سر کاری ہسپتالوں، بس اڈوں کی کینٹینوں پر اشیا مہنگی

 سر کاری ہسپتالوں، بس اڈوں کی کینٹینوں پر اشیا مہنگی

کینٹینوں کے ٹھیکے ٹینڈر اور بولی کے ذریعے کروڑوں روپے میں دئیے جاتے

فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)سرکاری ہسپتالو ں، بس اڈوں، موٹرویز اور ایئرپورٹ کی کینٹینوں کے مہنگے سرکاری ٹھیکے عوام پر اضافی مالی بوجھ بن گئے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان مقامات پر مہنگی اشیا فروخت کرنے کے بجائے حکومت سبسڈی فراہم کرے تاکہ عام لوگوں کو ریلیف مل سکے ۔ بس اڈوں اور سرکاری ہسپتالوں کی کینٹینوں کے ٹھیکے ٹینڈر اور بولی کے ذریعے کروڑوں روپے میں دیے جاتے ہیں۔ ٹھیکیدار متعلقہ اداروں کو بھاری رقم ادا کرنے کے بعد اس کی وصولی کے لیے اشیائے خور و نوش دوگنی بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کینٹینوں پر ملٹی نیشنل یا رجسٹرڈ کمپنیوں کی معیاری مصنوعات کے بجائے غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ اشیا مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ کے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ اداروں کے سربراہان کی جانب سے اس صورتحال کے خلاف مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آتی۔

موٹروے کینٹینوں پر بھی اسی نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔شہریوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں، بس اڈوں اور دیگر عوامی مقامات پر مریضوں، تیمارداروں اور مسافروں کی بڑی تعداد آتی ہے ، اس لیے وہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام مارکیٹ کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہونا قابلِ تشویش ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے عوامی مقامات پر قائم کینٹینوں کو مہنگے ٹھیکوں کے بجائے سبسڈی دے اور اشیا مناسب نرخوں پر فراہم کرنے کو یقینی بنائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں