طلبہ یونینز پر پابندی سے نئی نسل فکری بحران کا شکار
نوابزادہ افتخار احمد کاتعلیمی و سماجی بگاڑ پر اظہارتشویش، اصلاحی تبدیلی پر زور
مونڈکا (نامہ نگار)پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے ممبر قومی اسمبلی حلقہ این اے 176 نوابزادہ افتخار احمد خان نے کہا ہے کہ تین دہائیوں سے طلبہ یونینز پر پابندی کے باعث نئی نسل شدید فکری، تعلیمی اور سماجی بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔ اپنے ایک تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران ملک میں تقریباً چودہ کروڑ افراد پیدا ہوئے ، مگر ان میں سے اکثریت نے طلبہ یونینز کی عملی شکل نہیں دیکھی، جس کے باعث نوجوانوں کی فکری تربیت کا عمل متاثر ہوا۔نوابزادہ افتخار احمد خان نے کہا کہ یہ نسل تاریخ، اردو کے نصاب اور اسلامیات کی بنیادی تعلیم سے نابلد ہے اور جغرافیہ جیسے اہم مضمون سے بھی خاطر خواہ آگاہی نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ فکری تربیت کے فقدان کے باعث نوجوان نسل تاریخی شخصیات اور قومی رہنماؤں کو محض سنی سنائی باتوں اور سوشل میڈیا بیانیے کی بنیاد پر جانچتی ہے ، جو ایک سنجیدہ المیہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ نوجوان نسل گھریلو اور دینی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے اور ایک مادر پدر آزاد معاشرہ چاہتی ہے ۔انہوں نے زور دیا کہ ملک میں ایسی مثبت اور تعمیری تبدیلی آنی چاہیے جو نوجوانوں کو راہ راست پر لائے ، فکری تربیت کو فروغ دے اور طلبہ یونینز جیسے جمہوری فورمز کی بحالی کے ذریعے نئی نسل کو شعور اور ذمہ داری کا احساس دلایا جا سکے ۔