سیلفی اسٹک کی چھٹی
اسپیشل فیچر
اب روبوٹ بنائے گا آپ کی تصاویر!
ٹیکنالوجی کی دنیا میں نت نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ کبھی اپنی تصویر بنانے کیلئے دوسروں کی مدد لینا پڑتی تھی اور پھر سیلفی اسٹک نے یہ مشکل دور کر دی، لیکن اب سائنس دانوں نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دو ٹانگوں والا ایسا جدید روبوٹ تیار کیا ہے جو اسمارٹ فون اٹھا کر اپنے مالک کے پیچھے پیچھے چل سکتا ہے۔ یہ روبوٹ نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ انسان کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے اسے مختلف زاویوں سے فلم بند کرنے کی سہولت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں سیلفی لینے کیلئے ہاتھ میں اسٹک پکڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ ایک ننھا روبوٹ ہی آپ کا ذاتی کیمرہ مین بن کر ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوگا۔
''فون بوٹ‘‘ (PhoneBot) نامی یہ چھوٹا سا آلہ تقریباً 19 انچ (48 سینٹی میٹر) اونچا ہے اور اس کا وزن لگ بھگ چار پاؤنڈ (1.8 کلو گرام) ہے۔ ابتدائی مظاہروں میں تحقیقاتی ٹیم نے دکھایا کہ 400 ڈالر مالیت کا یہ روبوٹ چل سکتا ہے، کسی شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے اور اوندھے منہ گرنے کی حالت سے دوبارہ کھڑا بھی ہو سکتا ہے۔ اس روبوٹ کے جسم کے اوپری حصے میں، اس کے ''کولہوں‘‘ کے اوپر، اسمارٹ فون نصب کیا جا سکتا ہے ۔
فون میں موجود کیمرے کی مدد سے روبوٹ لوگوں کو پہچاننے اور ان کا تعاقب کرنے کے قابل ہوتا ہے، جبکہ فون کے موشن سینسرز جسم کی حرکت اور سمت کے بارے میں معلومات جمع کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس روبوٹ کو بنیادی طور پر تحقیقی مقاصد کیلئے تیار کیا گیا ہے، تاہم یہ ایک چلتے پھرتے فوٹوگرافر کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ یہ خودکار طور پر اپنی جگہ تبدیل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ تصویر میں موجود تمام افراد کیمرے کے فریم میں سما جائیں۔
محققین نے تحقیقی مقالے کے ابتدائی آن لائن نسخے میں، جو ویب سائٹ آرکائیو (arXiv) پر شائع کیا گیا، لکھا ہے کہ ''فون بوٹ‘‘ کم لاگت پر تیار ہونے والا، اوپن سورس اور مختصر جسامت کا انسان نما روبوٹک پلیٹ فارم ہے۔ اس میں عام دستیاب اسمارٹ فون کو ایک ایسے ماڈیولر جسم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے جو ماحول سے متعلق معلومات حاصل کرنے، روبوٹ کے اندر ہی کمپیوٹنگ کے عمل اور انسانوں کے ساتھ تعامل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیاکے محققین کے مطابق روبوٹ کی حرکات کو کنٹرول کرنے والا سافٹ ویئر اسمارٹ فون پر چلتا ہے۔ فون وائی فائی کے ذریعے ایک چھوٹے سے کمپیوٹر کو ہدایات بھیجتا ہے، جو آگے یہ احکامات روبوٹ کی موٹروں تک پہنچاتا ہے۔ مجموعی طور پر فون بوٹ میں 13 موٹریں نصب ہیں، جن میں سے چھ چھ دونوں ٹانگوں میں جبکہ ایک موٹر اس کے دھڑ کو گھمانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ اضافی جوڑ روبوٹ کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کے پاؤں اپنی جگہ قائم رہیں، لیکن کیمرا مختلف زاویوں سے منظر عکس بند کرنے کیلئے دائیں یا بائیں جانب گھوم سکے۔ تحقیقاتی ٹیم نے مختلف اسمارٹ فونز کے ساتھ اس نظام کی آزمائش کی اور معلوم کیا کہ تمام آزمودہ فون بنیادی سینسنگ، حرکات کو کنٹرول کرنے اور بصری معلومات حاصل کرنے کے افعال کی معاونت کرتے ہیں۔ فی الحال اس روبوٹ کے بازو موجود نہیں ہیں، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اس میں ہلکے وزن والے بازو نصب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ یہ مختلف اشیا کو پکڑنے اور سنبھالنے کے قابل ہو سکے۔ محققین یہ بھی جانچنا چاہتے ہیں کہ ناہموار سطحوں پر یہ روبوٹ کس طرح حرکت کرتا ہے، کیونکہ اب تک اس کی آزمائش صرف ہموار زمین پر کی گئی ہے۔یہ نظام اسمارٹ فون کے مائیکروفون اور اسپیکر کی مدد سے بول کر دی جانے والی ہدایات پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال آواز کو پہچاننے اور زبان کو سمجھنے سے متعلق افعال ایک الگ لیپ ٹاپ کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ان ماڈلز کو براہِ راست اسمارٹ فون پر چلانے کے قابل بنا دیا جائے گا۔
تحقیقاتی ٹیم کو امید ہے کہ یہ کم لاگت والا پلیٹ فارم تعلیم، تحقیق اور نئے نمونوں کی تیز رفتار تیاری کیلئے ایک سستا اور قابلِ تکرار نظام فراہم کرے گا، جس سے انسان نما روبوٹس کو تیار کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔