ٹی 20ورلڈکپ: 5عمر رسیدہ کھلاڑی بھی ایونٹ میں شریک
عمان کے ندیم ،اٹلی کے وین میڈسن ، نیدرلینڈز کے رولوف ، افغانستان کے محمدنبی شامل
لاہور(سپورٹس ڈیسک )ٹی ٹونٹی کرکٹ کو عموماً نوجوان کھلاڑیوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے ، جہاں تیز رفتاری، جارحانہ بیٹنگ اور پھرتیلی فیلڈنگ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے تاہم ورلڈکپ 2026 میں مختلف ٹیموں میں پانچ عمررسیدہ کھلاڑی شرکت کررہے ہیں جو میدان میں آج بھی اپنی کارکردگی سے میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔عمان کے آل راؤنڈر 43سالہ محمد ندیم سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی ہیں جو اپنے وسیع تجربے کے باعث ٹیم کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔محمد ندیم اب تک 70 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں، جن میں انہوں نے 805 رنز سکور کیے اور 40 وکٹیں حاصل کیں۔ اٹلی کے کپتان 42سالہ وین میڈسن نے اب تک 7 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں، جن میں 205 رنز سکور کیے اور ان کا اوسط 34.17 رہا ہے ۔میڈسن کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ٹیم کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
نیدرلینڈز کی نمائندگی کرنیوالے 41سالہ رولوف وین ڈر مروے نے اپنے کیریئر کا آغاز جنوبی افریقہ سے کیا تھا اور اب تک 66 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں، جن میں 561 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 74 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ادھر افغانستان کے 41سالہ محمدنبی نے 2010 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھی شرکت کی تھی، جو اس میگا ایونٹ میں افغانستان کی پہلی شمولیت تھی، اور بعد ازاں وہ افغان ٹیم کے کپتان بھی رہے ۔ انہوں نے اب تک 147 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں، جن میں 2430 رنز سکور کرنے کے ساتھ ساتھ 104 وکٹیں بھی حاصل کیں ، زمبابوے کے بیٹر ب40سالہ رینڈن ٹیلر نے آئی سی سی کی اینٹی کرپشن پالیسی کے تحت معطلی ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر اپنے ملک کی نمائندگی شروع کر دی ہے ۔ برینڈن ٹیلر اب تک زمبابوے کی جانب سے 58 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں، جن میں انہوں نے 1185 رنز بنائے اور ان کا اوسط 23.70 رہا ہے ۔ اس فارمیٹ میں ان کے نام ایک سنچری اور6 نصف سنچریاں درج ہیں۔