لاڑکانہ:قاضی فضل اللہ پارک پرقبضے کے خلاف وکلا کا دھرنا
سول سوسائٹی، شہری بھی احتجاج میں شامل، ضلعی انتظامیہ کیخلاف نعرے بازینئے اسپتال کی آڑمیں پارک کی زمین پر دکانیں بنانے کا منصوبہ بنایا گیا، اطہر عباس
لاڑکانہ(بیورورپورٹ)لاڑکانہ شہر کے گھنٹی پھاٹک کے علاقے میں قائم قدیمی قاضی فضل اﷲپارک کے اندر مبینہ طور پر تعمیراتی کام شروع کرکے پارک پر قبضے کے خلاف وکلا نے سول سوسائٹی اور شہریوں کے ساتھ مل کر گھنٹی پھاٹک روڈ پر احتجاجی کیمپ قائم کرکے دھرنا دیا۔ اس موقع پر دانشوروں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی، اس موقع پر سندھ بار کونسل کے رکن وکیل اطہر عباس سولنگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ جاوید بلیدی، سابق صدر ایڈووکیٹ رفیق احمد ابڑو، ایڈووکیٹ ساجد مہیسر، ایڈووکیٹ مجاہد جتوئی اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن سچل ٹاؤن کے چیئرمین کی ملی بھگت سے لاڑکانہ میں بننے والے نئے 600 بستروں پر مشتمل اسپتال کی آڑ میں قاضی فضل اﷲپارک میں دکانیں بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور رات کی تاریکی میں پارک کے اندر کھدائی بھی کی گئی ہے ، جس سے لاڑکانہ کے شہریوں کو تفریحی مقام سے محروم کیا جا رہا ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر قاضی فضل اﷲ پارک میں تعمیراتی کام بند کرا کے شہریوں میں پائی جانے والی بے چینی ختم کی جائے ، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کرکے تحریک چلائی جائے گی، دوسری جانب وکلا کے احتجاج کے بعد اسپتال کے پی آر او نے ایک نجی کمپنی کو خط لکھ کر تعمیراتی کام بند کرنے اور سامان دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔