چاند کے نیچے چھپی دنیا کی تلاش!
اسپیشل فیچر
چاند کا پراسرار سوراخ سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز
چاند ہمیشہ سے انسان کیلئے تجسس اور حیرت کا مرکز رہا ہے، مگر جدید خلائی تحقیق نے اس کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی جستجو مزید بڑھا دی ہے۔ اب ناسا نے چاند کی سطح پر موجود ایک پراسرار سوراخ کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا ہے، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ کسی وسیع زیر سطح غار یا قدیم لاوے کی سرنگ کا دہانہ ہو سکتا ہے۔ اگر اس امکان کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ دریافت چاند کی ارضیاتی تاریخ کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں انسانی خلائی مشنز کیلئے محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
ناسا نے ''میریئس ہلز پٹ‘‘ (Marius Hills Pit) کے نام سے معروف اس سوراخ کی تحقیقات کیلئے ایک منصوبے کا انتخاب کیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ سوراخ کسی ایسی زیر سطح غار تک پہنچتا ہے جو مستقبل میں خلا بازوں کو خطرناک تابکاری اور شدید درجہ حرارت سے محفوظ پناہ گاہ فراہم کر سکتی ہے۔ اس منصوبے کو ''جیو فزیکل انسٹرومنٹس فار میریئس لونر پٹ انویسٹی گیشن‘‘ (GIMLI) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت سطح کے نیچے موجود ساخت کا جائزہ لینے کیلئے سطح کے اندر تک پہنچنے والے ریڈار، زلزلہ پیما سینسرز اور مقامی کشش ثقل کی پیمائش کرنے والے ایک آلے کو یکجا کیا جائے گا۔
اس گڑھے کے گرد و نواح میں طویل عرصے تک آتش فشانی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ ''میریئس ہلز پٹ‘‘ کی دیواروں پر چاند کی مٹی، جسے ریگولِتھ کہا جاتا ہے، اور لاوے کے بہاؤ کی ایسی تہیں نمایاں ہیں جو عام طور پر سطح کے نیچے دفن رہتی ہیں۔ ان تہوں کا تفصیلی جائزہ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ماضی میں لاوا چاند کے منظرنامے کی سطح اور اس کے نیچے کس طرح بہتا رہا۔ یہ بھی معلوم ہو گاکہ مختلف آتش فشانی سرگرمیوں یا لاوے کے اخراج کے واقعات کے درمیان طویل وقفے موجود تھے یا نہیں۔
ناسا نے '' پلینیٹری سائنس انسٹی ٹیوٹ‘‘ کو اس تحقیق کی قیادت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ناسا کے مطابق اگر چاند کی سطح کے نیچے ایسی کوئی غار موجود ہے تو مستقبل میں یہ خلا بازوں کو خطرناک تابکاری اور چاند کی سطح پر درجہ حرارت میں ہونے والی انتہائی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
چاند کی سطح پر تابکاری کی سطح بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مقابلے میں تقریباً 2.6 گنا زیادہ ہے، جو زمین کی سطح سے تقریباً 250 میل کی بلندی پر گردش کر رہا ہے، جبکہ چاند پر تابکاری کی سطح زمین کے مقابلے میں تقریباً 200 گنا زیادہ ہے۔ اگر خلا بازوں کو اس قدر بلند تابکاری کا سامنا کرنا پڑے تو انہیں صحت کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ صرف اوپر سے حاصل ہونے والی معلومات اور مشاہدات پر انحصار کرنے کے بجائے محققین کو چاند کی سطح پر موجود میریئس ہلز پٹ کا براہِ راست جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گا۔
پلینیٹری سائنس انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدان تھین پٹزگ کا کہناہے کہ ان کی طویل عرصے سے خواہش تھی کہ سیاروں کی سائنس میں فعال ماخذ پر مبنی زلزلہ پیما طریقہ دوبارہ متعارف کرایا جائے، کیونکہ اپالو مشنز کے خلا بازوں کی جانب سے چاند پر ابتدائی زلزلہ جاتی سروے کیے جانے کے بعد بنیادی طور پر اس طریقے کا دوبارہ استعمال نہیں کیا گیا۔ اس طریقے کو زمین کے اندر تک پہنچنے والے ریڈار اور کششِ ثقل کی پیمائش کے ساتھ یکجا کرنا اس تحقیق کو مزید دلچسپ بنا سکتا ہے۔ ان طریقوں کو ایک ساتھ استعمال کرنے سے چاند کی سطح کے نیچے موجود خصوصیات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی، جس میں میریئس ہلز پٹ سے دور تک پھیلی ہوئی ممکنہ لاوے کی سرنگ کی موجودگی کا پتا چلانا بھی شامل ہے۔ اگر زیر سطح غار دریافت نہ بھی ہو سکے، تب بھی چاند کے یہ گڑھے سائنسی اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔
زیرسطح جگہیں ان آتش فشانی عمل کے شواہد بھی محفوظ رکھ سکتی ہیں جنہوں نے چاند کی موجودہ ساخت تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بڑی لاوے کی سرنگ کی موجودگی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ چاند پر آتش فشانی سرگرمیاں کس طرح وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں۔ لاوے کی سرنگیں زمین پر آتش فشانی سرگرمی کی ایک عام خصوصیت ہیں، اس لیے چاند پر ایسی سرنگوں کی شناخت سے ہم زمین پر موجود ان غاروں کے بارے میں حاصل شدہ معلومات کو استعمال کرتے ہوئے چاند کی ارضیاتی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
''میریئس ہلز پٹ‘‘ کی گہرائی 10منزلہ عمارت کے برابر
یہ گڑھا چاند کے اس علاقے میں واقع ہے جہاں آتش فشانی سرگرمی کی تاریخ بہت متنوع رہی ہے۔ اس کی گہرائی تقریباً ایک 10 منزلہ عمارت جتنی ہے، جبکہ اس کا دہانہ تقریباً ایک امریکی فٹ بال میدان کے برابر چوڑا ہے۔ یہ چاند کی سطح پر اب تک دریافت کیے جانے والے تقریباً 300 گڑھوں میں سے ایک ہے۔ ان میں سے بعض گڑھے قدیم آتش فشانی سرگرمی کے نتیجے میں بننے والی زیر سطح غاروں کے داخلی راستے ہو سکتے ہیں۔
''میریئس ہلز پٹ‘‘ کو 2009ء میں جاپان کے SELENE خلائی جہاز نے دریافت کیا تھا۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف ممکنہ زیرسطح ساخت کا مطالعہ کرنا نہیں بلکہ اس علاقے کے دیگر ارضیاتی پہلوؤں کا بھی جائزہ لینا ہے۔
2028ء میں خلاء باز چاند پر اتارنے کا منصوبہ
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ناسا نے 2028ء میں آرٹیمس چہارم مشن کے دوران خلا بازوں کو چاند پر اتارنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ جب مشن کا عملہ چاند پر پہنچے گا تو دو خلا باز سطحِ چاند پر اتریں گے اور تقریباً ایک ہفتہ چاند کے جنوبی قطب کے قریب قیام کریں گے۔ اس دوران وہ سائنسی تحقیق اور نئے تجربات انجام دیں گے۔ بعدازاں وہ دوبارہ چاند کے مدار میں موجود اپنے ساتھی خلا بازوں کے پاس پہنچیں گے اور سب مل کر زمین پرواپسی کا سفر شروع کریں گے۔