چارہ کاٹتے ٹوکے سے سالانہ 500افراد معذوری کاشکار

چارہ کاٹتے ٹوکے سے سالانہ 500افراد معذوری کاشکار

چارہ کاٹتے ٹوکے سے سالانہ 500افراد معذوری کاشکارٹوکہ استعمال کی ٹریننگ دیں،بحالی معذوراں پروگرام بنایاجائے ،ڈاکٹر سکندر۔۔۔۔

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھاسمیت ڈویژن بھر میں سالانہ اوسطاً500 سے زائد افراد چارہ کاٹنے والے ٹوکے کی وجہ سے اپاہج ہو رہے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر پنجاب کا تمام ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تو تعداد ہزاروں میں بنتی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ گورنمنٹ کی عدم توجہ ہے کہ انہوں نے ٹوکہ اندسٹری کو بے لگا م چھوڑا ہوا ہے ۔ جبکہ اس انڈسٹری کو چیک کرنے کا بھی کوئی نظام نہیں ہے ،گزشتہ سال بھی ٹوکہ انجری کی وجہ سے سینکڑوں افراد جن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں ہاتھوں سے معذور ہو ئے ،دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے حادثات کا شکار افرادکی اکثریت سماجی و معاشی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے اور اکثر بچیوں کی ساری عمر شادی نہیں ہو سکتی،اس حوالے سے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر زکی جانب سے پہلی دفعہ اس سماجی مسئلہ پر ریسرچ کی گئی جس کے مطابق حکومت کا ایک مریض کے علاج معالجہ پر اوسطاً 50 ہزار سے زائد خرچہ آتا ہے ۔ اس حوالے سے پی ایم اے سرگودھا کے صدر ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ کا کہنا ہے کہ چارہ کاٹنے والی مشین کے حفاظتی اقدامات پورے کئے جائیں اور ٹوکہ استعمال کرنے والے لوگوں کی ٹریننگ کروائی جائے جن کے ہاتھ کٹ چکے ہیں ان کے لئے بحالی معذوراں پروگرام ترتیب دیا جائے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں