ماہی گیری کوصنعت کا درجہ دینا ناگزیر ہو چکا ،جنید انوار

ماہی گیری کوصنعت کا درجہ دینا ناگزیر ہو چکا ،جنید انوار

شعبے میں اصلاحات سے برآمدات میں اضافہ، آمدن میں بھی بہتری آئے گی درست پالیسیاں شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ بڑھا سکتی ہے ،وفاقی وزیربحری امور

کراچی(بزنس رپورٹر)وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت ماہی گیری کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ماہی گیری کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں کے حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ماہی گیری کے شعبے میں اصلاحات سے نہ صرف برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ قومی آمدن میں بھی بہتری آئے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماہی گیری کو محض ایک روایتی پیشہ سمجھنے کے بجائے اسے صنعت کا درجہ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

ماہی گیری کی ترقی کیلئے توانائی کی بلا تعطل فراہمی بنیادی شرط ہے کیونکہ فش پروسیسنگ یونٹس، کولڈ چین اور برآمدی سرگرمیاں مسلسل بجلی اور گیس کی فراہمی سے ہی ممکن ہیں۔جنید انوار چوہدری کے مطابق اس وقت ملک میں 100 سے زائد فش پروسیسنگ یونٹس فعال ہیں جو ملکی اور عالمی منڈیوں کیلئے فش مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔ فش اور سی فوڈ مصنوعات پاکستان کی ٹاپ ٹین برآمدات میں شامل ہیں اور پاکستانی سی فوڈ اس وقت 40 سے زائد ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے ۔ان کے مطابق ماہی گیری کا شعبہ ملکی جی ڈی پی میں تقریباً ایک فیصد حصہ ڈال رہا ہے ، تاہم درست پالیسیوں اور اصلاحات کے ذریعے اس حصے کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں