پنجاب:گندم خریداری ہدف 30 لاکھ میٹرک ٹن،نوٹیفکیشن جاری
قیمت 3500 روپے من مقرر ،خریداری منتخب سٹیک ہولڈرز کے ذریعے ہوگی سرکاری گودام بلا معاوضہ ملیں گے ،ذخائر کا انتظام خریدار بینکوں کے ذریعے کیا جائیگا
لاہور (عمران اکبر)حکومت پنجاب نے گندم پالیسی 2026 کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔ اس میں کسانوں کو بروقت ادائیگی اور گندم کے سٹرا ٹیجک ذخائر کیلئے نیا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے ۔ حکومت پنجاب نے پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے گندم کی خریداری 25 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ میٹرک ٹن کرنے کی اجازت دے دی ہے ،نوٹیفکیشن کے مطابق رواں سال نئی گندم کی خریداری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے ۔ حکومت پنجاب سٹراٹیجک گندم ذخائر کے لیے 25 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم خریدے گی، تاہم یہ خریداری براہِ راست سرکاری اداروں کے بجائے منتخب سٹیک ہولڈرز کے ذریعے کی جائے گی۔پالیسی کے تحت گندم ذخائر کا انتظام خریدار بینکوں کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ ڈی جی فوڈ، ایگریکلچر اور متعلقہ بینک کے مابین سہ فریقی معاہدہ طے پائے گا۔ حکومت پنجاب فنانسنگ لاگت کا 70 فیصد حصہ خود برداشت کرے گی، جبکہ منتخب سٹیک ہولڈرز کو سرکاری گودام بلا معاوضہ فراہم کیے جائیں گے ۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کسان کو گندم کی مکمل قیمت یعنی 3500 روپے فی من کا سو فیصد معاوضہ موقع پر ہی ادا کیا جائے گا، تاکہ کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔پالیسی کے مطابق 2025 میں گندم کی قیمت اوپن مارکیٹ کے برابر رکھی گئی تھی، جبکہ 2026 کی پالیسی کا مقصد گندم کی ذخیرہ اندوزی کو بہتر بنانا اور کسان دوست اقدامات کو یقینی بنانا ہے ۔ حکومت کے مطابق نئی گندم پالیسی سے کسانوں کو تحفظ، ذخائر میں بہتری اور گندم کی سپلائی کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔