ہیڈ تریموں کی سرکاری الاٹمنٹوں کا معاملہ، تحقیقات کا مطالبہ
بے ضابطگیوں میں ملوث ذمہ داران کیخلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے :شہری
اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا) تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہیڈ تریموں کی سرکاری الاٹمنٹوں کی منسوخی اور مبینہ طور پر محکمہ کے اپنے ملازمین میں تقسیم کیے جانے کا معاملہ سامنے آگیا۔ اہل علاقہ اور شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے اور مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے ۔اس حوالے سے اہل علاقہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر اٹھارہ ہزاری کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایکسین ہیڈ تریموں کی جانب سے مبینہ طور پر بار بار اسسٹنٹ کمشنر آفس کو مراسلے ارسال کیے جا رہے ہیں کہ مختلف الاٹمنٹیں ریزرو ایریا میں واقع ہیں، لہٰذا انہیں منسوخ کیا جائے ۔درخواست میں ایک سابقہ واقعے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی ایک الاٹمنٹ کو ریزرو ایریا قرار دے کر منسوخ کروایا گیا تھا، تاہم اب مبینہ طور پر اسی جگہ پر ریزرو ایریا کی پابندی کے برعکس گندم اور چارے کی کاشت کی جا رہی ہے ۔باوثوق ذرائع کے مطابق مذکورہ الاٹمنٹ اس وقت ہیڈ تریموں کے ملازمین چودھری سرور مستری، چودھری طارق اور چودھری پرویز بیلدار کے زیر استعمال ہے ، جن کے بارے میں الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر اس الاٹمنٹ سے مستفید ہو رہے ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اب الاٹمنٹ نمبر 18 اور 19 کے خلاف بھی نوٹس جاری کروائے گئے ہیں، جس پر اہل علاقہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان الاٹمنٹوں کو بھی ریزرو ایریا کا جواز بنا کر منسوخ کرنے کے بعد مخصوص افراد کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے ، حالانکہ مذکورہ الاٹمنٹیں دھان کی فصل کی کٹائی کے بعد خالی پڑی ہیں۔اہل علاقہ نے اسسٹنٹ کمشنر اٹھارہ ہزاری اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ منسوخ شدہ الاٹمنٹ، موجودہ الاٹمنٹ نمبر 18 اور 19 کے ریکارڈ، ریزرو ایریا کی اصل حدود اور الاٹمنٹوں کی ممکنہ منتقلی کی مکمل چھان بین کروائی جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments