسپیشل فیچر
ٹیراکوٹا آرمی کے معماروں کا راز
چین کی ٹیراکوٹا آرمی دنیا کے حیرت انگیز تاریخی آثار میں شمار ہوتی ہے۔ مٹی سے بنے ہزاروں جنگجوؤں، گھوڑوں اور رتھوں پر مشتمل یہ عظیم مجموعہ دو ہزار سال سے زائد عرصے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ کے شائقین کی توجہ کا مرکز ہے۔ ان مجسموں کی باریک کاریگری اور منفرد چہرے قدیم چینی تہذیب کی فنی مہارت کا ثبوت ہیں۔ تاہم ایک اہم سوال طویل عرصے سے موجود تھا کہ آخر اس عظیم منصوبے کو مکمل کرنے والے لوگ کون تھے؟تاہم مجسموں پر موجود انگلیوں کے نشانات نے ایک بڑا راز افشا کر دیا ہے اور ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹیراکوٹا آرمی کی تیاری میں صرف مرد ہی نہیں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔
ٹیراکوٹا آرمی کی تاریخ
ٹیراکوٹا آرمی چین کے پہلے شہنشاہ چن شی ہوانگ (Qin Shi Huang) کے مقبرے کی حفاظت کے لیے تیار کی گئی تھی۔ انہوں نے 221 قبل مسیح میں چین کی مختلف ریاستوں کو متحد کرکے ایک مرکزی سلطنت قائم کی۔ ان کے دور میں بڑے تعمیراتی منصوبوں اور ریاستی انتظام کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ 1974ء میں چین کے صوبے شانشی میں کنواں کھودتے ہوئے کسانوں کو زمین کے اندر مٹی کے جنگجوؤں کے ٹکڑے ملے۔ بعد ازاں ہونے والی کھدائی نے ایک وسیع زیرِ زمین مجموعے کا انکشاف کیا جس میں ہزاروں جنگجو، گھوڑے اور رتھ شامل تھے۔اس تاریخی مقام پر اب تک دریافت ہونے والے مجموعے میں تقریباً آٹھ ہزار جنگجوؤں، 130 رتھوں، رتھوں کے ساتھ منسلک 520 گھوڑوں اور گھڑ سواروں کے لیے بنائے گئے مزید 150 گھوڑوں کے مجسموں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
مٹی پر محفوظ انگلیوں کے نشانات
ٹیراکوٹا آرمی کے مجسمے تیار کرتے وقت کاریگر گیلی مٹی کو مختلف شکلیں دیتے ، جسم کے حصوں کو آپس میں جوڑتے اور زرہ بکتر پر آرائش کرتے تھے۔ اس عمل کے دوران ان کی انگلیوں کے نشانات مٹی پر ثبت ہوجاتے تھے۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بعض نشانات محفوظ رہ گئے جو اَب ماضی کے کاریگروں کے بارے میں معلومات فراہم کررہے ہیں۔محققین نے 36 جسموں کا جائزہ لیا۔ ابتدائی معائنے میں انگلیوں کے 91 نشانات ریکارڈ کیے گئے تاہم 12 نشانات کو خارج کردیا گیا کیونکہ وہ ممکنہ طور پر انہی افراد کے متعدد نشانات تھے۔ اس طرح تفصیلی تجزیے کے لیے 79 نشانات باقی رہ گئے۔یہ نشانات مجسموں کے سروں، بازوؤں، ہاتھوں، کالروں، زرہ بکتر اور دیگر حصوں پر پائے گئے۔ بعض نشانات اس وقت ثبت ہوئے جب کاریگر مٹی کے مختلف حصوں کو جوڑ رہے تھے جبکہ کچھ آرائشی اجزا کو مجسموں کی سطح پر دبانے سے بنے تھے۔
انگلیوں کی لکیروں سے کیا معلوم ہوا؟
سائنسدانوں نے انگلیوں کی باریک لکیروں کے درمیان فاصلے کی پیمائش کی۔ اس پیمائش کو سائنسی اصطلاح میںMean Ridge Breadth کہا جاتا ہے۔انسان کی نشوونما کے ساتھ انگلیوں کی لکیروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔محققین نے ان پیمائشوں کی بنیاد پر شماریاتی ماڈل استعمال کیا جس سے تمام نشانات میں مختلف آبادیاتی گروہوں کی ممکنہ نمائندگی کا اندازہ لگایا گیا۔نتائج کے مطابق تقریباً 45 فیصد نشانات بالغ مردوں، 32 فیصد بالغ خواتین اور 22 فیصد پندرہ سال سے کم عمر بچوں سے منسوب کیے گئے۔یہ اعداد اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹیراکوٹا آرمی کی تیاری میں مختلف عمر اور جنس کے افراد شامل تھے۔
خواتین اور بچوں کا ممکنہ کردار
قدیم چین میں ریاستی نگرانی میں چلنے والی ورکشاپس میں خواتین اور بچوں کی شرکت کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ چن خاندان کے دور سے تعلق رکھنے والی بانس کی تختیوں پر لکھی قانونی دستاویزات کاریگروں کی تربیت اور شاگردی کے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ممکن ہے کہ کم عمر شاگردوں کو نسبتاً آسان کام دیے جاتے ہوں مثلاً زرہ بکتر پر چھوٹے آرائشی اجزا لگانا یا مٹی کے تیار شدہ حصوں کو جوڑنے میں مدد دینا جبکہ تجربہ کار کاریگر زیادہ پیچیدہ مجسمہ سازی اور باریک نقش و نگار کا کام انجام دیتے ہوں گے۔
ماضی کے گمنام معماروں کی کہانی
ٹیراکوٹا آرمی محض مٹی کے جنگجوؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہزاروں افراد کی محنت، مہارت اور اجتماعی کوششوں کی علامت ہے۔ نئی تحقیق اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ اس عظیم منصوبے کے پیچھے کام کرنے والی افرادی قوت متنوع تھی۔مستقبل میں مزید مجسموں پر انگلیوں کے نشانات کا تجزیہ اس سوال کے جواب کو زیادہ واضح کرسکتا ہے کہ قدیم چین میں خواتین، بچوں اور مردوں نے اس تاریخی شاہکار کی تیاری میں کس حد تک حصہ لیا تھا۔اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ تاریخ کے عظیم کارناموں کے پیچھے صرف بادشاہوں اور حکمرانوں کے فیصلے نہیں ہوتے بلکہ ان گنت گمنام افراد کی محنت بھی شامل ہوتی ہے۔ ٹیراکوٹا آرمی کے مجسموں پر محفوظ انگلیوں کے یہ نشانات آج بھی ان ہاتھوں کی کہانی سناتے ہیں جنہوں نے دو ہزار سال پہلے مٹی کو ایک لازوال تاریخی شاہکار میں ڈھال دیا۔