دھان کی کٹائی، بڑھتے زرعی اخراجات سے کاشتکار پریشان
کاشت سے لے کر فصل کی تیاری اور کٹائی تک اخراجات میں مسلسل اضافہ مناسب قیمت نہ ملی تو اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو جائے گا:کاشتکار
کمالیہ (نمائندہ خصوصی) کمالیہ اور گردونواح میں دھان کی فصل کی کٹائی کا آغاز ہو گیا ہے ، تاہم بڑھتے ہوئے زرعی اخراجات اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث کاشتکار شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، مزدوری اور دیگر زرعی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کاشتکاروں کے مطابق دھان کی کاشت سے لے کر فصل کی تیاری اور کٹائی تک اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بھاری سرمایہ کاری کے باوجود انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملنے کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، جبکہ فصل کی فروخت کے وقت مناسب قیمت نہ ملنے کی صورت میں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔دھان کی کٹائی شروع ہوتے ہی کسان اپنی فصل کو محفوظ طریقے سے سمیٹنے میں مصروف ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے ۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر دھان کی فصل کی مناسب قیمت نہ ملی تو ان کے لیے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی مداخل کی قیمتوں میں کمی، پیداواری اخراجات پر قابو پانے اور دھان کی فصل کا مناسب معاوضہ یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ کسانوں کو درپیش مالی مشکلات کم ہوں اور زرعی شعبے کو مستحکم بنایا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments