گیلن مافیا نے شہریوں کی مجبوری کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا

گیلن مافیا نے شہریوں کی مجبوری کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا

گیلن مافیا نے شہریوں کی مجبوری کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا پانی چوری کرکے شہر میں مہنگے داموں فروخت کیے جانے کا انکشاف

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) گرمی اور حبس کے موسم میں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر مبینہ طور پر گیلن مافیا نے شہریوں کی مجبوری کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا،میونسپل کارپوریشن کی سرکاری واٹر سپلائیوں سے مبینہ طور پر روزانہ ہزاروں گیلن پانی لوڈ رکشوں کے ذریعے چوری کرکے شہر کے مختلف علاقوں میں مہنگے داموں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ شہریوں کا الزام ہے کہ غیر قانونی پانی کی فروخت کے اس دھندے کو روکنے کے بجائے متعلقہ ادارے کا نچلا عملہ مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ،ذرائع کے مطابق موسم کی شدت کے باعث شہر میں پینے کے صاف پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر نے گیلنوں میں پانی کی فروخت کا منظم کاروبار شروع کر رکھا ہے ۔ مبینہ طور پر مختلف مقامات پر لوڈ رکشوں کے ذریعے سرکاری واٹر سپلائی سکیموں سے پانی بھرا جاتا ہے اور بعد ازاں یہی پانی شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو منہ مانگے داموں فروخت کیا جاتا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کی مبینہ چوری اس وقت بھی جاری رہتی ہے جب واٹر سپلائیوں سکیموں کے آپریٹرز اور دیگر متعلقہ عملہ موجود ہوتا ہے ۔ مبینہ طور پر لوڈ رکشوں کو پانی بھرنے سے روکنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی، جس سے سرکاری پانی کی وسیع پیمانے پر چوری کا سلسلہ جاری ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف انہیں شدید گرمی میں پینے کے پانی کی قلت اور مہنگائی کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب سرکاری وسائل سے فراہم کیے جانے والے پانی کو مبینہ طور پر چوری کرکے دوبارہ انہی شہریوں کو فروخت کیا جا رہا ہے ۔ شہریوں کے مطابق بعض مقامات پر ناقص معیار کے پانی کی فروخت کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے نہ صرف عوام کی جیب پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے بلکہ صحت کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...