قبروں کی فروخت کا سلسلہ جاری، گورکن مافیا سرگرم
قبروں کی فروخت کا سلسلہ جاری، گورکن مافیا سرگرممختلف علاقوں میں 30 سے 50 ہزار روپے میں ایک قبر فروخت کی جاتی ہے
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر) ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث شہری حدود کے بعد اب دیہی علاقوں میں موجود قبرستانوں میں بھی قبروں کی فروخت کا سلسلہ نہ رک سکا۔ مختلف علاقوں میں 30 سے 50 ہزار روپے میں ایک قبر فروخت کی جاتی ہے ، جبکہ دہائیوں پرانی قبروں سے باقیات نکال کر نئی قبریں بنائے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث شہروں کے بعد اب دیہی علاقوں میں بھی گورکن مافیا زور پکڑ چکا ہے ۔ دیہی علاقوں میں موجود قبرستانوں میں بھی پیسے دیے بغیر قبر کی جگہ کا حصول ناممکن ہوتا جا رہا ہے ۔ متعدد دیہات میں قبر کی جگہ کے لیے 20 سے 40 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ قبرستانوں میں قبضہ مافیا نے بھی پنجے گاڑ رکھے ہیں اور قبرستانوں کے اندر قبضہ مافیا کی جانب سے پختہ تعمیرات بھی کی گئی ہیں۔
بااثر افراد کی جانب سے قبل از وقت ہی متعدد قبروں کی جگہیں اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی قبروں کے لیے مختص کر لی گئی ہیں، جس کی وجہ سے اب دیہی علاقوں میں موجود قبرستانوں میں بھی فوت شدگان کی تدفین ایک مشکل کام بن چکی ہے ۔دیہی عوام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل تو شہروں کے قبرستانوں میں ہی پیسے ادا کرنے پڑتے تھے ، لیکن اب یہ سلسلہ دیہات تک بھی پہنچ چکا ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں اپنے پیاروں کی تدفین بھی پیسوں کے بغیر نہیں کر سکتے ۔ اگر کوئی غریب فوت ہو جائے تو اس کے اہلِ خانہ کو میت گھر میں رکھ کر پہلے تدفین کے لیے پیسے ادھار لینے پڑتے ہیں، اس کے بعد ہی قبر کی جگہ مل سکتی ہے ۔دیہی عوام کا کہنا ہے کہ بااثر افراد کی جانب سے قبل از وقت ہی متعدد قبروں کی جگہوں پر قبضہ جما لیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اس جگہ پر اپنے پیارے کو دفن کرنے کی کوشش کرے تو لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں، مگر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس سنگین مسئلے پر توجہ دینے کو ہی تیار نہیں ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments