آج کا دن
اسپیشل فیچر
تیل کا عالمی بحران
1973ء میں تیل کا عالمی بحران پیدا ہوا۔ عرب اسرائیل جنگ کے دوران خلیج فارس کی تیل برآمد کرنے والی ریاستوں نے امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کو تیل کی فروخت کم کر دی تھی جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چار گنا بڑھ گئی تھی اور دنیا خوفناک کساد بازاری کی شکار ہوئی۔ عرب ممالک نے تیل کی قیمت فروخت میں 70 فیصد اضافہ کر دیاتھا۔
نیویارک میں آتشزدگی
17اکتوبر1966ء کو نیویارک، مین ہیٹن کے فلیٹیر ون دسٹرکٹ کے پڑوس میں آتشزدگی کا ایک واقعہ پیش آیا۔ اس کو 23ویں سٹریٹ آتشزدگی کے نام سے بھی یا د کیا جاتا ہے۔ نیویارک سٹی فائر ڈیپارٹمنٹ کے فائر فائٹرز کا ایک گروپ آگ بجھانے کے عمل میں مصروف تھا کہ اچانک ایک عمارت گر گئی جس کے نتیجے میں12فائر فائٹر ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے گرنے تک فائر فائٹر محکمہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جانی نقصان تھا۔
لوما پریٹازلزلہ
17اکتوبر1989ء کو کیلیفورنیا کے وسطی ساحل لوماپریٹا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ان جھٹکوں کا مرکز وزکاؤنٹی کی نیسین مارکس اسٹیٹ پارک کے جنگل میں تھا۔زلزلے کی شدت6.9ریکارڈ کی گئی۔ اس کے نتیجے میں 63 افراد ہلاک جبکہ 3 ہزار 757شدید زخمی ہوئے۔سانتا کروز کاؤنٹی میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔ اس کے اثرات شمال کی طرف سان فرانسسکو کے خلیجی علاقے تک محسوس کئے گئے ۔
17اکتوبر کا احتجاج
17اکتوبر کا احتجاج، جسے عام طور پر ''انقلاب 17 اکتوبر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، لبنان میں سول احتجاج کا ایک سلسلہ تھا۔ احتجاج پیٹرول اور تمباکو پر ٹیکسوں کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔جمود معیشت، بے روزگاری،بجلی، پانی اور صفائی جیسے بنیادی مسائل کی وجہ سے احتجاج تیزی سے پورے ملک میں پھیل گیا۔مظاہروں سے سیاسی بحران پیدا ہونے پر وزیر اعظم سعد حریری نے استعفیٰ دے دیا ۔ حسن دیاب کی سربراہی میں نئی کابینہ تشکیل دی گئی لیکن بیروت دھماکوں کے بعد اس نے بھی استعفیٰ دے دیا۔
دوسری کوسوو جنگ
17 اکتوبر1448ء کو دوسری کوسوو جنگ کے دوران عثمانی فوج نے ہنگیرئن فوج کو شکست دی۔ یہ زمینی جنگ تین روز تک جاری رہی جس میں سلطان مراد دوئم کی سربراہی میں عثمانی فوج نے ریجنٹ جان ہنیادی کی صلیبی فوج کو شکست دی۔اس جنگ کے بعد ترکوں کیلئے سربیا اور بلقان کی دیگر ریاستوں کو فتح کرنے کا راستہ صاف ہو گیا۔اس فتح سے عثمانیوں نے چار سال قبل ورنا میں شکست کا بدلہ چکایا۔
پیرس میں قتل عام
17اکتوبر1961ء کو پیرس میں ایک خوفناک قتل عام کیا گیا۔ پولیس نے نیشنل لبریشن فرنٹ الجزائر کے ایک مظاہرے پر حملہ کیا گیاجس میں تقریباً30ہزار مظاہرین شریک تھے۔1998ء میں فرانسیسی حکومت نے 40مظاہرین کی اموات کو تسلیم کیا۔ بعض مورخین کا اندازہ ہے کہ اس حملے کے دوران 200 سے 300 کے درمیان لوگ مارے گئے تھے۔ زیادہ تر کی موت پولیس کی جانب سے تشدد اور ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی کیونکہ کہ پولیس نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو دریائے سین میں پھینکاتھا۔