ایپل کی تاریخ، جدت کی داستان
اسپیشل فیچر
ایک چھوٹے سے آغاز سے عالمی ٹیکنالوجی دیوبننے تک کا سفر
دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی تاریخ جدت، مسلسل تجربات اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ آج آئی فون، آئی پیڈ، میک، ایپل واچ اور دیگر مصنوعات کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جانے والی یہ کمپنی اپنے ابتدائی دور میں شوقیہ کمپیوٹر صارفین کیلئے تیار کی جانے والی کٹس فروخت کرنے والا ایک چھوٹا سا کاروبار تھی۔ ایپل کے سفر کا آغاز یکم اپریل 1976ء کو اسٹیو جابز، اسٹیو ووزنیاک اور رونالڈ وین کی جانب سے کمپنی کے قیام سے ہوا۔ اس دور میں ووزنیاک کمپیوٹر کٹس خود تیار کرتے اور انہیں شوقیہ صارفین کیلئے پیش کیا جاتا تھا۔
ابتدائی مصنوعات
کمپنی کی پہلی مصنوعات میں ''ایپل I‘‘ شامل تھا،جس کے ایک سال بعد 1977ء میں ایپل نے ''ایپل II‘‘ متعارف کرایا۔ یہ ایسا کمپیوٹر تھا جس نے کمپیوٹر کو محدود ماہرین اور شوقیہ افراد کی دنیا سے نکال کر بڑے پیمانے پر صارفین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1981ء میں اسٹیو جابز ایپل کے چیئرمین بنے۔
میکنٹوش کمپیوٹر متعارف
1984ء ایپل کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا جب میکنٹوش کمپیوٹر متعارف کرایا گیا۔ تاہم ایک سال بعد میکنٹوش کو بند کر دیا گیا جبکہ اسٹیو جابز نے بھی ایپل چھوڑ دیا۔ 1987ء میں کمپنی نے ''میکنٹوش II‘‘ پیش کیا، جو رنگین ڈسپلے رکھنے والا پہلا میک کمپیوٹر تھا۔
NeXT کی خریداری
1997ء میں ایپل نے NeXT سافٹ ویئر کمپنی کو 40 کروڑ ڈالر میں خریدنے کا اعلان کیا۔ اس معاہدے کے ساتھ اسٹیو جابز ایک مرتبہ پھر ایپل میں واپس آئے۔ 2000ء میں انہوں نے باضابطہ طور پر چیف ایگزیکٹیو کا منصب سنبھال لیا۔
آئی پوڈ متعارف
2001ء میں کمپنی نے آئی ٹیونز، او ایس ایکس اور پہلی نسل کا آئی پوڈ متعارف کرایا۔ 23 اکتوبر 2001ء کو کیوپرٹینو میں پیش کیا جانے والا پہلا آئی پوڈ ایک ہزار تک گانے محفوظ کر سکتا تھا۔ اس چھوٹے سے میوزک پلیئر نے موسیقی سننے کے انداز میں نمایاں تبدیلی پیدا کی اور ایپل کی شناخت صرف کمپیوٹر بنانے والی کمپنی کے بجائے صارفین کی روزمرہ ٹیکنالوجی سے جڑی کمپنی کے طور پر مستحکم ہونے لگی۔
آئی فون و آئی پیڈ
2007ء میں اسٹیو جابز نے آئی فون متعارف کرایا، جس نے موبائل فون، انٹرنیٹ اور تفریح کو ایک ہی آلے میں یکجا کرنے کی نئی راہ دکھائی۔ اس کے تین سال بعد 2010ء میں پہلا آئی پیڈ پیش کیا گیا۔
ٹِم کک کی انٹری
2011ء میں صحت کے مسائل کے باعث اسٹیو جابز نے چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور ٹِم کک نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ ٹِم کک کے دور میں بھی ایپل نے اپنی مصنوعات کے دائرے کو وسیع کیا۔ 2014ء میں ایپل واچ کے ساتھ آئی فون 6 اور آئی فون 6 پلس متعارف کرائے گئے۔
ایپل میوزک کا آغاز
2015ء میں Beats کے حصول کے بعد ایپل میوزک شروع کیا گیا، جس کے ذریعے کمپنی نے اسپاٹی فائی سمیت دیگر میوزک اسٹریمنگ سروسز کے میدان میں قدم رکھا۔
چھوٹے فون
2016ء میں کمپنی نے نسبتاً چھوٹے سائز کے فونز کی جانب توجہ دیتے ہوئے چار انچ اسکرین والا آئی فون SE پیش کیا۔
آئی فون X
2017ء میں آئی فون X کے ذریعے ایپل نے ایک مرتبہ پھر اپنے ڈیزائن میں بڑی تبدیلی کی۔ ہوم بٹن ختم کرکے کنارے سے کنارے تک پھیلی اسکرین متعارف کرائی گئی جبکہ ''فیس آئی ڈی‘‘کے ذریعے چہرے کی شناخت سے فون کھولنے کی سہولت دی گئی۔ 2018ء میں ''آئی او ایس12‘‘ کے ساتھ اسکرین ٹائم اور دیگر خصوصیات متعارف کرائی گئیں۔
منافع میں کمی
2019ء میں ایک دہائی کے دوران پہلی مرتبہ کمپنی نے آمدنی اور منافع میں کمی کی اطلاع دی۔ 2020ء میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث چین کے علاوہ دنیا بھر میں ایپل کے ریٹیل اسٹورز عارضی طور پر بند کیے گئے۔
کاربن نیوٹرل وAI
2021ء میں کمپنی نے کاربن نیوٹرل بننے کے عزم کا اظہار کیا اور اسی سال آئی فون 13 بھی متعارف کرایا۔2022ء میں آئی فون 14 کے ساتھ حادثے کی نشاندہی کرنے والے سینسر اور بہتر کیمرہ نظام جیسی خصوصیات پیش کی گئیں۔ 2023ء میں ہوم پوڈ دوبارہ متعارف کرایا، جبکہ 2024ء میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پیشرفت کو ایپل انٹیلی جنس کے ذریعے نمایاں کیا۔
قیادت کی تبدیلی
2026ء ایپل کی قیادت کے حوالے سے بھی اہم سال ثابت ہوا۔ ٹِم کک نے چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے الگ ہو کر ایگزیکٹو چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ کمپنی کے ہارڈویئر شعبے کے سربراہ 51 سالہ جان ٹرنَس نے یکم ستمبر کو چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا۔
1976ء میں کمپیوٹر کٹس سے شروع ہونے والا ایپل کا یہ سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں مسلسل تبدیلی کے باوجود جدت اور نئے تصورات کسی کمپنی کی شناخت کو کئی دہائیوں تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔