آج کا دن
اسپیشل فیچر
ریاست لوزیانا کی خریداری
20 اکتوبر 1803ء کو امریکی سینیٹ نے فرانس سے لوزیانا کا وسیع علاقہ خریدنے کے معاہدے کی منظوری دی۔ یہ واقعہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جغرافیائی توسیع اور مستقبل کی ترقی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔لوزیانا کا علاقہ دریائے مسیسیپی کے مغرب میں پھیلی ہوئی وسیع زمینوں پر مشتمل تھا جس میں آج کی کئی امریکی ریاستوں کے علاقے شامل ہیں۔اس خریداری کی مجموعی قیمت تقریباً 15 ملین ڈالر تھی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا جس سے اسے مغرب کی جانب پھیلنے، زراعت کو فروغ دینے اور نئے وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع ملے۔ تاہم اس توسیع کے نتیجے میں مقامی امریکی آبادیوں کی زمینوں اور حقوق سے متعلق مسائل بھی مزید سنگین ہوگئے۔
جنگِ آزادی یونان
20 اکتوبر 1827ء کو بحیرہ روم کے علاقے میں واقع خلیجِ ناوارینو، جو موجودہ یونان کے جنوب مغربی ساحل کے قریب ہے، ایک فیصلہ کن بحری جنگ کا میدان بنی۔ یہ جنگ یونان کی سلطنتِ عثمانیہ سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کے دوران لڑی گئی۔ برطانیہ، فرانس اور روس کے مشترکہ بحری بیڑے نے عثمانی اور مصری بحری افواج کا مقابلہ کیا۔ ان یورپی طاقتوں کا مقصد یونان میں جاری جنگ کو روکنے اور یونانیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ یہ جنگ بحری تاریخ میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے بادبانی جہازوں کے ذریعے لڑی جانے والی آخری بڑی بحری جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس فتح نے یونان کی آزادی کی جدوجہد کو فیصلہ کن تقویت دی۔
جنرل میک آرتھر کی واپسی
دوسری جنگِ عظیم کے دوران 20 اکتوبر 1944ء کو امریکی جنرل ڈگلس میک آرتھر اتحادی افواج کے ساتھ فلپائن کے جزیرے لیئتے پر اترے۔ یہ واقعہ جاپانی قبضے سے فلپائن کو آزاد کرانے کی مہم میں ایک اہم سنگِ میل تھا۔ جاپانی افواج نے 1941ء اور 1942ء کے دوران فلپائن پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد میک آرتھر کو امریکی اور فلپائنی افواج کے ساتھ وہاں سے نکلنا پڑا۔ روانگی کے وقت انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ واپس آئیں گے۔لیئتے پر اتحادی افواج کی تعیناتی ایک بڑے فوجی آپریشن کا حصہ تھی جس میں امریکی بحری اور زمینی افواج نے مشترکہ کارروائی کی۔ اس مہم کا مقصد فلپائن میں جاپانی فوجی طاقت کو کمزور کرنا اور بحرالکاہل میں اتحادی افواج کی پیش قدمی کو تیز کرنا تھا۔
چین بھارت جنگ
20 اکتوبر 1962ء کو چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع نے بڑے پیمانے کی جنگ کی شکل اختیار کر لی۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں کے تعین، تاریخی دعوؤں اور ہمالیائی علاقوں پر کنٹرول کے حوالے سے کشیدگی کئی برسوں سے جاری تھی۔ مشرقی حصے میں میک موہن لائن کے بارے میں اختلافات اور مغربی حصے میں لداخ کے علاقے پر دعوے اس تنازع کے بنیادی اسباب میں شامل تھے۔اس روز چینی افواج نے مشرقی سرحدی علاقے اور لداخ میں بھارتی چوکیوں پر حملے کیے۔یہ جنگ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔ چین نے 21 نومبر 1962ء کو جنگ بندی کی جس کے بعد مشرقی محاذ پر چینی افواج کی واپسی کا عمل شروع ہوا جبکہ مغربی علاقے خصوصاً اکسائی چن، کا تنازع برقرار رہا۔
واٹرگیٹ سکینڈل اور سنیچر نائٹ میسکر
20 اکتوبر 1973ء کو امریکہ میں ایک ایسا سیاسی بحران پیدا ہوا جسے تاریخ میں سنیچر نائٹ میسکر (Saturday Night Massacre) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ صدر رچرڈ نکسن کے دورِ حکومت میں سامنے آنے والے واٹرگیٹ سکینڈل کا اہم مرحلہ تھا۔ واٹرگیٹ سکینڈل کا تعلق 1972ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی ہیڈکوارٹر میں ہونے والی غیر قانونی دراندازی اور اس واقعے کو چھپانے کی کوششوں سے تھا۔ اس واقعے نے امریکی عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا بالآخر نکسن کی صدارت کے خاتمے کی جانب بڑھنے والے واقعات میں شامل ہوا۔ واٹرگیٹ سکینڈل کی تحقیقات اور وائٹ ہاؤس کی ریکارڈنگز سامنے آنے کے بعد صدر کے لیے سیاسی دباؤ بڑھتا گیا۔ بالآخر نکسن نے 9 اگست 1974ء کو استعفیٰ دے دیا۔