آج تم یاد بے حساب آئے!سلیم ناصر: ہر دلعزیز اداکار (1989-1944ء)
اسپیشل فیچر
٭...15 نومبر1944 کو ناگ پور (بھارت) میں پیدا ہونے والے سلیم ناصرکا اصل نام سید شیر خان تھا۔
٭...وہ روشن خیال خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان آ گیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔
٭... مادری زبان پشتو ہونے کے باوجود انہیں اردو پر بھی کمال عبور حاصل تھا، یہی وجہ تھی کہ اکثر لوگ انہیں پشتو بولتا دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔
٭...گریجویشن کے بعد وہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں بحیثیت افسر شعبہ تعلقات عامہ لگ گئے،مگر اس شعبے کو اپنی منزل نہ سمجھتے ہوئے اداکاری کے شعبے کی طرف مائل ہو گئے۔
٭... فنی سفر کا آغاز ٹی وی سے کیا اور ہر قسم کے کردار کو بخوبی نبھا یا۔
٭... ان کی خوش بختی یہ تھی کہ ان کو ایسے کردار دیئے گئے جو ان کی شخصیت کے عین مطابق تھے اور انہوں نے ان کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھردیا۔
٭...''دستک‘‘ ڈرامہ میں انہوں نے وکیل کا کردارادا کیا، جو بہت پسند کیا گیا۔ ان کے ساتھ ایاز نائیک، شازیہ اختر اور قاضی واجد تھے۔
٭... ''ان کہی‘‘ میں ان کی اداکاری کی بہت تحسین کی گئی۔ یہ سیریز حسینہ معین کے زورِ قلم کا نتیجہ تھی،جس میں ان کے ساتھ شہناز شیخ جاویدشیخ، شکیل اور آصف رضا میر نے بھی شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔
٭... ٹی وی ڈرامہ ''نشان حیدر‘‘ میں کیپٹن سرور شہید کا یادگار کردار،''آخری چٹان‘‘ میں سلطان جلال الدین منگوبیروی کا کردار ادا کیا اور اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
٭... ان کا ایک اور یادگار ڈرامہ ''یانصیب کلینک‘‘ تھا۔ اس میں انہوں نے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا۔
٭... ''آنگن ٹیڑھا‘‘ ان کا سب سے مقبول ڈرامہ ہے، جسے انور مقصود نے تحریر کیااور انہوں نے نوکر کا کردارادا کیا ،جو پہلے ڈانسر ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ اس ڈرامے میں شکیل، بشریٰ انصاری اور ارشدمحمود تھے۔
٭... 1989ء میں بننے والی پی ٹی وی کی شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل ''جانگلوس‘‘ ان کا آخری ڈرامہ ثابت ہوا۔
٭... انہیں مکالموں کی ادائیگی پر عبورحاصل تھا۔ ''آخری چٹان‘‘ میں ان کے مکالمے بولنے کے انداز نے ایک سماں باندھ دیا تھا۔
٭...ٹی وی ڈراموں کے علاوہ انہوں نے 10 فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، جن میں ایک پنجابی فلم بھی شامل تھی۔
٭...ان کی مقبول فلموں میں چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی فلم ''زیب النسا ‘‘بھی شامل ہے۔
٭...وہ اداکارمحمد علی سے متاثر تھے اور عدالت کے مناظر میں ان کی طرح مکالمے بولتے تھے۔ ان کی آواز بھی بڑی توانا اور پُرکشش تھی۔
٭... ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے اعلیٰ ترین صدارتی اعزا ز''تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔
٭... 24 ستمبر 1989ء کو انہیں دل کا دورہ پڑا۔ 19 اکتوبرکو دوبارہ دل کی تکلیف ہوئی۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا، لیکن وہ طبی امداد ملنے سے پہلے ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہوں نے 45 برس کی عمرپائی۔