نقیب اللہ قتل کیس ، ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری

نقیب اللہ قتل کیس ، ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری

استغاثہ سات ملزمان کے خلاف براہ راست عینی شہادت پیش نہیں کرسکامغوی گواہان نے عدالت میں ملزمان کو اغوا کاروں کے طور پر شناخت نہیں کیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر)انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ موجودہ سات ملزمان کے خلاف براہ راست عینی شہادت پیش نہیں کرسکا، اہم مغوی گواہان نے عدالت میں موجود ملزمان کو اغوا کاروں کے طور پر شناخت نہیں کیا جبکہ دونوں گواہان کی جانب سے تاوان کی رقم کے مطالبے یا ادائیگی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ ملزمان کی وکیل فرزانہ متین نے حتمی دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ ملزمان کے خلاف 40 سے زائد گواہوں میں سے ایک بھی گواہ نے براہ راست الزام عائد نہیں کیا، پراسیکیوشن کے شواہد میں واضح تضادات ہیں، ملزمان کے خلاف نقیب اللہ کے اغوا میں شرکت بھی ثابت نہیں ہوئی اور مبینہ جعلی مقابلے میں ان کا کردار بھی ثابت کرنے میں استغاثہ ناکام رہا۔

فرزانہ متین نے مزید کہا کہ مقدمے کے پہلے مرحلے میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار سمیت متعدد ملزمان کو بھی شواہد کی بنیاد پر بری کیا جاچکا ہے ، لہٰذا موجودہ ملزمان بھی بریت کے حقدار ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس حراست میں ملزمان کے مبینہ اعترافی بیانات بھی تفتیشی افسر کے سامنے دیے جانے کی بنیاد پر قابل اعتماد قانونی شہادت نہیں، قانون کے تحت پولیس افسر کے سامنے اعتراف جرم قابل قبول نہیں ہوتے ۔ تفصیلی فیصلے کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے اہم گواہان کی شہادت ملزمان کو جرائم سے جوڑنے کے لیے کافی نہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...