ضلعی عدلیہ کی بہتری کیلئے فنڈز مختص کیے جائیں،ضیاء اعوان
اہم تبدیلیوں کے باجود اصلاحاتی عمل سست ، جوڈیشل کمپلیکس کا قیام ناگزیر بغیر منصوبہ بندی ہزاروں کیسز کی منتقلی سے غیر معمولی بوجھ پڑا ،پریس کانفرنس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ کے وکیل اور سماجی رہنما ضیاء اعوان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سندھ بجٹ میں انصاف تک رسائی کے نظام اور کراچی کی ضلعی عدلیہ کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کیلئے واضح اور قابلِ عمل فنڈز مختص کیے جائیں ۔ سٹی کورٹ کراچی میں سینئر وکلا ندیم شیخ، سلیم مائیکل اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ضیا اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ضلعی عدلیہ کے اصلاحاتی ایجنڈے اور انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے طویل عرصے سے عدالتی کارروائیاں، اسٹیک ہولڈر مشاورت اور حکومتی وعدے موجود ہیں، تاہم عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے ،اس دوران اہم ادارہ جاتی تبدیلیاں بھی ہوئیں،ان تبدیلیوں کے باوجود اصلاحاتی عمل سست روی کا شکار رہا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور عدلیہ کی جانب سے بغیر مناسب منصوبہ بندی کے سندھ ہائی کورٹ سے ضلعی عدالتوں کو تقریباً 28 ہزار کیسز منتقل کیے گئے جس سے نچلی عدالتوں پر غیر معمولی بوجھ پڑا ۔ اجلاسوں، رپورٹس اور سفارشات کے باوجود اصلاحاتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا اور وکلا، سائلین، عدالتی عملہ اور عوامی مشکلات جوں کی توں برقرار ہیں۔ ان کے مطابق صرف ظاہری یا جزوی بہتری کی گئی جبکہ بنیادی مسائل جیسے انفرااسٹرکچر، سکیورٹی، پارکنگ، صفائی، رسائی اور انتظامی مسائل حل نہیں کیے گئے ۔ ضیاء اعوان نے کہا کہ کراچی میں جوڈیشل کمپلیکس کا قیام ناگزیر ہے جبکہ موجودہ عدالتوں کی عمارتوں کی بحالی، جدید سہولیات، لفٹس، ریمپس، پارکنگ، سکیورٹی اور ایمرجنسی سہولیات کی فراہمی بھی ضروری ہے ۔