مستقبل کی گاڑیاں
اسپیشل فیچر
خودکار ڈرائیونگ، شمسی توانائی اور ایک دوسرے سے رابطہ
آنے والی دہائی میں ہماری سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آج کے مقابلے میں بالکل مختلف ہو سکتی ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں مگر سٹیئرنگ سنبھالنے اور بار بار بریک لگانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی گاڑی نہ صرف خود راستہ پہچانتی ہے بلکہ آس پاس چلنے والی دوسری گاڑیوں سے بھی رابطے میں رہتی ہے۔ اس کی چھت اور باڈی پر موجود سولر سسٹم سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ ضرورت سے زائد انرجی کو برقی نظام میں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔یہ محض سائنس فکشن کی کہانی نہیں۔ معروف سائنسی ویب سائٹ 'لائیو سائنس‘ پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ان میں سے بعض ٹیکنالوجیز عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔
سولر انرجی سے چلنے والی گاڑیاں
الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک چارجنگ کا وقت، بیٹری کی قیمت اور چارجنگ سٹیشنوں کی دستیابی ہے۔سولر انرجی ان مسائل کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔ مستقبل میں گاڑی کی چھت، بونٹ اور دیگر حصوں پر ایسے سولر سیل نصب کیے جا سکتے ہیں جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کریں۔ امریکی کمپنی اپٹیرا نے 2024ء میں ایسی گاڑی کا پروٹوٹائپ پیش کیا تھاجس میں چھت، بونٹ اور دوسرے حصوں پر سولر پینل لگائے گئے تھے۔ کمپنی کے بیان کردہ اندازوں کے مطابق موزوں حالات میں یہ گاڑی روزانہ تقریباً 64 کلومیٹر تک سولر انرجی کی مدد سے سفر کر سکتی ہے جبکہ مکمل چارج پر اس کی بتائی گئی حد تقریباً 640 کلومیٹر ہے۔ ایک اور دلچسپ پیش رفت فوٹو وولٹائک پینٹ ہے۔ مرسڈیز بینز نے 2024ء میں ایسی ٹیکنالوجی پر تحقیق کا ذکر کیا تھا جو گاڑی کی باڈی پر رنگ کی تہہ کے ذریعے سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کر سکے۔ کمپنی کے مطابق لاس اینجلس جیسے دھوپ والے شہر میں اس سے سالانہ تقریباً 12 ہزار کلومیٹر کے سفر کے مساوی توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔
آپس میں بات کرتی گاڑیاں
مستقبل کی گاڑیوں میں ایک اہم تبدیلی ان کا باہمی رابطہ ہو گا۔ گاڑی سے گاڑی اور گاڑی سے سڑک کے نظام تک رابطے کی ٹیکنالوجی کوV2VاورV2X کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے گاڑیاں اپنی رفتار، سمت اور بریک لگانے جیسی معلومات ایک دوسرے تک پہنچا سکتی ہیں۔ بعض موجودہ نظام مختصر فاصلے کے ریڈیو سگنلز کے ذریعے تقریباً 300 میٹر تک معلومات پہنچا سکتے ہیں حتیٰ کہ ایسی گاڑیوں سے بھی جو ڈرائیور کو براہ راست دکھائی نہ دے رہی ہوں۔اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں اسے استعمال کریں اور مختلف کمپنیوں کے نظام ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں۔
خودکار ڈرائیونگ: ڈرائیور کی ذمہ داری کتنی کم ہو گی؟
مصنوعی ذہانت، کیمروں، ریڈار اور کمپیوٹرز کی مدد سے گاڑیاں اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور راستے کا فیصلہ کرنے کے قابل ہو رہی ہیں۔ آج بھی کئی گاڑیوں میں لین سے باہر نکلنے کی وارننگ اور خودکار رفتار برقرار رکھنے جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ اگلے دس سالوں میں ایسی خصوصیات مزید بہتر ہو سکتی ہیں۔مکمل خودکار گاڑی پیدل چلنے والوں، اچانک سامنے آنے والی رکاوٹوں، تعمیراتی کام اور سڑک پر غیر متوقع حالات کو پہچاننے کی کوشش کرے گی۔ بعض نظام ڈرائیور کی آنکھوں اور سر کی حرکت پر بھی نظر رکھیں گے تاکہ غفلت یا تھکن کی صورت میں اسے خبردار کیا جا سکے۔ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق مخصوص علاقوں اور حالات میں وسیع خودکار صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں 2035ء تک مارکیٹ کا تقریباً چار فیصد ہو سکتی ہیں۔
امکانات اور چیلنجز
پاکستان جیسے ممالک کے لیے ان ٹیکنالوجیز کی اہمیت خاص طور پر زیادہ ہے۔ یہاں پٹرول اور ڈیزل پر انحصار، فضائی آلودگی، ٹریفک حادثات اور بڑے شہروں میں ٹریفک جام اہم مسائل ہیں۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں الیکٹرک بسوں، ٹیکسیوں اور سرکاری گاڑیوں سے آغاز نسبتاً عملی قدم ہے۔پاکستان میں دھوپ کی وافر دستیابی سولر چارجنگ کے لیے ایک بڑا موقع ہے لیکن گاڑی کی باڈی پر لگے پینلز ہر وقت پوری توانائی فراہم نہیں کر سکتے۔ موسم، گردوغبار، پارکنگ کا سایہ، گاڑی کا استعمال اور بیٹری کی گنجائش نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے گھر، دفتر اور عوامی مقامات پر شمسی چارجنگ سٹیشنز بھی اہم ہوں گے۔اسی طرح خودکار گاڑیوں کے لیے واضح قوانین، معیاری سڑکیں، قابل اعتماد انٹرنیٹ یا مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور تربیت یافتہ تکنیکی عملہ درکار ہو گا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ حادثے کی صورت میں ذمہ داری ڈرائیور، گاڑی بنانے والی کمپنی یا سافٹ ویئر فراہم کرنے والے پر کیسے عائد ہو گی۔