پنجاب اسمبلی ، حکومتی ترمیمی بلز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد
سرکاری ملازمین سے متعلق بل میں موجود ابہام دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے کوڈ آف کریمینل پروسیجر میں اپیل کیلئے منظوری کا اختیار حکومت سے لینے کی تجویز
لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب حکومت کی جانب سے اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پیش کردہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی، نظم و ضبط اور احتساب کا(ترمیمی)بل 2025ء،کوڈ آف کریمینل پروسیجر(ترمیمی)بل 2025ء اور مجرمانہ استغاثہ سروس ترمیمی بل 2025دو ماہ کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کئے جا چکے ،کمیٹیوں سے منظوری کے بعد بل پنجاب اسمبلی سے منظور کروائے جائیں گے ،حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے ۔پیش کر دہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی، نظم و ضبط اور احتساب (ترمیمی)بل کے متن کے مطابق ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازم کے خلاف محکمانہ کارروائی دو سال کے اندر مکمل کرنا لازم ہو گا،تاہم اگر مقررہ مدت میں کارروائی مکمل نہ ہو سکے تو ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر وقت میں توسیع کی جا سکے گی۔بل میں کہا گیا ہے کہ وقت کا تعین عدالتی اور انتظامی مقدمات کو بروقت نمٹانے کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ترمیمی بل کے ذریعے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد کارروائی سے متعلق موجود ابہام کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
بل میں ریٹائرمنٹ کے بعد محکمانہ انکوائری کے دائرہ کار کو واضح کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کے احتساب سے متعلق شقوں کو بھی مزید واضح اور مؤثر بنایا گیا ہے ۔علاوہ ازیں فوجداری قانون میں اہم ترامیم کیلئے پیش کوڈ آف کریمینل پروسیجر (ترمیمی)بل کا مقصد مجرموں کی بریت کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے طریقہ کار کو آسان اور مؤثر بنانا ہے ۔ متن کے مطابق کوڈ آفکریمینل پروسیجر 1898 ئمیں ترامیم تجویز کی گئی ہیں، جن کے تحت فوجداری مقدمات میں اپیل دائر کرنے کے عمل کو مزید تیز اور سادہ بنایا جائے گا۔مجوزہ ترمیم کے تحت اپیل دائر کرنے کے لیے منظوری کا اختیار حکومت سے لے کر سیکرٹری پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ مجوزہ ترامیم کے بعد پبلک پراسیکیوٹر براہِ راست سیکرٹری پبلک پراسیکیوشن کو اپیل دائر کرنے کی منظوری کے لیے درخواست دیں گے ۔ مجوزہ قانون سازی سے جرائم کے مقدمات میں اپیل کا عمل مزید مؤثر اور آسان ہو جائے گا ۔