پراسرار ذرات کی کھوج
اسپیشل فیچر
فرانسس ہالزن کی تحقیق، کائنات کو سمجھنے کی کوشش
2026 ء کا فزکس کانوبل انعام امریکی یونیورسٹی وسکانسن میڈیسن سے وابستہ بیلجیئم نژاد پروفیسر فرانسس ہالزن کو دیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز انٹارکٹیکا میں قائم آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی تیاری اور کائناتی ماخذ رکھنے والے انتہائی توانائی کے حامل نیوٹرینو ذرات کی دریافت میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔ ان کی تحقیق نے سائنسدانوں کو کائنات کے ان گوشوں کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جہاں تک روایتی دوربینوں کی رسائی محدود ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے انسان نے کائنات کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے دور دراز علاقوں سے آنے والے انتہائی چھوٹے ذرات کا سراغ لگانے کا ایک نیا طریقہ حاصل کیا ہے۔
نیوٹرینو کیا ہیں اور ان کی دریافت کیوں اہم ہے؟
نیوٹرینو انتہائی چھوٹے بنیادی ذرات ہیں جو برقی چارج نہیں رکھتے اور ان کی کمیت بھی نہایت معمولی ہوتی ہے۔ یہ ذرات سورج، دوسرے ستاروں اور کائنات میں ہونے والے انتہائی توانائی بخش واقعات کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ذرات ہمارے جسم اور زمین میں سے گزرتے ہیں لیکن ہمیں ان کا احساس نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیوٹرینو عام مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ روشنی کے ذرات یا برقی چارج رکھنے والے ذرات کے برعکس نیوٹرینو کائنات میں طویل فاصلے طے کرتے ہوئے گیس، گردوغبار اور دوسرے مادے سے تقریباً غیر متاثر رہ سکتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں سائنسی تحقیق کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی دور دراز کہکشاں کے مرکز میں بلیک ہول کے گرد مادہ انتہائی تیزی سے حرکت کر رہا ہو تو وہاں پیدا ہونے والی روشنی اور دوسری شعاعیں گردوغبار یا گرم مادے میں جذب ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس وہاں پیدا ہونے والے نیوٹرینو نسبتاً آسانی سے باہر نکل کر زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے منبع اور وہاں ہونے والے طبیعی عمل کے بارے میں معلومات اپنے ساتھ لاتے ہیں۔تاہم ان ذرات کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہ شاذونادر ہی کسی دوسرے ذرے سے ٹکراتے ہیں۔ اسی لیے سائنسدانوں کو ایسے غیر معمولی بڑے آلات کی ضرورت پڑی جو بہت بڑی مقدار میں مادے کے اندر ان کے انتہائی نایاب تعاملات کو ریکارڈ کر سکیں۔
آئس کیوب آبزرویٹری، برف میں چھپی ہوئی ایک عظیم تجربہ گاہ
فرانسس ہالزن کی نمایاں سائنسی بصیرت یہ تھی کہ انٹارکٹیکا کے جنوبی قطب پر موجود صاف اور گہری برف کو نیوٹرینو کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 1980 ء کی دہائی کے آخر میں اس تصور پر کام شروع کیا۔ بعد ازاں اس خیال کو عملی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر طویل تحقیق، انجینئرنگ اور مالی وسائل درکار ہوئے۔اس منصوبے کا نتیجہ آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی صورت میں سامنے آیا جس کی تعمیر 2011ء میں مکمل ہوئی۔ یہ دنیا کے منفرد ترین سائنسی آلات میں سے ایک ہے۔ اس کے تقریباً ایک مکعب کلومیٹر کے حجم میں پھیلی ہوئی برف کے اندر پانچ ہزار سے زیادہ حساس سینسر نصب ہیں۔ یہ سینسر سطح زمین سے تقریباً 1450 سے 2450 میٹر کی گہرائی میں موجود ہیں۔
برف نیوٹرینو کو کیسے پکڑ سکتی ہے؟
جب کوئی نیوٹرینو انتہائی کم امکان کے باوجود برف میں موجود کسی ایٹمی نیوکلیس یا دوسرے ذرے سے تعامل کرتا ہے تو اس عمل کے نتیجے میں دوسرے چارج شدہ ذرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات برف میں سفر کرتے ہوئے ایک مخصوص قسم کی نیلی روشنی خارج کرتے ہیں جسے چیرینکوف روشنی کہا جاتا ہے۔ آبزرویٹری میں نصب سینسر اس روشنی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ سائنسدان ان روشنی کے سگنلز کے وقت، سمت اور شدت کا تجزیہ کرکے اندازہ لگاتے ہیں کہ نیوٹرینو کہاں سے آیا، اس کی توانائی کتنی تھی اور اس نے کس قسم کا تعامل کیا۔
نیوٹرینو کی دریافت نے کیا بدلا؟
آئس کیوب آبزرویٹری نے 2013ء میں دور دراز کائناتی ذرائع سے آنے والے انتہائی توانائی کے حامل نیوٹرینو کی موجودگی کے شواہد پیش کیے۔ یہ کامیابی نیوٹرینو فلکیات کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس کے بعد سائنسدانوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ صرف روشنی یا دوسری برقی مقناطیسی شعاعوں کی مدد سے نہیں بلکہ نیوٹرینو کے ذریعے بھی کائنات کا مطالعہ کریں۔ 2026ء کا نوبل انعام اسی سائنسی بصیرت، قیادت اور نیوٹرینو فلکیات کے میدان میں ان کے فرانسس ہالزن کے کردار کا اعتراف ہے۔یہ دریافت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات کے راز صرف روشنی سے نہیں کھلتے۔ نیوٹرینو کی مدد سے سائنسدان اب ان دور دراز مقامات کا مطالعہ کر سکتے ہیں جہاں کائنات کے انتہائی توانائی بخش واقعات جنم لیتے ہیں۔ مستقبل میں یہ تحقیق بلیک ہولز، کہکشاؤں اور کائنات کی بنیادی طبیعیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔