سپرال نینو
اسپیشل فیچر
عالمی ماحولیاتی نظام کیلئے نیا خطرہ
قدرتی موسمیاتی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیاں کبھی کبھار پوری دنیا کے موسم، زراعت، سمندری حیات اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ال نینو بھی ایسا ہی ایک قدرتی عمل ہے، لیکن 2026ء میں اس کے غیر معمولی طور پر طاقتور ہونے کے خدشات نے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ ال نینو انتہائی شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف درجہ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں ماحولیاتی توازن، جنگلی حیات اور انسانی خوراک کے وسائل بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ال نینو مضبوط ہو رہا ہے اور جنوری سے مارچ 2027 ء تک اس کے شدید یا انتہائی شدید رہنے کا امکان نمایاں ہے۔ تاہم اس کی شدت اور مختلف علاقوں پر اس کے اثرات کے بارے میں پیش گوئیوں کو مسلسل نئے مشاہدات کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔
ال نینو اور سپر ال نینو کیا ہے؟
ال نینو بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب سمندر کی سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کے موسمیاتی عمل کو کہا جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے سمندر اور فضا کے درمیان حرارت کا تبادلہ، ہواؤں کی سمت اور بارش کے معمولات متاثر ہوتے ہیں نتیجتاً دنیا کے ایک حصے میں خشک سالی ہو تی ہے جبکہ دوسرے حصے میں غیر معمولی بارشیں اور سیلاب آ سکتے ہیں۔جب بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے بہت زیادہ بڑھ جائے اور اس کے ساتھ فضائی گردش میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں تو اسے سپر ال نینو کہا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ زمین پہلے ہی انسانی سرگرمیوں، بالخصوص فوسل فیول کے استعمال کے باعث گرم ہو رہی ہے۔ ایسے میں ال نینو کی اضافی حرارت عالمی درجہ حرارت کو مزید بلند کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس رجحان کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر علاقے میں یکساں گرمی یا خشک سالی ہوگی۔ اس کے اثرات خطے، موسم اور سمندر و فضا کی دیگر تبدیلیوں کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
بحری اور جنگلی حیات پر اثرات
سپر ال نینو کے ممکنہ اثرات میں سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والا نقصان خاص طور پر تشویشناک ہے۔ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنے سے مرجان کی چٹانیں متاثر ہوتی ہیں، اس عمل کو کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔مرجان کی چٹانیں بے شمار مچھلیوں اور دوسرے سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے جگہ فراہم کرتی ہیں۔ ان کی تباہی سے پورا غذائی سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گرم پانی میں غذائی اجزا کی فراہمی اور سمندری جانداروں کی نقل مکانی میں تبدیلیاں مچھلیوں کی آبادی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
کہیں خشک سالی، کہیں سیلاب اور کہیں آگ
ال نینو کے اثرات زمین پر شدید نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث پانی کی قلت، فصلوں کی تباہی اور جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انڈونیشیا جیسے علاقوں میں خشک پیٹ لینڈز اور جنگلات میں آگ لگنے سے بڑے پیمانے پر دھواں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو تی ہے۔ اس سے انسانی صحت اور ماحول دونوں متاثر ہوتے ہیں۔اس کے برعکس جنوبی امریکہ کے ساحل اور مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تمام اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنگلات کی آگ سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ کرتی ہیں جبکہ پہلے سے کمزور ماحولیاتی نظام شدیدموسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں۔ تاہم ہر آفت کو صرف ال نینو سے منسوب کرنا درست نہیں؛ مقامی حالات، انسانی سرگرمیاں اور طویل مدتی عالمی حدت بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان کیلئے سبق
پاکستان میں ال نینو کے اثرات خاص طور پر مون سون، پانی کی دستیابی، زراعت اور گرمی کی شدت کے حوالے سے اہم ہو سکتے ہیں۔ ماضی کے موسمیاتی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ال نینو جنوبی ایشیا کے مون سون پر اثر انداز ہو تا ہے لیکن اس کا نتیجہ ہر مرتبہ یکساں نہیں ہوتا۔ کہیں بارشوں میں کمی ہو سکتی ہے تو کہیں مقامی موسمی نظام کے باعث شدید بارشیں بھی ہو سکتی ہیں۔اگر بارشیں کم ہوں تو پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں آب پاشی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے، زیرِ زمین پانی پر دباؤ پڑتا ہے اور گندم سمیت اہم فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو تا ہے۔ان حالات میں بروقت موسمی پیشگوئی، پانی کا محتاط استعمال، فصلوں کی منصوبہ بندی اور کسانوں کو درست معلومات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ موسمیاتی نگرانی کے نظام مضبوط کریں، خشک سالی اور سیلاب کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں، جنگلات اور آبی وسائل کی حفاظت کریں اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر سرمایہ کاری بڑھائیں۔ طویل مدت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے۔سپر ال نینو ایک قدرتی رجحان ہے مگر اس کے ممکنہ نقصانات کا پیمانہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ انسان اور معاشرے اس کے لیے کتنے تیار ہیں۔ بروقت سائنسی معلومات، مؤثر منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذریعے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اصل چیلنج صرف ایک طاقتور موسمیاتی واقعے کا سامنا کرنا نہیں بلکہ بدلتی ہوئی آب و ہوا میں زمین کے نازک ماحولیاتی توازن کو محفوظ رکھنا ہے۔