آج کا دن
اسپیشل فیچر
معرکہ ہیسٹنگز
معرکہ ہیسٹنگز انگلستان کی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جنگ انگلستان کے بادشاہ ہیرلڈ دوم کی فوج اور نارمنڈی کے ڈیوک ولیم کی افواج کے درمیان لڑی گئی۔1066ء میں انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ دی کنفیسر کی وفات کے بعد تخت کی جانشینی کا تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ہیرلڈ دوم نے بادشاہت سنبھالی لیکن ولیم آف نارمنڈی نے بھی انگلستان کے تخت پر اپنا حق جتایا۔ 14 اکتوبر کو دونوں افواج موجودہ مشرقی سسیکس کے علاقے میں آمنے سامنے آئیں۔ اس فتح کے نتیجے میں ولیم نے انگلستان پر اپنی حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کی اور دسمبر 1066ء میں بادشاہ بن گیا۔
آواز کی رفتار سے تیز پرواز
14 اکتوبر 1947ء کو فضائی تاریخ میں ایک انقلابی کامیابی ہوئی جب امریکی پائلٹ چک ییگر نے تجرباتی راکٹ طیارے بیل ایکس-1 میں پرواز کرتے ہوئے آواز کی رفتار عبور کی۔ اس کامیابی نے تیز رفتار طیاروں کی تحقیق کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ چک ییگر نے اس طیارے میں کیلیفورنیا کے راجرز ڈرائی لیک کے اوپر پرواز کی۔ یہ کامیابی صرف ایک پائلٹ کا ریکارڈ نہیں تھی بلکہ جدید فضائی انجینئرنگ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تھی۔ اس نے یہ ثابت کرنے میں مدد دی کہ مناسب ڈیزائن، طاقتور انجنوں اور سائنسی تحقیق کے ذریعے سپرسونک پرواز ممکن ہے۔ اس کے بعد فوجی طیاروں، تجرباتی جہازوں اور بالآخر مسافر طیاروں کی تیز رفتار پرواز سے متعلق تحقیق کو نئی تحریک ملی۔
مارٹن لوتھر کنگ ، نوبیل انعام
14 اکتوبر 1964ء کو نسلی امتیاز کے خلاف پرامن جدوجہد کے اعتراف میں امریکی شہری حقوق کی تحریک کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو امن کے نوبیل انعام کے لیے منتخب کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر امریکا میں سیاہ فام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے۔ ان کی تقریر ''آئی ہیو اے ڈریم‘‘ نے نسلی مساوات کے مطالبے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔14 اکتوبر 1964ء کو امن کے نوبیل انعام کے اعلان نے ان کی جدوجہد کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 35 برس تھی۔انعام کی باقاعدہ تقریب دسمبر میں اوسلو، ناروے میں منعقد ہوئی۔ کنگ نے انعام کی رقم بھی شہری حقوق کی تحریک کے لیے وقف کر دی۔
کیوبا میزائل بحران
14 اکتوبر 1962ء کوسرد جنگ اور جوہری تصادم کا خطرہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی جاسوس طیارے یو2 نے کیوبا میں سوویت میزائل تنصیبات کی تصاویر حاصل کیں۔ ان شواہد نے اس بحران کو جنم دینے میں بنیادی کردار ادا کیا جس نے دنیا کو جوہری جنگ کے قریب پہنچا دیا۔ ان تصاویر کا تجزیہ کرنے کے بعد امریکی حکام کو کیوبا میں سوویت جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کی موجودگی کے شواہد ملے۔ کئی دن تک امریکا اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی برقرار رہی اور جوہری جنگ کا خطرہ حقیقی محسوس ہونے لگا۔ بالآخر سفارتی مذاکرات کے نتیجے میں سوویت یونین نے کیوبا سے میزائل ہٹانے پر اتفاق کیا جبکہ امریکا نے کیوبا پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ڈیزرٹ فاکس کی موت
14 اکتوبر 1944ء کو جرمن فیلڈ مارشل ایرون رومیل جو ڈیزرٹ فاکس کے نام سے مشہور تھا، ہٹلر کے خلاف سازش کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں خودکشی کر کے ہلاک ہوا۔ایرون رومیل دوسری عالمی جنگ کے معروف جرمن فوجی کمانڈروں میں شامل تھا۔ شمالی افریقہ کی مہم میں اس کی فوجی حکمت عملی اور تیز رفتار کارروائیوں کے باعث اسے ڈیزرٹ فاکس کا لقب دیا گیا۔ جون 1944ء میں اتحادی افواج نے فرانس کے نارمنڈی ساحل پر اتر کر مغربی یورپ میں جرمن قبضے کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی۔ اسی سال 20 جولائی کو ہٹلر کو قتل کرنے کی ناکام سازش کے بعد جرمن حکومت نے فوجی اور سیاسی حلقوں میں وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دیں۔رومیل کی موت فوجی قیادت، سیاسی وفاداری اور آمریت کے دباؤ پر تاریخی بحث کا موضوع ہے۔