محکمہ جنگلات کی مبینہ ملی بھگت درختوں کا صفایا

محکمہ جنگلات کی مبینہ ملی بھگت درختوں کا صفایا

پرائیویٹ افراد کی ملی بھگت سے سرکاری درخت کٹوا کر اونے پونے داموں فروخت کرنے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف چوری کے مقدمات درج کروانا معمول بن گیا بھلوال صدر میں ترقیاتی منصوبہ کی آڑ میں ٹھیکیدار کی جانب سے غیر قانونی طور پر کاٹ کرغائب کئے جانیوالے ایک کروڑ کے سرکاری درختوں کا معمہ بھی حل نہیں ہو سکا

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں محکمہ سیم ،انہار اور جنگلات کی مبینہ ملی بھگت کے ساتھ درختوں کا بے دریغ صفایا اور وسیع پیمانے پر چوری اور حالیہ آندھی طوفان کی آڑ میں بھی تنو مند درختوں کے صفایا کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں پرائیویٹ افراد کی ملی بھگت سے سرکاری درخت کٹوا کر اونے پونے داموں فروخت کرنے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف چوری کے مقدمات درج کروانا معمول بنا ہوا ہے ،،بھلوال صدراور سٹی جبکہ ساہی وال، شاہ پور سمیت مختلف علاقوں میں رجسٹرڈ ہونیوالے دس سے زائد کیسز کے مطابق اب تک لاکھوں روپے کی سرکاری لکڑی غائب ہو چکی ہے مگر اس حوالے سے کوئی موثر حکمت عملی نہیں اپنائی جا رہی ہے ، اور دو ماہ قبل بھلوال صدر میں ایک ترقیاتی منصوبہ کی آڑ میں ٹھیکیدار کی جانب سے غیر قانونی طور پر کاٹ کرغائب کئے جانیوالے ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کے سرکاری درختوں کا معمہ بھی حل نہیں ہو سکا جبکہ اس حوالے سے مقدمہ میں محکمہ کے افسران کو بھی نامزد کیا گیا ہے ،اور سیکرٹری جنگلات تک کے علم میں ہونے کے باوجود معاملات کو دبا نے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے ،دوسری جانب حالیہ طوفانی بارشوں کے دوران گرنے والے خستہ حال درختوں کی آڑ میں متذکرہ علاقوں کے سرکاری جنگلات اور نہر کی پٹڑیوں و شاہراؤں کے اطراف سے صحت مند ،تنو درخت کاٹ کر فروخت کر نے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں