غربت کا خاتمہ، باوقار زندگی کی ضمانت
اسپیشل فیچر
ہر سال 17 اکتوبر کو''غربت کے خاتمے کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے
غربت محض خالی جیب، بے روزگاری یا خوراک کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی معاشرتی محرومی ہے جو انسان سے اس کی بنیادی ضروریات، خوابوں کی تکمیل اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع چھین لیتی ہے۔ جب کسی گھر میں بچوں کی تعلیم کے بجائے دو وقت کی روٹی کا انتظام اوّلین ترجیح بن جائے، علاج کی استطاعت نہ ہونے کے باعث مریض بیماری سہنے پر مجبور ہوں اور محنت کرنے کے باوجود خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکیں تو غربت کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی اہم مسئلے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانے کیلئے ہر سال 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ نے 1992ء میں 17اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن قرار دیا۔ اس دن کا مقصد غربت اور محرومی کا شکار افراد کی مشکلات کو اجاگر کرنا، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور غربت کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔
غربت کی کثیرالجہتی وجوہات
دنیا کے مختلف معاشروں میں غربت کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم بے روزگاری، کم آمدنی، مہنگائی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، تعلیم کی کمی، سیاسی و معاشی عدم استحکام اور قدرتی آفات اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ، محدود روزگار، صحت کی ناکافی سہولتیں اور معیاری تعلیم تک عدم رسائی بھی غربت کے دائرے کو وسیع کرتی ہیں۔
غربت کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ غذائیت کی کمی، اسکول چھوڑنے کی مجبوری، کم عمری میں مزدوری اور صحت کے مسائل ان کی شخصیت اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ دوسری جانب غربت سے دوچار خاندانوں کو غیر محفوظ رہائش، صاف پانی اور مناسب طبی سہولتوں کے حصول میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے لگتی ہے اور معاشرے کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان میں غربت کا چیلنج
پاکستان بھی غربت کے مسئلے سے دوچار ہے۔ مہنگائی، محدود آمدنی، بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے کم آمدنی والے خاندانوں کی مشکلات بڑھائی ہیں۔عالمی بینک کی خطے میں غربت سے متعلق چشم کشا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انتہائی غربت کی شرح 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ خطے کے انتہائی غریب افراد کا تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتا ہے۔اس کے علاوہ افغانستان، شام اور یمن بھی غربت کے بڑے مراکز بن چکے ہیں جہاں مجموعی طور پر خطے کے 47 فیصد انتہائی غریب افراد بستے ہیں۔ خطے کی شدید غریب ترین آبادی 3 ڈالر یومیہ سے بھی کم کمانے والے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریجنل سطح پر غربت کی شرح قبل از کورونا سطح سے بھی اوپر اور مسلسل اضافے کا شکار ہے جاری مالی سال کے دوران پاکستان کا مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں، چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی ہو، فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنر سکھائے جائیں۔ زراعت، صنعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی سے آمدنی کے ذرائع بڑھائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری غریب خاندانوں کو مشکلات کے دائرے سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اجتماعی ذمہ داری اور روشن مستقبل
غربت کے خاتمے کی ذمہ داری صرف حکومتوں پر عائد نہیں ہوتی، بلکہ نجی اداروں، فلاحی تنظیموں، مخیر حضرات اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ صاحب استطاعت افراد مستحق خاندانوں کی مدد، بچوں کی تعلیم، مریضوں کے علاج اور ہنرمندی کے فروغ میں حصہ لے سکتے ہیں۔
غربت کے خاتمے کا عالمی دن محض ایک یادگاری موقع نہیں، بلکہ یہ عہدِ نو کی دعوت ہے کہ کسی انسان کو بھوک، بے گھری، بیماری یا تعلیم سے محرومی کے باعث بے بسی کی زندگی نہ گزارنا پڑے۔ ایک خوشحال معاشرہ وہی ہے جہاں ترقی کے مواقع سب کیلئے موجود ہوں، محنت کرنے والے کو مناسب معاوضہ ملے اور ہر فرد کو عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع میسر آئے۔
2026ء کا عنوان: سب کیلئے محفوظ گھر
غربت کے خاتمے کا عالمی دن ایک خاص تھیم کے ساتھ منایا جاتا ہے جو دو سال کیلئے ہوتی ہے۔ 2026ء سے 2028ء تک اس دن کا موضوع ''امن اور انسانی حقوق کیلئے متحد‘‘ ہے، جبکہ 2026ء میں خصوصی توجہ ''سب کیلئے محفوظ گھر‘‘ کے عنوان پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ مناسب رہائش تحفظ، معاشرتی سرگرمیوں میں شرکت اور باوقار زندگی گزارنے کی بنیاد ہے۔
دنیا بھر میں 2.8 ارب سے زائد افراد رہائش کی کسی نہ کسی قسم کی ناکافی سہولت کا سامنا کر رہے ہیں۔ غربت اور معاشرتی محرومی کا شکار افراد کو اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ محفوظ اور مستحکم گھر کی عدم موجودگی میں صحت کی سہولتوں، تعلیم، روزگار اور معاشرتی زندگی میں شرکت تک رسائی کہیں زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔
رہائش کا عدم تحفظ محض چھت کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ غیر محفوظ، ناقابلِ برداشت اخراجات والی، ضرورت سے زیادہ گنجان یا غیر یقینی رہائش غربت اور معاشرتی محرومی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور دیگر انسانی حقوق سے استفادے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی لیے 2026ء کیلئے جاری کردہ تصوراتی دستاویز میں ایسی رہائشی پالیسیوں اور نظاموں پر زور دیا گیا۔