پہلی بار زندہ بافتوں میں مائیکرو پلاسٹکس کا سراغ لگا لیا

 پہلی بار زندہ بافتوں میں مائیکرو پلاسٹکس کا سراغ لگا لیا

لندن(نیٹ نیوز)برطانیہ کی کنگسٹن یونیورسٹی لندن کے محققین نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے۔

 جس کے ذریعے زندہ جانداروں کے جسم میں موجود مائیکرو پلاسٹکس کا بغیر کسی جراحی یا جسم کو بغیر چیرے پتہ لگایا جا سکتا ہے ۔سائنسی جریدے ایڈوانسڈ سائنس میں شائع تحقیق میں زندہ چوہوں کے جسمانی ٹشوز میں عام طور پر استعمال ہونے والے کئی مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کے شواہد ملے ۔ ان میں پولی پروپلین شامل ہے جو فوڈ کنٹینرز اور کافی کے کپ بنانے میں استعمال ہوتی ہے ، جبکہ پولی ایتھلین وہ پلاسٹک ہے جو عام طور پر ایک بار استعمال ہونے والی شاپنگ بیگز میں استعمال کی جاتی ہے ۔یہ تحقیق یونیورسٹی کالج لندن میڈیسن کے ڈاکٹر سٹیفن پیٹرک کی سربراہی میں کی گئی، یہ پیشرفت مستقبل میں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ مائیکرو پلاسٹکس انسانی جسم میں کس طرح حرکت کرتے ہیں ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں