سولو ڈائننگ کیا ہے ، نوجوان اس رجحان کو کیوں اپنا رہے
لاہور(نیٹ نیوز)متحدہ عرب امارات میں خاص طور پر جین زی سے تعلق رکھنے والے نوجوان اکیلے کھانا کھانے کو کمزوری نہیں بلکہ ایک شعوری اور طاقتور انتخاب سمجھنے لگے ہیں۔جین زی کا اکیلے کھانا کھانا کسی مجبوری یا اداسی کی علامت نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے ۔
جہاں اکیلے بیٹھنا تنہائی نہیں بلکہ خود کو اہمیت دینے ، آزادی محسوس کرنے اور اپنی زندگی کا ‘مین کردار’ بننے کا احساس ہے ۔ویلنٹائن ڈے کے قریب آتے ہی سولو ڈیٹس اور اکیلے کھانے کا رجحان اس پرانے تصور کو چیلنج کر رہا ہے کہ عوامی جگہوں پر اکیلا ہونا کمزوری ہے ۔ بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ عمل تنہائی نہیں بلکہ خود اعتمادی اور خود سے جڑنے کا ایک طریقہ ہے ۔دبئی میں مقیم 26 سالہ زینب کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلی بار اپنی 24ویں سالگرہ پر اکیلے ریستوران میں کھانا کھایا۔ ان کے مطابق یہ تجربہ اداس نہیں بلکہ حوصلہ افزا تھا۔