اردو اور مصنوعی ذہانت: موقع بھی، امتحان بھی
اسپیشل فیچر
دفتر میں ایک کلرک موبائل پر انگریزی خط کا اردو ترجمہ کروا رہا ہے۔ایک طالبہ اسائنمنٹ کے مشکل سوال پر مصنوعی ذہانت سے الجھ رہی ہے۔ بزرگ کو اردو کی بورڈ سے اب بھی الجھن ہوتی ہے، سو وہ بولتا جاتا ہے اور فون لکھتا جاتا ہے۔ چند برس پہلے کوئی یہ منظر بیان کرتا تو شاید ہم اسے سائنس فکشن کہتے۔ اب کسی کو حیرت بھی نہیں ہوتی۔ مشین اردو بولنے لگی ہے۔پڑھ بھی لیتی ہے، لکھ بھی دیتی ہے، ترجمہ بھی کر دیتی ہے۔ کبھی ایسی اردو کہ آدمی داد دے، کبھی ایسا جملہ کہ فوراً پتا چل جائے صاحب اردو گھر کی زبان نہیں۔
مصنوعی ذہانت اردو کیلئے ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے یا ہم اپنی زبان کو آہستہ آہستہ مشین کے مزاج پر ڈھال رہے ہیں؟شاید دونوں باتیں درست ہیں۔کسی زمانے میں انگریزی کا خط آ جائے تو دفتر میں وہ شخص تلاش کیا جاتا تھا جس کی انگریزی اچھی ہو۔ آج موبائل نکالیے، تصویر لیجیے اور ترجمہ سامنے۔ درخواست لکھوانی ہو، کسی لمبی تحریر کا خلاصہ چاہیے، انگریزی پیغام سمجھ نہیں آ رہا یا جواب اردو میں دینا ہے، بہت سے کام چند لمحوں میں ہو جاتے ہیں۔
آواز سے اردو لکھنے کی سہولت نے تو ایک اور رکاوٹ ختم کر دی ہے۔ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عمدہ اردو بول سکتے ہیں مگر موبائل پر اردو ٹائپ کرتے ہوئے ان کی رفتار آدھی رہ جاتی ہے۔ اب وہ بولتے ہیں اور فون لکھتا جاتا ہے۔ یعنی زبان اور ٹیکنالوجی کے درمیان جو دروازہ مدت سے آدھا بند تھا، وہ کچھ کھلا ہے۔مگر پورا نہیں۔
نستعلیق صرف فونٹ نہیں
برسوں ہم نے اخبار، رسالہ اور کتاب انٹرنیٹ پر ڈالنے کو یہ سمجھا کہ اس کے صفحے کی تصویر چڑھا دی، کام ختم۔ انسان اسے پڑھ لیتا تھا، مشین کیلئے اکثر وہ صرف تصویر تھی۔پھر ہمارا نستعلیق ہے۔اردو والے جانتے ہیں کہ نستعلیق صرف حروف نہیں، ہماری آنکھ کی عادت بھی ہے۔ شعر نستعلیق میں نظر آئے تو کچھ اور لگتا ہے۔ مگر مشین کیلئے یہی حسن مصیبت بن جاتا ہے۔ حروف جڑتے ہیں،نقطے اپنی جگہیں بدلتے ہیں۔ پرانی کتاب کا زرد صفحہ، مدھم روشنائی اور اوپر سے نستعلیق،مشین سے کہیے اسے حرف بہ حرف درست پڑھو، تو اس کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت بازار، دفتر اور سوشل میڈیا والی اردو میں خاصی تیز ہے، لیکن محاورہ ذرا ٹیڑھا ہو، طنز دبا ہوا ہو یا شعر میں بات لفظ کے بجائے اشارے سے کہی گئی ہو تو اس کے قدم لڑکھڑا سکتے ہیں۔
الماریوں میں پڑا خزانہ
کبھی کسی پرانے گھر کی کتابوں والی الماری کھولیے۔کتاب کا کاغذ زرد، جلد کے کنارے اکھڑے ہوئے ۔ بعض کتابیں ایسی ہیں جن کا نیا نسخہ شاید بازار میں ملے ہی نہ۔ہمارے کتب خانوں، پرانے اداروں اور گھروں میں ایسا کتنا مواد پڑا ہے۔یہاں مصنوعی ذہانت اردو کی بڑی خدمت کر سکتی ہے۔ اگر اردو کی تحریر پہچاننے کے نظام بہتر ہو جائیں تو لاکھوں صفحات صرف تصویروں کی صورت محفوظ نہیں ہوں گے بلکہ باقاعدہ متن بن سکتے ہیں۔ کسی پرانی کتاب میں نام، شعر یا واقعہ تلاش کرنا ممکن ہوگا۔ جو کتاب لاہور یا کراچی کی کسی الماری میں بند ہے، اسے دنیا کے دوسرے سرے پر بیٹھا طالب علم پڑھ سکے گا۔
مشین کی عادت ذرا خطرناک ہے
وہ غلط بھی ہو تو بعض اوقات لہجہ ایسا رکھتی ہے جیسے بات پتھر پر لکھی ہو۔ آپ کسی شعر کا شاعر پوچھیں، وہ نام بتا دے گی۔ نام غلط بھی ہو سکتا ہے۔ کتاب کا حوالہ مانگیں تو کبھی ایسی کتاب یا صفحہ بھی سامنے آ سکتا ہے جس کا وجود تلاش کرنے پر مشکل سے ملے،یا ملے ہی نہیں۔ اردو میں یہ خطرہ زیادہ ہے، کیونکہ ہمارے پاس پہلے ہی اشعار کی غلط نسبت کا پورا بازار آباد ہے۔ سوشل میڈیا پر اقبال، غالب اور فراز کے نام سے وہ کچھ گردش کرتا رہا ہے جو شاید ان تینوں نے خواب میں بھی نہ کہا ہو۔اور پھر لکھنے کا معاملہ ہے۔آج چند سطریں لکھ کر کہیں کہ غزل بنا دو، افسانہ لکھ دو، کالم تیار کر دو۔ جواب حاضر۔سوال یہ نہیں کہ مشین ایسا کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر لکھنے والا کہاں ہے؟اگر خیال بھی ادھار، جملہ بھی تیار، استعارہ بھی مشین کا اور آخری سطر بھی وہی دے رہی ہے توکیا صفحے کے اوپر اپنا نام لکھ دینے سے تحریر اپنی ہو جاتی ہے؟ ۔مجھے ایک اور خطرہ اس سے بھی بڑا لگتا ہے،بے رنگ اردو۔وہ اردو جس میں املا درست ہو، جملہ مکمل ہو، قواعد بھی سلامت ہوںمگر پڑھ کر معلوم نہ ہو کہ اسے لاہور والے نے لکھا، لکھنؤ والے نے، کراچی والے نے یا کسی مشین نے۔ زبان صرف درست جملے نہیں ہوتی۔اس میں محلے کی آواز ہوتی ہے، ماں کا بولا ہوا کوئی لفظ، دادی کی کہاوت، گلی کی پھبتی، پنجابی کی آمیزش، دکنی کی مٹھاس، کراچی کا اپنا لہجہ اور لکھنے والے کی اپنی کجی بھی ہوتی ہے۔ہر کجی درست کر دی جائے تو کبھی کبھی زبان بھی سیدھی نہیں، سپاٹ ہو جاتی ہے۔
اب کام ہمارا ہے
مصنوعی ذہانت سے یہ شکایت کرنا آسان ہے کہ اسے اچھی اردو نہیں آتی۔مگر سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے اسے پڑھنے کیلئے دیا کیا ہے؟ کتنی پرانی کتابیں قابلِ تلاش متن میں موجود ہیں؟ کتنے رسائل صرف بوسیدہ جلدوں میں بند ہیں؟ ہماری جامعات نے کتنا معیاری اردو مواد ڈیجیٹل صورت میں محفوظ کیا؟ ناشر اپنے پرانے ذخیرے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟مشین خلا میں زبان نہیں سیکھتی۔ اسے جو ملتا ہے، اسی سے سیکھتی ہے۔اس لیے کام صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کا نہیں۔ جامعات، کتب خانے، اخبارات، ناشر، ادبی ادارے اور لکھنے والے سب اس میں شریک ہیں۔