بلڈ پریشر چیک کرتے وقت یہ غلطیاں نہ کریں!
اسپیشل فیچر
بازو کی پوزیشن ریڈنگ میں بہت بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے:ماہرین
بلڈ پریشر کی درست پیمائش صحت کی نگرانی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، مگر معمولی سی بے احتیاطی بھی ریڈنگ کو حقیقی مقدار سے زیادہ ظاہر کر سکتی ہے۔ بلڈ پریشر چیک کرتے وقت جسم کی پوزیشن، ٹانگوں کی حالت، بات چیت اور خصوصاً بازو کو مناسب جگہ پر نہ رکھنا نتیجے کو گمراہ کن بنا سکتا ہے۔ بعض افراد بلند ریڈنگ دیکھ کر بلاوجہ تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا دوا کے بارے میں غلط فیصلہ کر لیتے ہیں، حالانکہ مسئلہ پیمائش کے طریقۂ کار میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے درست تشخیص اور بروقت علاج کیلئے بلڈ پریشر ناپنے کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ہزاروں افراد میں معمول کے چیک اپ کے دوران معمولی غلطیوں کے باعث غلط طور پر بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کی تشخیص کیے جانے کا خدشہ ہے۔ ماہرین طب نے خبردار کیا ہے کہ بلڈ پریشر چیک کرنے کے طریقۂ کار میں معمولی کوتاہی بھی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔
مریض کو سیدھا بیٹھائیں
ماہرین کی ہدایات کے مطابق بلڈ پریشر ناپتے وقت مریض کو سیدھا بیٹھنا چاہیے اور اس کا بازو میز پر مناسب انداز میں سہارا دیا جانا چاہیے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اکثر ہسپتالوں میں اس ہدایت پر ہمیشہ عمل نہیں کیا جاتا، جس سے غلط ریڈنگ آنے اور غلط تشخیص کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ برطانوی ڈاکٹر ڈین ایگٹ کا کہنا ہے کہ اگر ہم بلند فشارِ خون سے لاحق نقصان کے خطرے سے دوچار افراد کی درست شناخت اور ان کا علاج کرنا چاہتے ہیں تو بلڈ پریشر کی درست پیمائش انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ علاج اور ادویات کے باعث پیدا ہونے والے مضر اثرات حقیقی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے مریضوں میں جو پہلے ہی کسی بیماری یا کمزوری کا شکار ہوں۔بلڈ پریشر ناپنے کی ناقص تکنیک بالآخر نامناسب علاج کے فیصلوں کا باعث بن سکتی ہے اور مریض کے معیارِ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
بازو کی پوزیشن
یہ انتباہ امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ بلڈ پریشر ناپتے وقت بازو کی پوزیشن ریڈنگ میں ''بہت بڑا فرق‘‘ پیدا کر سکتی ہے۔ جان ہاپکنز میڈیسن کے ماہرین نے دریافت کیا کہ اگر مریض کا بازو بغیر سہارے کے جسم کے پہلو میں لٹکا ہوا ہو توسسٹولک بلڈ پریشریعنی بلڈ پریشر کی ریڈنگ میں اوپر والا نمبر تقریباً 7 ملی میٹر مرکری تک بڑھ سکتا ہے۔بازو کو گود میں رکھنے کی صورت میں بھی سسٹولک بلڈ پریشر کی ریڈنگ تقریباً 4 ملی میٹر مرکری (mmHg) زیادہ ظاہر ہوئی۔
بازو دل کی سطح پر رکھیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ماہرین کی اس ہدایت کو مزید تقویت دیتے ہیں جس میں بلڈ پریشر چیک کرتے وقت مریض کا بازو دل کی سطح پر میز یا ڈیسک پر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بازو بغیر سہارے کے نیچے لٹکا رہتا ہے تو پٹھے سکڑ سکتے ہیں، جس سے عارضی طور پر بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب بازو کو گود میں رکھنے سے بازو اور دل کے درمیان فاصلہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بازو میں بلڈ پریشر زیادہ ہو سکتا ہے۔
لاعلمی نقصاندہ
ہائی بلڈ پریشر، جو تقریباً ہر تین بالغ افراد میں سے ایک کو متاثر کرتا ہے، فالج، ہارٹ اٹیک، گردوں کے امراض اور حتیٰ کہ ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔تاہم چونکہ بلند فشارِ خون کی علامات شاذونادر ہی ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے اکثر اس کا بروقت پتا نہیں چل پاتا اور تشخیص بہت دیر سے ہوتی ہے۔ اس مرض میں مبتلا بیشتر افراد کو اس کا علم ہی نہیں۔
مریضوں کیلئے مشورہ
مریضوں کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ بلڈ پریشر ناپنے سے پہلے کم از کم پانچ منٹ خاموشی سے بیٹھیں، دونوں پاؤں زمین پر رکھیں اور کمر کو مناسب سہارا حاصل ہو۔ بلڈ پریشر ناپنے والے ایڈجسٹ ایبل کف کا درمیانی حصہ دل کی درمیانی سطح پر ہونا چاہیے، جبکہ بازو میز یا ڈیسک پر رکھا ہو۔ اس تحقیق کیلئے جان ہاپکنز میڈیسن کے محققین نے 18 سے 80 سال کی عمر کے 133 بالغ افراد کا بلڈ پریشر ناپا۔ریڈنگ لینے سے قبل تمام شرکاء نے دو منٹ چہل قدمی کی، تاکہ ایسا محسوس ہو جیسے وہ ابھی ڈاکٹر کے کلینک پہنچے ہوں۔ اس کے بعد انہیں پانچ منٹ بیٹھنے کیلئے کہا گیا۔شرکاء کے بلڈ پریشر کی متعدد ریڈنگز لی گئیں، جن کے درمیان 30، 30 سیکنڈ کا وقفہ تھا۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ صرف بازو کی پوزیشن کی وجہ سے بھی بعض مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر، جسے طبی اصطلاح میں ہائپرٹینشن کہا جاتا ہے، کی تشخیص ہو سکتی ہے۔ بازو کو جسم کے پہلو میں بغیر سہارے کے لٹکانے کی صورت میں سب سے زیادہ ریڈنگ سامنے آئی۔ محققین نے پایا کہ اس پوزیشن میں سسٹولک بلڈ پریشر 6.5 ملی میٹر مرکری (mmHg) اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر 4.4 ملی میٹر مرکری زیادہ ظاہر ہوا۔
نارمل ریڈنگ
ماہرین کے مطابق نارمل بلڈ پریشر 90/60 ایم ایم ایچ جی سے 120/80ایم ایم ایچ جی کے درمیان ہوتا ہے۔ گھر پر بلڈ پریشر ناپنے کی صورت میں 135/85 ایم ایم ایچ جی سے زیادہ ریڈنگ کو بلند فشارِ خون تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ہسپتال میں طبی ماہر کے ذریعے پیمائش کی جائے تو 140/90ایم ایم ایچ جی یا اس سے زیادہ بلڈ پریشر ہائی تصور کیا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزارنے والے نصف سے زیادہ افراد اس بات سے لاعلم ہیں کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں، جس کے باعث ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔